طاہر عدیم صاحبؔ کے شعری مجموعے’’بامِ بقاء‘‘سے منتخب اشعار

طاہر عدیم صاحبؔ کے شعری مجموعے’’بامِ بقاء‘‘سے منتخب اشعار

انتخاب: عبداللہ نعیم رسول

مری فنا نے ترے حسن کو بقاء دی ہے
میں بن کے وجہِ کشش تیرے خدوخال میں ہوں

کچھ بھی سفر میں، رختِ سفر میں نہیں رہا
منظر ہی جب وہ دیدۂ تر میں نہیں رہا

یوں بھی تقسیمِ وفا ہوتی تھی

ُؔ ُُآپ کے لعل،ہمارے پتھر

تیرے رنگوں سے قلم رنگ کے کاڑھی ہے غزل
تجربے یہ مِرے فنکار کہاں تھے پہلے

کل تک نہ تھے جو جسم سَروں تک سے شناسا
صد حیف، وہی آج کلہ دار، مِرے یار

میں نے جب خود کو درِ ذات سے باہر پھینکا
جو بھی باہر تھا وہ سب کچھ مِرے اندر اُترا

جس کی دستک پہ ہر اِک دور میں قدغن سی لگی
بیٹھ کر موجۂ رفتار پہ گھر گھر اُترا

میں طشتِ محبت میں سجائے ہوئے نکلا
کوئی بھی وفاؤں کا خریدار نہیں تھا

حرکتِ نبضِ وقت رک جائے
وہ جو ہوجائے لمحہ بھر خاموش

رُخِ آفات مِری سمت جو ہوتا تھا کبھی
اپنے سِینے کو وہ دیوار کیا کرتا تھا

کون محشر کی راہ اب دیکھیں
جب کہ ہر قریۂ زمیں ہے آگ

اور بھی شورشِ ہجراں کے تقاضے ہیں یہاں
صرف آنکھوں کو نہیں یار بھگونا کافی

جس کو دیکھے تو سوا نیزے پہ ٹھہرے آفتاب
اُس قیامت قامتِ خوبانِ فن کی بات کر

کس کی سماعتوں میں بھریں دِل کی دھڑکنیں
ہر شخص حسنِ زر کا پرستار، کیا کریں

ٹپکا ہے زہر زہر زمانہ درونِ فکر
کڑوے سے ہو گئے مِرے اشعار، کیا کریں

پھر سکوتِ سطحِ سینہ پر نیا کنکر پڑا
پھر بنے دریائے دل میں انتہا کے دائرے

شبِ غم کاٹنا ہے اُس کی یادوں کے سہاروں پر
اور اُس کے سامنے جا کر ہمیں انجان ہونا ہے

وقت بتلائے گا کبھی صاحبؔ
کون میٹھا ہے؟ کون کھارا ہے؟

الہٰی خیر!لپکتی ہیں بجلیاں ہر سُو
یہ ’’اہتمام‘‘ہے پھر کس کے آشیاں کے لیے

ہر ایک عہد میں ہیروں کے وہ کنی ٹھہرے
وہ سر ہمیش جو زیبائشِ انی ٹھہرے

کنارِ دل،کبھی ابلیس بھی اترتا ہے
ملائکہ کا بھی خود پر نزول رکھتا ہوں

اس سے بڑھ کے بھلا عبرت کی علامت کیا ہے
شہر کے شہر ہیں ویران،سلامت کیا ہے

ایسے ہی ڈوب کر تو اُبھرتا نہیں ہوں میں
رکھتا ہے یاد کوئی تو افلاک سے پرے

beautiful-2-line-shayari

بارش تیز ہَوا طوفان میں گِھر کے بیٹھے ہیں
وقت کی نازک سی ٹہنی پر دو پنچھی حیران

یاس کی تاریکیوں میں آس کے جگنو بھی ہیں
تُو کبھی دُنیائے دِل کی تیرگی پر غور کر

اِس بھری دنیا میں صاحبؔ اَن گنت شہکار ہیں
شہر میں چلتے ہوئے ہر آدمی پر غور کر

سطحِ قرطاس دیکھنے والو!
اصل اندر پیام ہوتا ہے

ہم نے برسوں تِری یادوں کے بھی چلّے کاٹے
سخت جاں ہجر کے آسیب،نکالے نہ گئے

ایک دنیا مِری آباد تِری ذات سے ہے
ہو سکا میں نہ کسی کا جو تمہارا نہ ہوا

کل رات نیند ٹھیک سے آئی نہیں ہمیں
کل رات ہم سے دست و گریباں ہوئے ہیں خواب

میں آسماں کے عذاب میں ہوں
وہ جب سے زیرِ زمیں گیا ہے

اب اُس کے ساتھ وہ پہلی سی گفتگو نہ رہی
لدی جو شاخ تھی پھولوں سے،مشکبو نہ رہی

بن کے جھومر تِرے ماتھے پہ ہمیں تھے جھومے
اور پھر ہم ہی تِرے ماتھے کا بل بھی ٹھہرے

یہ سچ کہ بہت دُور وہ منزل کا نشاں ہے
گھائل ہے بدن پھر بھی مِرا عزم جواں ہے

اک یاس کا صحرا ہے کہ پھیلا ہوا ہر سُو
اک آس کا دریا ہے کہ ہر سمت رواں ہے

جس دشت میں تاریخ لکھی خون سے ہم نے
سنتے ہیں کہ وہ دشت گُلابوں کا جہاں ہے

تِری بات جیسے رواں رگوں میں نئی رتوں کے ہوں ذائقے
تِرے لفظ جیسے حسیں حسیں کئی سیپیاں تہہِ آب ہوں

پھر چڑھائے گا نئی چادر مِرے موضوع پر
پھر کِیا ہے گرم اُس نے کارزارِ گفتگو

سوچ کر تشبیہ دینا پُھول سے اُس کو عدیم
دِل کے بخیئے کھول دیں نہ اُس کے خارِ گفتگو

اُس کے سجنے پہ سجانا ہے لبوں پر غزلیں
جانے کیوں اُس کے بگڑنے پہ بگڑنا ہے مجھے

میں سمجھتا تھا وفا میں اُس کو قائل کر گیا
ایک خوش فہمی تھی جس میں خود کو زائل کر گیا

فلک کو دیکھوں تو ڈر ہے زمیں کے چھننے کا
زمیں کو دیکھوں تو ڈرتا ہوں،آسماں نہ رہے

قبولیت سے ہمیں تھے گریز پا ورنہ
وصالِ یار کے لمحے کہاں کہاں نہ رہے

اشک پلکوں سے باندھ رکھا ہے
گِر کے پیغام ہو نہ جائے کہیں

اُس کے ماتھے کا بل گیا یارو
ایک طوفان ٹل گیا یارو

وہ سجاتا گیا سراپے کو
میں سجاتا گیا غزل یارو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *