Bayad-E- Ahmad Nadeem Qasmi Mushaaira

      No Comments on Bayad-E- Ahmad Nadeem Qasmi Mushaaira
بیادِ احمد ندیم قاسمی
ریوڑٹ: ریاض شاہد منامہ بحرین
کسی نے کیا خوب کہا کہ شاعری بھی بارش کی طرح ہوتی ہے ، جب برسنے لگتی ہے تو سوچ کی زمینوں کو رنگ اور الفاظ کو معانی کے ڈھنگ بخش دیتی ہے ، نت نئے خیالوں کی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور روانی پر یوں بہار آتی ہے جیسے ٹھوس پربت سے گنگناتی وادی میں آبشار، شاعری بارش ہے ان دلوں کی دھرتی پرجنہیں غم کی آگ نے راکھ میں بدل ڈالا
شاعری بارش ہےایسی بنجر سرزمینوں پر جنہیں شاعری اپنے نر م وگداز رویے اور نمی کی بدولت ہرا بھرا کر دیتی ہے ۔ ہماری ادبی تاریخ اور روایت میں معاشرے کی عکاسی ہر دور میں اہلِ قلم نے اپنے اپنے طریقے سے بہت عمدگی سے کی ہے، نثر ہو یا شاعری ، ادیبوں اور شاعروں نے معاشرے کی خوبیوں ، برائیاں اورسچائیاں قلمبند کر کے معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے ساتھ ساتھ حاکمِ وقت کو آگاہ کیا ہے اور نشاندہی کرنے کے علاوہ ان کے اصلاحی افعال کی تعریف کرنے کے ساتھ غلطیوں پر سرزنش بھی کی ہے ۔
شاعری ادب میں بہت حساس اور لطیف صنف ہے ۔ شاعر آنے والے وقت کو محسوس کرتے ہوئے شعر تخلیق کرکے عوام الناس کو آگہی کا درس دیتا ہے ۔ شعرو سخن ہماری تہذیبی اور ثقافتی روایات کا ایک اہم جزوہے جسے ہمارے شعرائے کرام احسن طریقے سے ہمیشہ نبھا تے رہے ہیں ۔علاوہ ازیں ماضی حال اورمستقبل میں رو پذیر ہونے والے حالات و واقعات کے مدّ وجزر کو بیان کرنے کا سب سے میٹھا اور شفّاف جھرنا شاعری ہے۔
اور شاعری چونکہ ایک آزاد عمرانی اور ارتقائی سفر کا نام ہے، منطقہ شرقیہ کی سر زمین ادبی زرخیزی کے لیے اپنی مٽال آپ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا2016   ميں کالم نگار ، اديب ، شاعر ، تجزيہ نگار ، نقاد مرحوم احمد نديم قاسمی پر دنیا کے ہر خطے جہاں اردو بولی ، لکھی اور پڑھی جاتی ہے وہاں ادبی تنظيموں نے صد سالہ جشن کا اہتمام کر کے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ
بیادِ احمد ندیم قاسمی
‘ ھم اپنے محسنوں کو نہيں بھولتے۔ادبی ٽقافتی تنظیم ھم آواز الخُبر نے بھی پچھلے دنوں ایسی ہی ايک بھر پور نشست کا اہتمام کیا اور بین القوامی مشاعرہ ترتیب دیا جس ميں مملکتِ سعودی عربیہ کے مختلف شہروں ، دمام، الخُبر ، الجبیل ، الحساء ، الریاض ، البریدہ ، اور مملکت البحرين سے اًدباء و شعراء نے بھر پور شرکت کرکے احمد ندیم قاسمی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے لئے ایک بین الصوبائی مشاعرے کا اہتمام تنظیم کی روحِ رواں محترمہ قدسیہ ندیم لالی نے اپنے دولت کدہ الخبر میں کیا۔
تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی ھم آواز ادبی ٽقافتی تنظیم کی روحِ رواں محترمہ قدسيہ نديم لالی نے تقریب کا آغاز کیا اور پہلے حصے کی نظامت کرتے ہوئے مہمانوں کا استقبال کیا ھم آواز ادبی ٽقافتی تنظیم کی ان گنت کامیاب مشاعروں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ھم آواز ادبی ٽقافتی تنظيم کسی فنڈ يا اسپانسر شپ کے بنا بہت تندھی سے پچھلے دس سال سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
اور اسٹیج پر تقریب کی صدارت کے لئے محترمہ فرحت پروین ،مہمانِ خصوصی جناب پروفیسر اقبال اعجاز بیگ ، مہمانِ اعزاز جناب صدف آفریدی شہ نشین ہوئے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے جناب حافظ العبد اللطیف نے کیا اور قاسمی صاحب، علامہ اقبال اور دیگر مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کی ،، جناب ضیاءالرحمن صدیقی نے لحنِ داؤدی سے نعت بحضور سرور کائنات پیش کی ۔
 بعد ازاں قاسمی صاحب پر منظوم و نثر مضامین کے لئے محترمہ محترمہ قدسيہ نديم لالی محترمُ صدف فریدی اور بریدہ سے تشریف لائے ہوئے مہمان جناب عاطف چودھری نے منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا اور حاضرین سے خوب داد پائ ، محترم اقبال اعجاز بیگ نے ايک بہترین مضمون حاضرین کی نزر کیا جس ميں انھوں نے قاسمی صاحب کے ادبی علمی اور بشری قامت پر بہت مہارت سے روشنی ڈالی
صدرِ مجلس محترمہ فرحت پروین صاحبہ نے قاسمی صاحب کی علم و انسان دوستی پر ذاتی مشاہدات و تجربات کا ذکر کیا ۔پہلے حصے کے آخرمیں  معروف شاعر امجد اسلام امجد کی ترتیب دی ہوی دستاویزی فلم دکھانے کا عمدہ انتظام موجود تھا جس میں احمد نديم قاسمی صاحب کے انٹرويو کے ساتھ کہنہ مشق شعراء کرام و اًدباء گلزار ، علی سردار جعفری ، پروين شاکر ، انور مسعود ، احمد فراز ، اشفاق احمد ، خالد احمد ، مشتاق احمد یوسفی ، اور قاسمی صاحب کی صاحبزادی ناہید قاسمی ، کے تاٽرات فلم بند تھے
جسے حاضرین نے بہت سراہا  میزبان قدسيہ نديم لالی و ندیم خان نے اپنےرحمت کدے پر پُر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا ہوا تھا مشاعرے کی نظامت پاکسان ریڈیو جہلم سے اپنی آواز کا جادو جگانے والے ، نرم خُو خوش گفتار اور کہنہ مشق شاعر جناب ليئق اکبر سحاب نے بہت پھر پور اور جداگانہ انداز سےکی برصغیر پاک و ھند کی معاشرتی تہذیب و ٽقافت بہت گہری اور مضبوط رہی ہے
، ايک زمانہ تھا کہ دور دراز کے رشتے دار شادی بیاہ ميں شرکت کے لئے مہينوں پہلے دولھا اور دلھن کے گھر رہنے اور شادی کے گھر ميں رونق میلا لگانے جمع ہوا کرتے تھے ، اُسی دوران ، کٹھ پتلی تماشا ، ميلے ٹھيلے لگا کرتے تھے ، مشاعرے کا انعقاد بہت عام تھا اور شادی کی تقریبات ميں سے ايک دن باقائدہ مشاعرہ رکھا جاتا تھا
، نديم خان اور قدسيہ نديم لالی کے نور نظر آدم نديم کی شادی خانہ آبادی پچھلے دنوں بخير و خوبی انجام پای ، انھوں نے اس پرانی روايت کو اس خوبصورتی سے ضم کیا کہ تقریب کا لطف دوبالا ہوگیا کہ گويا دو آتشہ بھی ،  دو عظیم شعراء کا جشن ولادت ، لیئق اکبر سحاب نے اپنے ابتدائ کلمات ميں دولھا اور دلھن کو نہایت خوبصورت انداز ميں منظوم مبارک باد دیتے ہوئے کہا :
ہو شہزادے آدم کو شادی مبارک        مبارک ہو شہزادی سارہ حکومت
مبارک بہت قدسیہ اور سمیرہ            مبارک ندیم اور جاوید رفعت
محبت مسرت کی برسات برسے        ہمیشہ خدا کی ہو دونوں پہ رحمت
سحاب اک یہی بس خدا سے دعا ہے    یہ جوڑی رہے تا قیامت سلامت۔
بیادِ احمد ندیم قاسمی
 ۔ لیئق اکبر سحاب نے اپنی نظامت کے دوران احمد نديم قاسمی مرحوم کی زندگی و فن کے تمام تر پہلووں پر خاص توجہ مرکوز رکھی اور تقریب کلی طور پر قاسمی کے سحر سے مربوط رہی۔ مشاعرے کی صدارت محترمہ فرحت پروین ، مہمانِ خصوصی پروفیسر اقبال اعجاز بیگ جبکہ مہمانِ اعزار میزبانِ تقریب محترمہ قدسیہ ندیم لالی تھیں۔
\مشاعرے میں پیش کئے گئے شعراء کا منتخب کلام قارئین کی نذر
لئیق اکبر سحاب
سب کو محبوب ندیم آئینہ خانے تیرے
دل میں محفوظ ہیں یادوں کے خزانے تیرے
تا ابد زندہ رہیں گے ترے شہکار ندیم
تیری غزلیں ہوں کہ نظمیں کہ فسانے تیرے
عقیل آصف
خود سے ملنے کی یہ تدبیر نکالی ہم نے
آئینہ دیکھ کے تصویر بنا لی ہم نے
دیکھنا یہ تھا کہ زنداں کی حقیقت کیا ہے
اپنے ہی پاؤں میں زنجیر سجا لی ہم نے
ملک عدنان
تمہارے روٹھ جانے سے سبھی موسم بھی برہم ہیں
محبت کو محبت سے منانے آ مرے ہمدم
اکرم زاہد
اب کہ اے محتسبو بات یہ دھیان میں رکھنا
ہم نے بھی سیکھ لیا تیر کمان میں رکھنا
افضل عارش
تذکرہ آنکھوں کا ہے چرچے کہیں کاجل کےہیں
گفتگو میں رنگ جتنے ہیں ترے آنچل کے ہیں
صدف فریدی
چاک پہ ہم گردش میں ہوتے دیر تلک
کوزہ گر کے ہاتھ میں آتے ہم بھی نا
قدسیہ ندیم لالی
اسے بھی پانا تھا خود کو بھی ڈھونڈنا تھا ہمیں
گلی میں اس کی نا جاتے تو اور کیا کرتے
کشش زمیں کی فلک کو بھی کھینچ لاتی ہے
ترےقریب نہ آتے تو اور کیا کرتے
ریاض شاہد
تپش میں جھلسے ہوئے زیست کے ستائے ہوئے
یہ لوگ سائے کی امید ہیں لگائے ہوئے
ہماری فکر نہیں ملتی جن کی سوچوں سے
ستم تو یہ ہے تری بزم میں ہیں آئے ہوئے
حکیم اسلم قمر
اداس نظروں کے سامنے تھے سکوتِ شب کے تمام منظر
جدائی کی داستاں سنا کر نہ میں ہی سویا نہ وہ ہی سویا
اقبال طارق
دیارِ فکر میں ہے روشنی مرے دم سے
اسی فریب میں ہر شخص مبتلا دیکھا
سعید اشعر
جہاں جہاں میرا سایہ زمین پر بکھرا
وہاں وہاں ترا خورشیدبھی دباؤ میں تھا
اقبال قمر
ایک مدت کا تعلق تھا مرا
ایک لمحے میں پرایا ہوا میں
شوکت جمال
عمر بیگم سے جب کوئی پوچھے
بات کو اس طرح گھماتی ہیں
کہ کے چھوٹی ہوں دس برس ان سے
عمر میری وہ کم بتاتی ہیں
عاطف چوہدری
کوئی بات ہے جو میں خود سے بھی نہیں کر رہا
یہ جو عشق ہے میں آخری نہیں کر رہا
پروفیسر اقبال اعجاز بیگ
سارے چمکنے والے ایک سےہوتے نہیں
سورج چاند ستارے ایک سے ہوتے نہیں
کچھ تو منڈیروں پر رکھے رہ جاتے ہیں
اُڑنے والے پرندے ایک سے ہوتے نہیں
فرحت پروین
یوں دیا کرتے ہیں ہم تلخ نوائی کا جواب
اپنے لہجے میں ذرا اور بھی رس گھولتے ہیں
مال و زر کو نہ کبھی جانا نجابت کی سند
ہم تو انسان کو کردار ہی میں تولتے ہیں
اور یوں یہ پُر وقار تقریب رات گئے ماہ دسمبر میں بیادِ فیض احمد فیض کی تقریب منانے کا اعلان کرتے ہوئے اختتام کو پہنچی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *