مشاعرہ “شعر گرد” کی روداد

      No Comments on مشاعرہ “شعر گرد” کی روداد
مشاعرہ "شعر گرد" کی روداد

تحریر: علی مزمل کراچی، پاکستان

مورخہ ١٦ دسمبر ٢٠١٧ بروز ہفتہ رات ٧ بجے شام حسبِ معمول ایک مختلف نوعیت کا ١٢٩ واں مشاعرہ بنام ” شعر گرد منعقد کیا گیا۔ جس میں معروف شعراء کے اشعار پر شعر کہے گئے۔ اس مشاعرہ کو “گرد باد” کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور جیتنے والے کے لیے “سخن شناس” ایوارڈ کا اعلان کیا گیا۔ جس کے مہتمم جناب توصیف ترنل صاحب تھے اور مشاعرہ کی صدارت وادئ سندھ پاکستان سے جناب اشرف علی اشرف صاحب فرما رہے تھے۔

whatsapp-image-2017-12-18-at-12-49-35-pm

جبکہ مہمانانِ خصوصی میں محترم جناب۔ مسکین رائچوری صاحب۔ کرناٹک، انڈیا اور محترم جناب ضیاء السلام ضیاء شادانی صاحب۔ مراد آباد۔ انڈیا کے نام شامل تھے۔ جبکہ مہمانِ اعزازی کی مسند پرمحترم سرفراز مقدم صاحب۔ ساؤتھ افریقہ اور محترم جناب شاہین فصیح ربانی صاحب، پاکستان براجمان تھے۔ نظامت کے فرائض جناب علی مزمل صاحب، کراچی، پاکستان سے انجام دے رہے تھے۔

حلقہء منصفین تین شعراء پر مشتمل تھا۔
محترمہ ڈاکٹر مینہ نقوی صاحبہ۔ مرادآباد، انڈیا
محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل صاحب، پاکستان
محترم مسعود حساس صاحب۔ کویت

ٹھیک سات بجے اللہ کے بابرکت نام سے تقریب کا آغاز ہوا اور ناظمِ مشاعرہ نے حمدِ باری تعالی کے لیے محترم علیم طاہر صاحب انڈیا کو دعوتِ حمد دی، علیم طاہر صاحب نے حمد و ثناء سے محفل کو مشکبار کیا اور تحسین پائی۔

whatsapp-image-2017-12-18-at-12-49-38-pm

نمونہء کلام
گردن جو آٹھے محسوس کروں
تو ہی تو ہے باہر اللہ ھو
پل پل گونجے ہے نام ترا
مری ذات کے اندر اللہ ھو
ہر دھڑکن ورد کرے تیرا
دل بولے قلندر اللہ ھو

اس کے بعد محترمہ نفیسہ حیا صاحبہ۔ احمدنگر مہاراشٹر، انڈیا کو دعوتِ حمد کی سعادت نصیب ہوئی۔ سامعین اور ناظرین نے روحانی لطف کشید کیا محفل سبحان اللہ۔ ماشاءاللہ کی تحسین سے گونج اٹھی۔

نمونہء کلام
غرور و تکبر بھی پلنے نہ پاۓ
انا میری بالکل فنا کردے یارب
حسد بغض و کینہ ہے جتنے دلوں میں
محبت کی ان میں ضیا کردے یارب

اسکے بعد محترم جناب ڈاکٹر سراج گلاٹھیوی صاحب کو نذرانہء نعت کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ نے بھی خوب داد پائی۔

whatsapp-image-2017-12-18-at-12-49-38-pm-1

نمونہء کلام
بلاۓ جاتے ہیں جو ہیں نبی کو پیارے لوگ
وہی تو طیبہ کے لوٹیں حسیں نظارے لوگ
درِ نبی پہ جو آتے ہیں غم کے مارے لوگ
عطا کی بھیک سے دامن بھریں ہیں سارے لوگ

بعد ازاں مشاعرہ “شعر گرد” کا باقاعدہ آغاز ہوا اور پہلا شعر جناب علیم طاہر صاحب کے رو برو پیش کیا گیا۔

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامہءسیاہ میں تھی

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
ساغر صدیقی

پڑے ہیں صورتِ نقشِ قدم نہ چھیڑ ہمیں
ہم اور خاک میں مل جائیں گے اٹھانے سے
عاصی غازی پوری

صاحب یہ میرا نامہء تقدیر دیکھئے
اک شامِ ہجر اس میں کئی بار درج ہے
فہیم شناس کاظمی

شکستہ پائی سے ہوتی ہیں بستیاں آباد
جو اب قبیلہ ہوا پہلے قافلہ ہو گا
صغیر ملال

رہِ طلب میں گرے ہوتے سر کے بل ہم بھی
شکستہ پائی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا
میر تقی میرؔ

ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
مجروح سلطان پوری

 

مشاعرہ "شعر گرد" کی روداد

طلسمِ خوابِ زلیخا و دامِ بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
عزیز حامد مدنی

ہم اہلِ ہجر کو صحرا ہی ایک رستہ تھا
اب اس طرف سے بھی خلقِ خدا گزرتی ہے
نصیر ترابی

عجیب شخص تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
عرفان صدیقی

آنا تھا ایک روز برا وقت آ گیا
لیکن یہ بات کیا ترے جانے سے جوڑئیے
کاشف حسین

مشاعرہ کے شرکاء کی تعداد گیارہ تھی اور انتظامیہ کی طرف سے گیارہ اشعار پیش کئے گئے۔ ہر شاعر نے دئیے گئے شعر ہی کی بحر و ردیف میں اشعار کہے اور خوب کہے۔

مشاعرے کے شرکاء کے نام
جناب علیم طاہر صاحب۔ انڈیا
جناب منور علی خان۔ پاکستان
جناب محمد رفیع اللہ صاحب۔ پاکستان
جناب محمد علی بٹ صاحب۔ پاکستان
جناب سید ندیم شاہ بخاری صاحب۔ پاکستان
جناب مختار تلہری صاحب۔ انڈیا
جناب محمد شاہین فصیح ربانی صاحب۔ پاکستان
جناب سرفراز مقدم صاحب۔ ساؤتھ افریقہ
جناب مسکین رائچوری صاحب۔ انڈیا
جناب ضیاء الاسلام ضیاء شادانی صاحب
جناب اشرف علی اشرف صاحب۔ پاکستان

whatsapp-image-2017-12-18-at-12-52-41-pm

یہ مشاعرہ اب تک کئے گئے ان مشاعروں میں شمار کیا جانا چاہیے جن میں شرکار اور سامعین نے بھرپور دل چسپی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ اس منفرد پروگرام کا سہرا چیئرمین توصیف ترنل کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کے سر بندھتا ہے جو کسی بھی ذریعہ سے پروگرام کا حصہ رہا۔ آخر میں توجہ منصفین کی جانب مبذول رہی اور تجسس انتہا کو پہنچا کہ آخر وہ کون خوش بخت ہوگا جسے “سخن شناس” ایوارڈ سے نوازا جاۓ گا۔ اعصاب شکن انتظار کے بعد منصفین نے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور کامیابی کا ہما جناب محمد شاہین فصیح ربانی صاحب کے سر جا بیٹھا۔ ہم سب کی جانب سے جناب محمد شاہین فصیح ربانی صاحب کو “سخن شناس” ایوارڈ ملنے پر دلی مبارک باد۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *