Bazm-E-Shanasaai Bain-Ul-Aqwami Sauti Mushaira

Bazm-E-Shanasaai Bain-Ul-Aqwami Sauti Mushaaira

بزم شناسائی بین الاقوامی صوتی مشاعرہ

رپورٹ ::ڈاکٹر حناء امبرین

انٹرنیشنل ادبی گروپ کے زیرِ اہتمام ایک منفرد علمی صوتی مشاعرہ تمام عالمی واٹس ایپ­ اور فیس بک کے ادبی گروپس اپنی اپنی طور پر ادب کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں لیکن یہ بیسٹ اردو پوئٹری گروپ ایک ایسا گروپ ہے جو اپنی نوعیت کا پہلا گروپ ہے جس میں ادب کے حوالے سے ایک امتیازی خصوصیت کا حامل ہے کہ گروپ ھذا میں مختلف قسم کے مشاعرے منعقد ہوتے رہتے ہیں جو کسی گروپ میں نظر نہیں آتے اسی سلسلے کی کڑی 18 فروری 2017 بروز ہفتہ شام 7 بجے سے 10 بجے پاکستانی وقت کے مطابق بیسٹ اردو پوئٹری انٹرنیشنل ادبی گروپ ک­ے زیر اہتمام ایک منفرد اور عظیم الشان­ پروگرام بنام بزم شناسائی بین الاقوامی صوتی مشاعرہمنعقد کیا گیا جس کی تمام حضرات نے بڑی پزیرائی فرمائی

اس مشاعرے میں کل ۱۳ شعراء نے اپنے مختصر تعارف اور پانچ پانچ اشعار کے ساتھ شرکت فرمائی یہ ایک انتہائی منفرد نوعیت کا پروگرام ثابت ہوا جس میں شرکاء و سامعین ابتدا سے لے کر اختتام تک مکمل دلچسپی کے ساتھ شریک رہے اور محظوظ ہوتے رہے۔

پروگرام کی قیادت جناب توصیف ترنل صاحب نے کی جو اس ادبی گروپ کے بانی و مہتمم ہیں۔ جناب توصیف ترنل صاحب کو اللہ نے وہ صلاحیت ودیعت فرمائی ہے کہ وہ آۓ دن نت نئے خیالات اور دلچسپ پروگرامز لے کر سامنے آتے ہیں اور ان کو کامیابی سے ہمکنار بھی کراتے ہیں۔ “بزمِ شناسائی بین الاقوامی صوتی مشاعرے ” کی کامیابی کا سہراہ بھی ان ہی کے سر جاتا ہے۔

best urdu poetry members

مسند صدارت پر محترم شہزاد نئر صاحب پاکستان سے تشریف فرما رہے ۔ یہ ایک خوبصورت لب و لہجے کے مشہور شاعر ہیں اور مشاعرے میں ان کاتعارف اور کلام بھی شامل ہوا۔ وہ مشاعرے کے آغاز سے لے کر اختتام تک تمام شعراء کو داد و تحسین سے نوازتے رہے اور حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔

نظامت کے فرائض جناب توصیف ترنل صاحب اور جواں سال جدید لب و لہجہ کے شاعر جناب عطا شاہکار صاحب نے بڑی خوش اسلوبی سے دئیے۔ مہمانِ خصوصی استاد محترم جناب مختار تلہری صاحب انڈیا سے تھے۔جو کے بخوبی اپنے منسب کو نبھاتے ہوۓ مکمل پروگرام میں شامل رہے اور سب کو داد سے نوازتے رہے۔

اس مشاعرے کے مہمانانِ اعزاز جناب ڈاکٹر ساجد شاہجہاں پوری صاحب انڈیاسے، جناب شفاعت فہیم صاحب انڈیا سے، جناب آفتاب ترابی صاحب جدہ سے ، جناب عبدالرزاق ایزد صاحب لاہور پاکستان سے اور جناب وقار وامق صاحب ریاض سعودی عرب سے تھے۔ مشاعرے کا آغاز حسب معمول حمدیہ کلام سے کیا گیا ۔ بعد-حمد نعت-رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شرکائے محفل کو مسرور و محظوظ کیا گیا

جن شعراء حضرات کا تعارف اور کلام اس انفرادی نوعیت کے آن لائن مشاعرے میں پیش کیا گیا ان کے نام ہیں محترم بشیر مہتاب ­صاحب، محترم وصال خان صاحب، محترم جعفر عباس بڑھانوی صاحب ، محترم عمر تنہا صاحب ، محترمہ عظمی شہزادی صاحبہ ، محترم امین اڈیرائی ­صاحب ، محترم شوزیب کاشر صا­حب ، محترم اسلم بنارسی ص­احب ، محترم ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب، محترمہ ڈاکٹر حناءامبرین صاحبہ ، محترم ذوالفقار نقو­ی صاحب ،محترم مختار تلہری صاحب محترم شہزاد نیر صاحب.

پروگرام کا آغاحمد باری تعالٰی سے ہوا.پاکستا ن سے محترمہ شہناز مزمل صاحبہ نے خوبصورت حمد پیش کی۔
وہی واحد وہی احد ٹھہرا
حد کوئی کم تھی وہ بے حد

اس کے بعد آزاد کشمیر سے شوزیب کا شر کے نعتیہ کلام کو بہت پسند کیا گیا۔

منتخب شعر

گنجِ فیضان و عطا چشمۂ نعمت وہ ہیں
سب جہانوں کے لیے باعث رحمت وہ ہیں

بزم شناسائی میں سب سے پہلے بشیر مہتاب صاحب کا تعارف و کلام پیش ہوا۔ اسکے بعد وصال خان صاحب کا تعارف و کلام بزم میں پیش ہوا۔

منتخب شعر

جانتا کون ہے یہاں ہم کو
تیری نسبت سے لوگ ملتے ہیں

اسکے بعد محترم جعفرعباس بڑھانوی کا تعارف و کلام پیش ہوا۔

منتخب شعر

کبھی اٹھی کبھی جھکی نظر وہ کام کر گئی
تبھی سے روگ یہ لگا یہ حسن اتفاق ہے

عمر تنہا صاحب نے اپنا تعارف و کلام پیش کیا۔ عمر تنہا کا کلام ملک کے معروف ادبی پرچوں میں با قاعدگی سے چھپ رہا ھے۔ عمرتنہاایک معروف ادبی تنظیم بزمِ لطیف سے ہے۔

منتخب شعر

حفاظت ھو سکی هم سے نہ جذبوں کی نہ سوچوں کی
کبھی تحریر بیچی ھے کبھی عنوان بیچا ہے

اسکے بعد عظمی شہزادی صاحبہ کا تعارف و کلام پیش کیا گیا۔ عظمی صاحبہ کو دو زبانوں میں (انگلش اور اردو) نظمیں لکھنے کا شرف حاصل ہے۔ نثری نظمیں جومعنویت کے اعتبار سے بھرپور ہوتی ہیں۔

منتخب شعر

سانسوں سے چاہتوں کی حرارت نکال کر
ملتا ہے روز دل سے محبت نکال کر

member best urdu poetry

بعد ازاں امین اڈیرائی سندھ ،پاکستان سے مشاعرے میں شریک ہوئے۔ اب تک انکی شاعری اور کہانیوں کی کل تیرہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں اورانہیں کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔ آپ درس و تدریس سے وابسطہ ہیں انکی شاعری کا اپنا ایک جداگانہ انداز ہے جس میں اپنی مٹی کی مہک نمایاں ہے۔

منتخب اشعار

مجنوں سمجھ کےمارنےپتھرجو آ گیا
بچہ وہ تیرے شہر کا کتنا ذہین نکلا

قدموں میں کیا سے کیا نہیں رکھا گیا مگر
ہم نے تمہارے پیار کا سودا نہیں کیا

اسکےبعد شوزیب کاشر جو منفرد لب و لہجے کے شاعر ہیں شامل محفل مجں شامل ہوئے
شوزیب فاضل علوم شرعیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ماسڑرز ان انگلش بھی ہیں اردو، ،عربی اور انگریزی ادب و تاریخ کے عمیق مطالعہ نے ان کی شاعری کو وہ جازبیت بخشی ہے کہ قاری کا دل یوں موہ لے کہ داد دیے بنا نہ رہ سکے۔ غزل کے ساتھ ساتھ نعت بھی کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں . رومانویت ، جمالیات . غمِ دوراں ، غم ِ جاناں، ہجر و وصال ، روحانیت ، تصوف، فنا و بقا وغیرہ ان کے موضوعات ہیں .ان کے کلام سےچند نمونے اُجالین کےذوقِ سخن کی نذر ہیں۔

منتخب اشعار

پھر خدا سے اُلجھ پڑا ہوں کیا
اپنی حد سے نکل گیا ہوں کیا

اتنا کیا کان دھر کے سنتا ہے
میں بہت دور کی صدا ہوں کیا

اسکے بعد محترم اسلم بنارسی صاحب کا تعارف و کلام بزم شناسائی کی زینت بنا۔ ان کا کہنا ہےشاعری بساط اور دسترس کی چیز ہے، شاعری آج سے پہلے کے شعراء کو فکر، بیان، زبان پر جتنی دسترس جس جس کو تھی، انکی ویسی شاعری تھی، آج کے شعراء کو فکر ، بیان ، زبان پر جتنی دسترس ہے ویسی انکی شاعری ہے آنے والے زمانے میں بھی جس شاعر کو جیسی دسترس رہے گی، ویسی شاعری رہے گی۔

میں بھیگی آنکھ کی پتلی پہ مصرع اپنا لکھ آیا۔
اگر اب موجِ قلزم یہ سمٹتی ہے، سمٹ جائے۔

سراج الدین قریشی صاحب شامل محفل ہوئے اور ان کا تعارف و کلام بھی پیش کیا گیا ۔ ان کی قابل و اولی شخصیت اے مکمل شناسائی کے بعد جو کلام پیش ہوا اس میں سے

منتخب اشعار

اب کے فساد اتنے بھیانک تھے دوستو
امن و اماں کے بعد بھی دہشت وہی رہی

میں نے تو خوب پیار لٹایا مگر سراج
لوگوں کے دل میں بغض و عداوت وہی رہی

اسکے بعد ڈاکٹر حناء امبرین طارق جو کہ ایک کہنہ مشق قادرالکلام شاعرہ ہیں بزم شناسائی میں شامل سخن ہوئیں۔ حناء امبرین کا تعلق کراچی پاکستان سے ہے فی الوقت وہ ریاض سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ ڈاکٹر حنا امبرین صاحبہ ایک کہنہ مشق شاعرہ ہیں ان کے کلام میں روایتی رومانوی شاعری، پھول و شبنم کے ساتھ ساتھ جدت بھی موجود ہے۔ وہ روایت سے بغاوت کے روادار نہیں ۔ ان کا کلام لاہور ، کراچی اور کینیڈا کے مختلف اخبارات اور سعودی عرب کے اردو نیوز میں گاہے بگاہے منظرِ عام پر آتا رہتا ہے۔ مدینہ منورہ، ریاض، الخبر، کراچی اور کینیڈا میں مشاعروں میں شرکت کر چکی ہیں۔ ان کے کلام میں انقلابیت بھی نمایاں ہے۔ اور اندازِ بیاں مضبوط ہے۔

منتخب اشعار

تو جاؤں کہاں اس گلی سے جو نکلوں
کہیں بھی رکوں میں اسی کی لگن ہے

اب یہاں بکنے لگا ہر خواب ہے
میری بھی آنکھوں کا سودا ہو گیا

انکے بعد محترم ذوالفقار نقوی صاحب ضلع پونچھ جموں کشمیر سے بزم شناسائی میں شریک ہوئے۔ جو ایک سرکاری انٹر کالج میں بطور سینئر لیکچرار انگریزی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ گزشتہ بیس پچیس برس سے شعر کتے ہیں اور ان تمام برسوں میں جو قلمی واردات سر زد ہوئیں اس کے نتیجے میں دو مجموعے “زاد سفر ” اور “اجالوں کا سفر ” منظر عام پر آ چکے ہیں۔ مزید دو مجموعے زیر اشاعت ہیں۔

منتخب اشعار

شوق ِ وصال ِ یار میں اک عمر کاٹ دی
اب بام و در سجے ہیں تو گھبرا رہا ہوں میں

اجالے پھر اڑانیں بھر رہے ہیں
کوئی خورشید ٹوٹے گا کہیں پر

اسکے بعد مختار تلہری صاحب شامل محفل ہوئے وہ ہندوستان کے صوبہ اتر پردیس میں ضلع شاہجہانپور کے قصبہ تلہر کے ایک چھوٹے سے گرام ڈبھورہ میں ایک غریب لیکن شریف خاندان میں یکم فروری 1960عیسوی کو پیدائش ہوئے۔ محترم طاہر تلہری کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل کیا۔ استاد طاہر تلہری صاحب کی قائم کردہ بزم ارباب-سخن جس کےزیر اہتمام ماہانہ نشستیں درسگاہ کا کام کرتی رہیں استاد کے انتقال کے بعد اکثر استاد بھائیوں نے ایک استاد کی حیثیت سے انھیں قبول کیا اور انکے شعروں کی اصلاح لینے لگے اور یہ عمل ہنوز جاری ہے ۔

منتخب اشعار

نہ جانے کون سی باتوں نے دل دکھایا ہے
کہ آج عارض-خوددار پر بھی آنسو ہیں

خلوت میں بھی سوچا تجھے جلوت میں بھی دیکھا
ہر رخ سے دلآویز تری جلوہ گری ہے

Bazm-E-Shanasaai Bain-Ul-Aqwami Sauti Mushaaira

شہزاد نیر صاحب جو کہ صدر ِ محفل بھی تھے۔ ایک پر خلوص اور محبت کرنے والی شخصیت ہیں۔ انہیں کئی ادبی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ ان کا تعارف بھی خوب پیش ہوا

منتخب اشعار

اب مجھ سے ان آنکھوں کی حفاظت نہیں ہوتی
اب مجھ سے ترے خواب سنبھالے نہیں جاتے

آخر شب میں چلتے چلتے تھک جاتے ہیں سب
چندا ،بادل ،دھرتی، خوشبو، دریا، تُو اور میں

پروگرام کے اختتام پر معزز سینیر شعراء کرام نے بزم شناسائی پہ تبصرہ بھی فرمایا۔ معروف شاعرہ محترمہ ریحانہ روحی صاحبہ نے لندن سے بزم شناسائی مشاعرے کو بہت سراہا اور اسے جدت پسندی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اپنی طرز کی ایک منفرد محفل مشاعرہ ہے جس میں شعراء کا تعارف اور کلام دونوں بطریق احسن پیش کئے گئے اور ان کا مزید کہنا تھا کہ اب سے پہلے انھوں نے کبھی اس نوعیت کی ادبی محفل نہیں دیکھی۔انھوں نے اس کامیاب پروگرام پہ بیسٹ اردو پوئیٹری کی انتظامیہ کو بہت مبارکباد پیش کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *