اردو افسانہ بہانہ خوبصورت

اردو افسانہ بہانہ خوبصورت

اردو افسانہ بہانہ خوبصورت

ازقلم: شیما نظیر

 ترسیل از: تسنیم فرزانہ

فرمانبرداری تو کوئی زین سے سیکھے ہر وقت ہرکام وقت پر کرنا، نماز کیلئے اٹھاؤ بلا تامل اٹھ جانا، کپڑے جوتے سلیقے سے رکھنا، اپنی چیزیں قرینے سے رکھنا، ‘اور بھی جانے کیا کیا کہتے ہوئے مسزعلیم اپنے دوسرے بچوں کی بے ڈھنگی سے پھینکی ہوئی چیزیں سمیٹ رہی تھیں۔ انکی پانچ اولادوں دو بیٹیوں اور تین بیٹوں میں تیسرے نمبر کا لڑکا تھا زین بڑا شجو، پھر صابرہ، بس نام کی ہی تھی باقی تو کسی بات پرصبر ہوتا نہی تھا اس سےتیسرا زین پھرچھوٹے عفی اورتمنا۔

ان سب کوسلمٰی بیگم ایک سلجھی ہوئی خاتون نے اپنی کم مائیگی کے باوجود بہترین تعلیم و تربیت دینے کی مکمل کوشش کی مگر کہتے ہیں نہ کہ آپ چاہیں کتنی بھی کوشش کرلیں مقدرات بھی کوئی چیز ہوتے ہیں۔ کوشش کے باوجود صرف دو ہی بچے بڑے فرمانبردار بن سکے۔ بچے چھوٹے سے بڑے ہوگئے مگر مجال ہے جو سدھرے ہوں سوائے زین اور تمنا کے، شجو بڑا بیٹا ایک فرم میں ابھی ابھی ملازم ہوا تھا۔ بس دن رات اسی میں لگا رہتا صابرہ کی گریجویشن مکمل ہوچکی تھی۔ اسکے لیئے رشتے ڈھونڈے جارہے تھے۔ گھر کے کسی کام میں ہاتھ بٹانے کیلئے وہ کئی کئی بہانے بناتی، عفی ابھی انٹرمیڈیٹ میں پڑھ رہا تھا۔

بالکل لا ابالی سا ذرا سا بھی گھرسنسار یا کسی کام سے دلچسپی نہیں، صرف تمنا جودسویں میں تھی ماں کا ساتھ دیتی گھر کے امور سنبھالنے میں اور زین بہت ہی خدمتگذار بچہ گھر کے تقریباً کام سنبھالے ہوئے تھا ہر روز سونے سے پہلے ماں کے قریب بیٹھتا انکے پیر دباتا اور گھر کی کچھ بھی معاملات ہوں اسپرڈسکس کرتا اور ماں کی ہمت بندھاتا۔

اردو افسانہ بہانہ خوبصورت

علیم صاحب تو نوکری سے ہی تھک جاتے تھے گھر آکر تھوڑا وقت محلے کے دوستوں میں گذارتے پھر شام کے کھانے کے بعد سوجاتے۔ ایسے میں دن بھر کی روداد سننے اور ماں سے بات کرنے والا صرف وہی ایک تھا۔ جہاں کہیں جاتا ماں کیلئے ضرور کچھ نہ کچھ لاتا ہر اوکیشن پر اپنی جیب خرچ سے ماں کیلئے تحفہ لانا۔ ماں کا خاص خیال رکھنا انکے کھانے کیلئے پھل وغیرہ لانا اور پھر ماں کی گود میں سر رکھ کر گھنٹوں اسلام سے متعلق معلومات شیئر کرنا اور جاننا یہی اسکا کام تھا ماں بھی دامن بھربھر کر دعائیں دیتے نہیں تھکتی تھی اپنے اس لال کو۔

کبھی سلمٰی جھوٹ موٹ غصہ کردیتیں تو کہتا امی معلوم ہے جب میں اس گھر سے چلاجاؤں گا آپکو چھوڑ کر تب یاد کرینگیں ماں کہتیں اے کہاں جائے گا۔ ارے بھئی شادی کے بعد اگر آپکو چھوڑ کر چلا گیا تو ماں پیار سے کان کھینچتی اور کہتی میں بھی دیکھتی ہوں تو کیسے جائے گا۔ اسی طرح شب و روز گذررہے تھے، پھرصابرہ کیلئے رشتہ آیا لڑکا بھی پڑھالکھا تھا اچھی کمپنی میں جاب تھی۔ گھر ذاتی تھا ان لوگوں نے رشتہ طئے کردیا۔

پھر زوروشور سے شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں اور اسی بیچ ایک دن رات کا کھانا کھاکرزین کہیں جانے لگا ماں نے پوچھا کہاں جارہا ہو کہنے لگا سرپرائیز ہے اور تمنا کے کان میں سرگوشی کرتا چلاگیا، لیکن دو گھنٹے تک واپس نہ آیا ماں بےچین ہوگئی فون پر فون کیا، بل جا رہی تھی لیکن کوئی اٹھانہیں رہا۔ دل بیٹھنے لگا سارا گھر سوچکا تھا تمنا کو نیند سے جگایا پوچھا زین کہاں جانے کا کہہ کر گیا ہے دو گھنٹے سے اوپرہوا ابھی تک آیا نہیں۔ تمنا نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا کہہ رہے تھے آج امی کی سالگرہ ہے ہر سال انھیں تحفہ دیتا ہوں آج پتہ نہی میں کیسے بھول گیا ابھی جاکر اماں کیلئے تحفہ لے آتا ہوں میرے آنے تک بتانا مت۔

بس اتنا ہی کہا امی سونے دو نا، پھر وہ گیلری میں ٹہلتی رہی رات گہری ہوتی جارہی تھی مگر اسے نہ آنا تھا وہ نہ آیا نماز پڑھ کے سلمٰی نے اپنے لختِ جگر کی سلامتی کی ڈھیروں دعائیں مانگ ڈالیں۔ صبح تک جاگتی رہی فجر پڑھ کر جائے نماز پر ہی آنکھ لگی رھی کہ سلمٰی کا فون بجا فون کی آواز سے سبھی جاگ گئے اس سے پہلے کہ سلمٰی فون ریسیو کرتی شجو کی نیند کھل گئی اور اسنے فون اٹھالیا۔

ہیلو ہاں جی … یہ میرے بھائی کا نمبر ہے زین …آپ کون بول رہے ہیں کیا!!!!!!!کہاں! !!! کب!!!! متعجب انداز میں کہا اور تیزی سے بستر سے اٹھ کر بھاگا اندر صابرہ سے کچھ کہا اور باہر چلاگیا، سلمٰی پوچھتی ہی رہ گئی

اسکا دل اب زور زور سے دھڑکنے لگا مانو پھٹ ہی جائے گا۔ بے چین بے قرارٹہلتی رہی پھر کچھ دیر بعد ایمبولینس رکی جس سے زین کی نعش کو لایا گیا زین کی نعش دیکھ کر سلمٰی بیگم سکتہ میں آگئی لگ رہا تھا آنکھیں سوکھی کھان ہوں بنا آواز بنا آنسو نہ ہل رہی تھیں نہ کچھ کہہ رہی تھیں۔ سب رشتہ دار آنے لگے سبکو اطلاع ہوئی اسکے بعد پولیس نے کارروائی پوری کرتے ہوئے ایک پیکٹ اسکی ماں کو تھمادیا اور کہا یہ گفٹ ہمیں ایکسیڈنٹ کی جگہ پر ملاہے اسپر لکھا ہے” فار مائے سویٹ موم ۔

یہ لیجئے اور وہ چلے گئے۔ اس تحفہ کو دیکھ بالکل بچوں کی طرح بے چین انداز میں اسے کھولا اسکے اندر ایک خوبصورت ساڑی کے علاوہ ایک کمر کو لگانے والا بلٹ تھا کیونکہ اکثر سلمٰی کی کمر میں درد رہتا تھا۔ اور زین جانتا تھا ماں کسی سے کچھ کہتی نہیں پر تکلیف میں ہے بس اسی تکلیف کو دور کرنے اس تحفہ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے شہر کے اس علاقہ تک پہنچ گیا جہاں سرجیکل اسٹورس ہوتے تھے۔ مگر رات کے وقت اس علاقہ میں بڑی گاڑیوں کی ریل پیل ہوتی تھی جنکے ڈرائیور اکثر کسی کو کچل کر بھی نکل جاتے تھے بس انہی میں سے کسی کی نظر ہوگیا تھا زین۔

اردو افسانہ بہانہ خوبصورت

سلمٰی کی چُپی ٹوٹی دل کا باندھ ٹوٹا تو آنکھوں کے راستے بھی بہنے لگا، اور کہتی جاتی میں نے کہا تھا مجھے کچھ نہیں ہوا ہے تجھ سے بات کرلوں تو میری کمر کیا سب درد ٹھیک ہوجاتے تھے۔ میں نے کب کہا لانے کو…کیوں زین، کیوں، کیوں گیا اور اس دنیا سے تُو گیا بھی تو کس بہانے ماں کیلئے تحفہ لانے کے بہانے، اچھا بہانہ ڈھونڈا رے……بہت خوبصورت بہانہ ہے تیری ماں تو تجھ سے راضی تھی۔

اے خدا تو بھی میرے اس بچے سے راضی ہوجا، میں کیسے جیوں یہ نہیں سوچا اور بھی جانے کیا کیا کہتی رہی مگر سب رشتہ داروں نے اسے سنبھالنے کی کوششیں کی مگر وہ بس روئے جارہی تھی زاروقطار اور بیان کرتی جاتی تھی۔ اب مجھ سے باتیں کون کرے گا میرے پاس بیٹھ کر میرے پیر کون دبائے گا۔ زین، کیوں چلاگیا بیٹا مجھ سے دور میں نے کبھی کچھ نہیں مانگا کسی سے کچھ نہیں مانگا پھر تو ہی میرا خیال کیوں رکھتا تھا اتنا میں نے کب کہا، اگر تجھے جانا ہی تھا تو میرا اتنا خیال کیوں رکھا تو نے کیوں زین میرے بچے میں کیسے بھولونگی تیری باتیں، تیری وہ معصوم ادائیں، تیرا ہر وقت جنت و آخرت کی باتیں کرنا۔ کیا اسی کا سبب تھا اے اللہ مجھے اٹھالیا ہوتا میرے بیٹے نے تو ابھی زندگی دیکھی ہی نہیں۔

پروردگارتجھے بھی اسکی ادائیں پسند تھیں اسی لیئے بلالیا اسے اور روتے روتے بےہوش ہوگئیں پھر کئی روز تک سنبھل نہیں پائیں حالانکہ زین کی تدفین عمل میں آچکی تھی مگر اب بھی وہ اسکی یاد میں بولائی پھرتی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *