Balochistan Ki Madniyaat Episode 2 By Babrak Karmal Jamali

Balochistan Ki Madniyaat Episode 2

(بلوچستان کی معدنیات (دوسری قسط

تحریر: ببرک کارمل جمالی

بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے بلوچ قوم کو سی پیک پر اعتبار نہیں رہا۔ بلوچستان میں 86 فیصد عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ جب کہ 72فیصد نوجوان بے روزگار ہیں بلوچستان کےوسائل اورگوادر کا اختیار بلوچستان حکومت کودیا جائے، بلوچستان کے تین لاکھ سینتالیس ہزار اسکوائر کلومیٹر خشکی اور ایک لاکھ ستر ہزار170000 اسکوئرکلومیٹر سمندری رقبہ میں پشتون آٹھ اضلاع میں صرف 43 ہزارمربع کلومیٹر پر آباد ہیں، 72سالوں سے بلوچستان سیاسی ، معاشی، انتظامی، معاشرتی اور عسکری لحاظ سے مشکلات سے دوچار ہے لیکن ان مشکلات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان قومی ترقی، تعلیم، صحت، روزگار کے کے شعبہ میں 70سال پیچھے ہے۔ بلوچستان میں سیاسی نظام کو کرپشن زدہ بنا دیا گیا ہے اور بلوچستان میں کرپشن کی انوکھی مثالیں قائم کی گئی ہیں۔ بلوچستان میں غربت کی شرح 86فیصد ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ سی پیک سے بلوچستان میں ہمہ گیر تبد یلی آئے گی اور گوادر میں نئے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر تبدیلی کا پیشہ خیمہ ثابت ہوگی۔ بلوچستان میں پہلے سے 28 ائیر پورٹ قائم ہیں، کیا ان سے تبدیلی مثالی ہے؟

Balochistan Ki Madniyaat Episode 2

سی پیک 46ملین ڈالر کا منصوبہ ہے جو بادی النظر میں مالی فاعدہ کے لیے بنا یا گیا ہے۔ سی پیک کے نو ہزار ملین ڈالر میں صحت، تعلیم، توانائی، لائیو اسٹاک، روزگار اور صنعت وغیرہ کاکوئی کاریڈور شامل نہیں۔ پا کستان میں بلوچستان کا رقبہ 64فیصد ہے۔ اگر حکمران بلوچستان میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو بلوچستان کو 64 فیصد حصہ دیا جائے۔ بلوچستان کی 70فیصد آبادی تعلیم سے محرو م ہے۔ سی پیک کا چرچہ ہے مگر سی پیک سے متعلق بلوچ عوام کے خدشات کو دور نہیں کیا جارہا ہے۔

لیکن بلوچستان کی معدنیات ہی سی پیک بنانے کا اہم جز ہےاگر یہ معدنیات بلوچستان میں نہ ہوتی تو سی پیک کبھی نہ بنتا ان معدنیات میں تانبہ بلوچستان کا ایک بڑا خزانہ ہے ہر سال بلوچستان سے اربوں روپے کا تانبہ چاغی سے نکالا جاتا ہے۔ جبکہ عالمی مارکیٹ میں تیس ہزار ٹن کی قیمت دو ارب روپے بنتی ہے جبکہ چاندی بھی بلوچستان کے کئی مقامات سے نکالی جاتی ہے۔ ہرسال بلوچستان سے چاندی کے اربوں مالیت کے ذخائر نکالے جاتے ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں جاتے ہیں۔ لوہا بلوچستان کی قیمتی دھات ہے لوہا فولاد سازی اور گھروں کی تعمیر میں استعمال ہوتا ہے، لوہے کے ذخائر بلوچستان کے مختلف حصوں میں ملتے ہیں۔

Balochistan Ki Madniyaat Episode 2

جبکہ دالبندین کےمقام پہ پرلوہےکے بڑے ذخائرملے ہے، وہاں بیس ملین ٹن کے ذخائر دریافت ہوئےہیں جبکہ منگھو پیر میں 31 کروڑ ٹن کے ذخائر ملے ہیں چاغی میں بھی لوہےکے ذخائر ملے جن کی مالیت پچاس ملین ٹن ہے یہ تمام ذخائر ہر سال اربوں روپے کی مالیت کےبنتے ہیں۔ لوہا دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے یہ لوہا دنیا کا سب سے مضبوط ترین لوہا ہے، حتاکہ تیل کی پیداوار بھی بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں پائی جاتی ہے جبکہ تیل کی پیداور کوہلو اور دریجی کے مقام پر تیل کے ذخائر ملے ہیں۔

بلوچستان میں تیل کی پیداوار 2 ارب بیرل موجود ہے جبکہ بلوچستان کی سب سے قیمتی معدنی دولت گیس ہےبلوچستان کے بےپناہ ذخائر گیس کے موجود ہیں سوئی کے علاوہ بھی بلوچستان میں کئی جگہوں سے گیس کے ذخائر ملے ہیں جن میں زرغون پیر کوہ دریجی اور کوہلو میں میں بھی گیس کےذخائر ملے ہیں بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں 19 کھرب 80 ارب کیوسک گیس موجود ہے بلوچستان میں گیس کی دریافت 1953 میں ہوا جو چند سالوں میں ملک کے مختلف شہروں تک پہنچ گیا۔

جن میں کراچی لاہور اسلام آباد پشاور اور دیگر بڑے شہروں تک گیس پہنچایا گیا تھا، مگربلوچستان کی سر زمین تک گیس ابھی تک بہت سے علاقوں میں موجود نہیں ہے، پورے بلوچستان کی پچاس فیصد آبادی آج بھی گیس سے محروم ہے، آدھا بلوچستان آج بھی لکڑیاں جلا رہے ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے بلوچستان میں گیس کی قیمت چاروں صوبوں سے زیادہ یے جبکہ بلوچستان سے نکلنے والے گیس سے بننے والی بجلی بھی بلوچستان کو نہیں دی جارہی ہے حتاکہ اوچ پاور پلانٹ بناتے وقت یہ کہا گیا تھاکہ بلوچستان کے دو اضلاع میں یہ بجلی دی جائے گی۔

Balochistan Ki Madniyaat Episode 2

مگر یہ بجلی آج تک ان اضلاع کو نہ دی گئی۔ بلوچستان کی قدرتی وسیلہ پاکستان کی 90 فیصد معدنیات کی ضروریات کو پوراکرتاجبکہ عالمی منڈی میں معدنیات کےحوالےسےبلوچستان پاکستان کا نام روشن کر رہا ہے۔ بلوچستان عالمی منڈی میں اپنا نام بہت  روشن  کر چکا ہے بلوچستان کی معدنیات دنیا کی اہم معدنیات مانی جاتی ہے۔ بلوچستان کی معدنیات دنیا کے مختلف ممالک میں جاتی ہے۔ جن میں چین، عرب امارات، کوریا، اسپین، ہندستان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ انکے علاوہ بھی کئی اور ممالک ہیں جہاں بلوچستان کی معدنیات بھیجی جاتی ہے۔

صرف ضلع خضدار سے کراچی ہرسال چالیس ہزار ملین ٹن مختلف قسم کے پتھر روانہ کئے جاتے ہیں جو انتہائی کم قیمت میں پر کراچی فروخت میں کیئے جاتے ہیں اور ان پر ڈیزائن بنا کر مہنگے داموں بیچا جاتا ہے حتاکہ کراچی کی معشیت میں بلوچستان کی معدنیات میں اہم رول ادا کرتی ہیں اج بھی بلوچستان سے نکالنے والی معدنیات کو پرانے طریقوں سے نکالا جاتا ہے جس کی وجہ سےسیکڑوں لوگوں کی جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہےاگر بلوچستان میں جدید کارخانے بنائے جائیں تو انسانی زندگیاں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی اور کئی معدنیات عالمی مارکیٹ تک پہنچ جائیں گی۔

Balochistan Ki Madniyaat Episode 2

بلوچستان میں بے پناہ معدنیات اور زرعی جنس جڑی بوٹیوں کی کافی تعداد موجود ہیں جبکہ بلوچستان میں کارخانوں کی کمی کے ساتھ جو چند کارخانے نام کےبنےہوئےانکی بھی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے یہ چند کارخانے یا تو بند ہو گئے یا بند ہونے کے قریب ہے جن میں پٹیل ملز، ہرنائی ملز، بولان ملز، ماربل فیکٹری بلوچستان، ٹکسٹائیل ملز، بولان ملز، چلتن ملز، گھی ملز، اینٹوں کے ملز اور گلاس کارخانے تو موجود ہیں۔ مگر انکی حوصلہ افزائی نہ ہونے کی وجہ سے کئی ملز اب بند ہو چکی ہیں۔

جبکہ سن میں 1999 میں 99 کارخانے موجود تھے جس میں 90 ہزار مزدور ڈیلی کام کرتے تھے، جن میں 65 ہزار مقامی لوگ کام کرتے تھے اور باقی غیر ملکی لوگ کام کرتے تھے مگر آج کل یہ کارخانے بھی خسارے میں جا رہے ہیں جنکی وجہ سے کافی کارخانے بند ہو گے اور کافی خسارے میں جا رہے ہیں۔ جبکہ 1974 میں سیندک کے علاقےمیںزخائرکی تلاش شروع ہوئی جسکے نتیجے میں سونا چاندی اور تانبہ کے 412 ملین ٹن کے ذخائر دریافت ہوئے۔ ان ذخیروں میں 15.8 سو ٹن تانبا اور سونا 1.47 ٹن جبکہ چاندی 2.76 ٹن ہے جن کی مجموئی پیداوار 55ملین امریکی ڈالر امدنی ہوتی ہے۔

Balochistan Ki Madniyaat Episode 2

یہ سلسلہ 19 سے 25 سال تک جاری رہے گا سیندک پروجیکٹ 80 سال تک پیداوار دے سکتا ہے 1995 میں صرف چالیس دن دن تک 15.50ٹن پیداوار ہوئی جن میں 45 کروڑ کا کاروبار کیا گیا یعنی ایک سال میں چار سے پانچ ارب کی آمدنی ہوتی ہے جبکہ حکمران اس مال غنیمت کو لاکھوں ڈالر سالانہ چین کو دے دیتے ہیں، صرف تین کروڑ کے حساب سے یہ مال غنیمت چین کو دے دیا گیا۔ پورا بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے اگر کسی چیز کی کمی ہے تو اس صحیح دولت کو صحیح جگہ استعمال کے کمی ہے۔

اگر بلوچستان میں معدنیات کے حوالے دس بیس کارخانے پاکستان حکومت لے لیں تو بلوچستان کے لاکھوں لوگ روزگار سے وابسطہ ہو جائیں گے اور بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا بلوچستان کی ترقی سی پیک سی نہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی ان معدنیات سے ہے جو خدا کی طرف سے بلوچستان کی سر زمین پہ خدا نے ایک رحمت بنا کر بھیجی ہے۔ یہی معدنیات بلوچستان کی پسماندگی دور کریں گی اور ترقی کی راہیں کھولیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *