Bano Qudsia Novel Raja Gidh By Dr Riaz Chaudhary

Bano Qudsia Novel Raja Gidh

بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ

 تحریر: ڈاکٹر محمد ریاض چوھدری

آپ کو عورت کے دل کی تلاش ہے۔ باکرہ جو ہوتی ہے سر جی اسکے پتن سے ابھی کسی نے پانی نہیں پیا ہوتا، وہ جسم اوردل ایک ہی جوئے میں ہارتی ہے۔

اردو ادب کی معروف مصنفہ بانو قدسیہ تاریخ رقم کرکے 88 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملی ہیں۔ انکے انتقال پرہر آنکھ اشکبار اورہر دل غمگین ہے۔ بانو قدسیہ اردو ادب کا ایک عہد تھیں۔ بانو قدسیہ کے لکھے گئے ناول اورافسانے آج بھی پڑھنے والوں میں انتہائی مقبول ہیں اور ان سے اختلاف کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردو ادب میں انہوں نے اپنی تحاریر کے گہرے نقوش چھوڑے۔

Bano Qudsia Novel Raja Gidh

بانو آپا کا لکھا ہوا شہرہ آفاق ناول راجہ گدھ  سی ایس ایس کے کورس میں بھی شامل ہے۔ یقینا بانو قدسیہ کی مہارت انکی لکھنے کی خداداد صلاحیتوں اور تحاریر کو ایک خوبصورت اسلوب میں ڈھالنے کی طاقت سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا بانو آپا کے ناول ہمارے دل و دماغ پر نقش ہیں اور ان دنوں کی خوبصورت یادوں میں سے ایک ہیں۔ بانو قدسیہ نے لکھنے کا جو اسلوب اورانداز چنا وہ 70 کی دہائی کے بعد کے پاکستانی معاشرے کی اس نفسیات کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

جس کے تحت افسانہ و ادب میں بھی اسلاماءزیشن اورتہذیبی نرگسیت کا رنگ ڈال دیا گیا تھا۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں لیکن انکا ناول راجہ گدھ آ ج بھی ترو تازہ اور بھٹکے نوجوانوں کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے راجا گدھ کا نام آئے تو ذہن کے نہاں خانوں میں بانو قدسیہ کی شبیہ نہ ابھرے، ذیل میں ہم بانو قدسیہ کے ناول راجا گدھ سے چند کا اقتباس پیش کر رہے ہیں جو قارئین کیلئے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

زندگی کو پتنگ سے تشبیع دیتے ہوئے بانو قلم طراز ہیں۔ زندگی اورپتنگ بعض دفعہ انسان کو ایک ہی طرح خوارکرتے ہیں۔ ایک ہی طرح اچھا کرتے ہیں۔ ایک ہی طرح اپنے پیچھے دوڑاتے ہیں۔ ایک ہی طرح خوشی سے پاگل کرتے ہیں اور ایک ہی طرح مایوس کرتے ہیں۔ لیکن نہ پتنگ کو کوئی آسمان میں اڑنے سے روک سکتا ہے نہ زندگی کو چلنے سے-

Bano Qudsia Novel Raja Gidh

اوردو محبت بھرے دلوں کو یک جان ہو جانے کی مثال دیتے ہوئے بانو لکھتی ہیں۔ کچھ لمحے بڑھے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ طے ہوتا ہے کہ کو ئی کس شخص کاسیارابنایا جائے گا – جس طرح کسی خاص درجہ حرارت پر پہنچ کرطوس مایا میں اور مایا گیس میں بدل جاتا ہے ۔ اسی طرح کوئی خاص گھڑی بڑی نتیجہ خیز ہوتی ہے اسوقت اس قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کی سوئیوں تباہ کردی جاتی ہی

پھرجو وقت پہلے کا رہتا ہے وہی وقت دوسرے قلب کی گھڑی بتاتی ہے۔ جو موسم ، جو رت، جو دن پہلے قلب میں طلوع ہوتا ہے وہ دوسرے آئینہ میں منعکس ہوتا ہے۔ دوسرے قلب کی اپنی زندگی رک جاتی ہے ، اسکے بعد اس میں صرف باز گشت کی آواز آتی ہے۔

راجہ گدھ سے ایک اور خوبصورت اقتباس

قیام پاکستان کے بعد اس گاؤں میں کئی رنگ کے پکھیرو آباد ہو گئے تھے ، بڑے لونگ اور ساتواں ناک والی راجپوتنیاں ، گول گول دپنوں والی کشمیرنیں، چوڑے طباق والی مٹی رنگ جاٹ عورتیں، چکنی جلد پر نارنگی کے چھلکے ملنے والی مغل زادیاں، خوشامد سے دوہری ہونے والی میراثنیں، پلُمیں صحن کا رنگ بدل دینے والی کے زئینین، ناپ تول کے تکڑی کے بات جیسی زندگی بسر کرتی شیخانیاں، جلدی ڈھل جانے والی زرد زرد آرائنیں استرئیاں، کھلی بیسن سے نہیائی دھوئی گجرنیاں ، چوڑے چھنکابے اور طعنے دینے والی مسلمین۔

Bano Qudsia Novel Raja Gidh

راجہ گدھ سے ایک اور اقتباس

آپ سر جی غلط عورتوں کے پیچھے وقت ضائع نہ کریں آپ کو چاہیے ایک باکرہ لڑکی ، طیب دوشیزہ جو آپ کو سیدھا راستہ دکھا سکے۔ باکرہ کیوں امتل؟ آپکو عورت کے دل کی تلاش ہے، باکرہ جو ہوتی ہے سر جی اسکے پتن سے ابھی کسی نے پانی نہیں پیا ہوتا، وہ جسم اور دل ایک ہی جوئے میں ہارتی ہے۔ آپکے بڑے احسان ہیں مجھ پر، خدا قسم اگر میں پہلے جیسی ہوتی تو فوراً آپ سے شادی کرالیتی۔ اس وقت وہ کسی مصری راہبہ کی طرح بڑی پر شکوہ لگ رہی تھی۔

یہ جسم اور دل بڑے بیری ہیں ایک دوسرے کے سرجی۔ جسم روندا جائے تو دل کو بسنے نہیں دیتا، ان دونوں کو کبھی آزادی نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ جانے کیوں میرے مولا نے انکو ایک ہی ہتھکڑی پہنادی اور پتہ نہیں آپ سے میں کبھی کبھی کیسی باتیں کرنے لگتی ہوں؟ میں تو نہیں بولتی سرجی میرا تجربہ بولتا ہے، مجھ کو تو باتیں کرنے کا ڈھنگ ہی نہیں ہے۔

باغ میں شام آگئی، بہار کی خوشبوﺅں سے بوجھل شام۔ ہم دونوں کرگس جاتی کے شودر تھے، کوئی بات ہمیں اندر ہی اندر آگاہ کر رہی تھی کہ وہ رابطہ جو اتنی دیر ہمارا بھار اٹھائے رہا اب ٹوٹنے والا ہے لیکن اس شام ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اچھی پہچان لیا اسی لیے ہمیں بچھڑنے میں مشکل پیش نہ آئی۔

Bano Qudsia Novel Raja Gidh

یہ ایک بات ہے کہ اس شام کے بعد ہم پھر نہیں ملے لیکن اگر ہم ملتے بھی رہتے ریڈیو سٹیشن میں، سڑکوں پر، بازاروں میں تو اس شام کے بعد ہر ملاقات اجنبیوں کی ملاقات ہوتی، ہم ایسے ہی ملتے جیسے چیونٹیاں اپنے اپنے رزق کا دانہ منہ میں لیے راستے میں ایک دوسرے سے دعا سلام کرتی ہیں اور پھر اپنی اپنی راہ چلی جاتی ہیں۔ نہ کوئی ماضی کی یاد نہ کسی فرد کا وعدہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *