بعثتِ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد

بعثتِ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد

ازقلم: تسنیم فرزانہ

ولقد ارسلنا رسلاً من قبلک منھم من قصصنا علیک و منھم من لم نقصص علیک
ازروئے قرآن حکیم صفحہء ارضی پر قافلہء انسانیت اور قافلہء نبوت و رسالت نے ایک ساتھ سفر کا آغاز کیا- پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے پہلے نبی بھی تھے، اور آدمِ ثانی حضرت نوح علیہ السلام پہلے رسول تھے- اسکے بعد قافلہء آدمیت اور قافلہء نبوت ساتھ ساتھ سفر جاری رکھتے رہے۔ ایک طرف مادی ارتقاء کا عمل جاری رہا، وسائل و ذرائع میں ترقی ہوتی چلی گئی انسان کےمادی علوم کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا تو ساتھ ساتھ ہدایتِ آسمانی، ہدایتِ خداوندی بھی ارتقائی مراحل طے کرتی چلی گئی۔

تآنکہ نبوت اپنے نقطہء عروج کو پہنچ گئی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذاتِ مبارکہ اور بالآخر اختتام کو پہنچ گئی حضرت محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم کی شخصیت مقدس میں، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی شخصیت میں وہ قیامت تک کے لئے قائم و دائم ہو گئی۔ قرآن پاک میں ہے ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ، و کفی باللہ شھیدا الفتح 28:آیت

قرآن حکیم میں اس آیت کا جزو اعظم دو اور سورتوں میں سورہ التوبہ اور سورہ الصف میں بھی بعینہ انہی الفاظ میں آیا ہے ایک مضمون کا تین مقامات پر دہرایا جانا یقیناً ان الفاظ کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے- ذراغور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ سیرتِ محمدی صلی اللہ علیہ و سلم کے ضمن میں تو یقیناً یہ الفاظِ مبارکہ ” کلید” کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ انہی کے فہم پر اس کا کہ ہم اس بات کو سمجھ سکیں کہ انبیاء و رسل کی مقدس جماعت میں محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم کا امتیازی مقام کیا ہے۔

یہ الفاظ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو قرآن کریم میں تین بار آئے، لیکن کسی دوسرے نبی یا رسول کے لئے نہ صرف یہ الفاظ بلکہ اس کے قریب المفہوم الفاظ بھی پورے قرآن حکیم میں کہیں وارد نہیں ہوئے، ذرا ان الفاظ پر توجہ مرکوز کیجیے۔ “وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) کو الہدی کے ساتھ اور دینِ حق دے کر، تاکہ غالب کر دے اس کو پورے کے پورے دین پر اور کافی ہے اللہ بطورِ گواہ۔

بعثتِ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد

ان الفاظِ مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کی امتیازی شان سامنے آتی ہے اس آیت میں آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے لفظ” رسولہ”وارد ہوا ہے۔ اس سے اشارہ ہوتا ہے اس بات کی طرف کہ بقیہ انبیاء و رسل کی نسبتیں اور ان کی امتیازی حیثیتیں کچھ دوسری ہیں۔ مثلاً آدم صفی اللہ، حضرت نوح علیہ السلام نجی اللہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ، حضرت اسماعیل علیہ السلام ذبیح اللہ ہیں، حضرت موسی علیہ السلام کلیم اللہ ہیں، حضرت عیسی علیہ السلام روح اللہ ہیں لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم رسول اللہ ہیں۔ گویا کہ منصب رسالت جس مقدس ہستی پر اپنے نقطہء عروج اور نقطہء کمال کو پہنچا ہے وہ ذاتِ محمدی علی صاحبہا الصلواۃ والسلام۔

آپ سے پہلے تمام انبیاء و رسل کی بعثت صرف اپنی اپنی قوموں کی طرف ہوئی انکا خطاب ہمیشہ ایک ہی رہا یقوم اعبدو اللہ ما لکم من آلہ غیرہ “اے میری قوم کے لوگو! بندگی اور پرستش اختیار کرو اللہ کی جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اس مقدس جماعت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پہلے اور آخری نبی اور رسول ہیں جن کا خطاب پوری نوعِ انسانی سے ہے، بحیثیتِ نوعِ انسانی قرآن مجید میں جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کا آغاز ہوتا ہے تو آفاقی انداز سے ہوتا ہے

یا ایھا الناس اعبدو ربکم الذی خلقکم……… “اے بنی نوع انسان! اپنے رب کی بندگی اور پرستش کرو جس نے تم کو پیدا کیا ہے ” خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی زبان مبارکہ سے ارشاد فرماتے ہیں ” میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف بالخصوص اور پوری نوع انسانی کی طرف بالعموم “(نہج البلاغہ)

قرآن مجید میں بھی یہی مضمون آیا ہےارشادتعالی ہے: ترجمہ: اے محمد صل اللہ علیہ و سلم ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر پوری نوع انسانی کے لئے بشیر و نذیر بنا کر…. السبا :28

یہی مضمون اس آیت مبارکہ کاوما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین الانبیاء :107 “اور (اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم) نہیں بھیجا ہے ہم نے آپ کو مگر جہانوں کے لئے رحمت بنا کر “

یہ خصوصیت صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہے کہ آپ کی بعثت پوری نوع انسانی کی جانب ہے۔ اور یہ اصل میں اس لئے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے واقعتاً دنیا میں ذرائع و وسائل ) ایسے نہ تھے کہ کسی ایک نبی یا رسول کی دعوت پر پوری نوع انسانی کو جمع کیا جا سکتا تھا۔ اس میدان میں وسائل و ذرائع کے سلسلے میں جو ارتقاء ہوا ہے اس کا یہ نتیجہ ہے کہ اب اس رسالتِ کاملہ کا ظہور ہو جس کی دعوت پوری نوع انسانی کے لئے بیک وقت ہو اور جو مبعوث ہو الی الاسود و الاحمر تمام انسانوں کی جانب، خواہ افریقہ کے سیاہ فام لوگ ہوں، خواہ یورپ کے سرخ رو ہوں یا مشرق کے زرد رو لوگ-

ارشاد باری تعالٰی ہے ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی…”وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو الہدی کے ساتھ ” الھدی سے مراد قرآن حکیم ہے، یہ پہلی چیز ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم لے کر مبعوث ہوئے، جو ہدایت کاملہ و تاقّہ ہے، جو ھدی للناس ہے، ھدی للمتقین ہے، شفاء لما فی الصدور ہے

اس ضمن میں بھی ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہمارا ایمان ہے کہ تورات، انجیل، زبور اور دیگر صحیفے بھی اللہ ہی کی طرف سے عطا کئے گئے تھے، لیکن ان میں سے کسی کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے نہیں لیا تھا

دوسری چیز جو بعثت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد ہے یا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم لے کر آئے وہ دینِ حق ہے، وہ ایک نظامِ اجتماعی ہے ایک ایسا نظامِ عدلِ اجتماعی جس میں سب کے حقوق و فرائض کا ایک نہایت معتدل اور متوازن نظام موجود ہے جس میں کوئی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا – یہ وہ میزان ہے جس میں سب کے حقوق و فرائض کا تعین کر دیا گیا ہے۔ قسط، عدل اور انصاف سے ہر فرد کو، اس کی ناگزیر ضروریات زندگی ملیں گی۔

افلاطون نے بھی ایک کتاب لکھی ری پبلک، جس میں اس نے نظری اعتبار سے بہت عمدہ نظام تجویز کیا، لیکن یہ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ وہ نظام کبھی ایک دن کے لئے بھی دنیا میں کسی ایک مقام پر بھی قائم نہیں ہوا- اسکی حیثیت ایک خیالی جنت کی ہے، وہ ایک ایسی چیز ہے جو کہ نا ممکن العمل ہے۔

اسکے برعکس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جو نظام لے کرآئے وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں پر محیط ہے، وہ ایک طرف اخلاقی تعلیم کا حسین ترین مرقع ہے تو دوسری طرف اجتماعی زندگی سے متعلق نہایت اعلٰی و ارفع، معتدل و متوازن اور منصفانہ نظام کا حامل ہے۔

بعثتِ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد

سورۃ الشوری میں اللہ تعالٰی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانِ مبارک سے اعلان کرایا
ترجمہ: ( اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجیے کہ میں اس کتاب پر ایمان لایا ہوں جو اللہ نے نازل کی ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے مابین نظام عدل قائم کروں”

اس آیت کی رو سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد بعثت یہ قرار پایا کہ آپ نظام عدل و قسط کو پورے کے پورے نظام زندگی پر غالب کریں، قائم کریں، نافذ کریں جو اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ دینِ حق کے غلبے کے لئے ہمیں سیرتِ محمدی علی صاحبہا الصلواۃ و السلام میں ایک عظیم انقلابی جد و جہد نظر آتی ہے۔ ایک مکمل انقلاب بلکہ تاریخ انسانی کا عظیم ترین انقلاب وہ ہے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم نے برپا کیا، اس کا خاکہ ہمیں آپ صلعم کی حیات طیبہ کے 23 برس میں نظر آتا ہے۔اس مختصرعرصے میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا اوراس دینِ حق کو عملاً دنیا میں نافذ کر کے اس کا ایک نمونہ نوعِ انسانی کے لئے پیش کر دیا۔

چوتھی چیز جو نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی انقلابی جد و جہد میں قدم قدم پر مشکلات و مصائب اور موانع ہیں۔ یہ جد و جہد نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خالص انسانی سطح پر کر کے دکھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ساری تکلیفیں جھیلی ہیں جو کسی بھی انقلابی جد و جہد میں کسی بھی داعیء انقلاب کو اور اسکے کارکنوں کو جھیلنی پڑتی ہیں۔ وہ تمام شدائد، مشکلات، آزمائشیں، تکالیف و مصائب بنفسِ نفیس جھیلی ہیں۔اس کا ایک سبب جو پیش نظر رہنا چاہئیے۔

یہ انقلاب صرف عرب کے لیے نہیں تھا بلکہ پورے نوع انسانی اورعالمِ ارضی کے لئے تھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرہء عرب کی حد تک اسکی تکمیل فرمادی اور اسکے بعد عالمی سطح پراسکی تکمیل کا فریضہ امت کے حوالے کر کے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللھم فی الرفیق الاعلی کہتے ہوئے رفیق اعلی کی طرف مراجعت فرمائی۔

فصلی اللہ تعالٰی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و سلم تسلیما کثیرا کثیرا

نوٹ: مضمون کی تیاری میں کتاب رسول کامل سے مدد لی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *