Aur Hum Chup Hi Rahay By Dr S M Moueen Qureshi

      No Comments on Aur Hum Chup Hi Rahay By Dr S M Moueen Qureshi
Urdu inshaiya

اگر جج کے عہدے کیلئے ماہر نفسیات ہونا لازمی شرط قرار پائے تو ہر مجرم کو اس کی تحلیل نفسی کے بعد بظاہر’’قید بامسرت ‘‘کی سزا ملے گی لیکن در اصل وہ ’’قید با مشقت ‘‘سے زیادہ شدید ہو گی ۔مثلاً شرابی کو بھرے ہوئے جام دکھا کر دن بھر وقفے سے پانی پینے کی سزا جواری کو تاش کے پتوں کی ہوافراڈی کو اخلاقیات کا درس مسلسل ،بد عنوان اہلکاروں کی آج کل کی مزاحیہ شاعری اور آ وارہ گردو ں کو تابڑ توڑنے کی سزا ۔

اگر کوئی آدی مجرم اس کے باوجود بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو اسے بقراطی کالم نویسوں کی تحریریں پڑھ پڑھ کر سنائیں جائیں ۔تاہم ہمارا قومی شعور ابھی بلوغت کی اس منزل کو نہیں پہنچا ہے کہ جہاں ہم ایسی ’’مہذب‘‘سزاؤں پر انحصار کرسکیں ۔ہم تو دو ہی قسم کی سزائیں جانتے ہیں یعنی ۔۔قید محض اور قید با مشقت۔پہلی والی سزا کو محض کہنا دل بہلانے والی بات ہے اس لئےکہ ساتھ’’قیدی‘‘کی خدمت کیلئے جو مشقتی دیا جاتا ہے اصل میں اسے سزا دینا مقصود ہوتی ہے ۔

ترقی یافتہ ملکوں میں نفسیاتی سزائیں عام ہوتی جا رہی ہیں مثلاً چور کو کار میں بٹھا کر تفریحی مقامات کے دروازوں کے سامنے سے گزارا جاتا ہے اور پھر آرام دہ کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے ۔پیغام یہ ہوتا ہے کہ دیکھو،اگر آزاد ہوتے تو تم بھی ان تفریحات سے لطف اندوز ہوتے۔گزشتہ دنوں آسٹریلیا سے ایک نہایت عبرت ناک انگیز نفسیاتی سزا کی خبر آئی ۔وہاں کی ایک عدالت نے ایک عورت (امسماۃ بونی )کو اپنے سگے شوہر (مسٹر ایوان گو سیج )کے ساتھ دھول دھپا اور گالم گلوچ کرنے کے جرم میں ایک سال تک خاموش رہنے کی سزا سنائی گئی ۔

Urdu inshaiya

جج نے اپنے فیصلے میں اس سزا پر عمل درآمد کا طریقہ بھی واضح کر دیا ہے جس کے مطابق مجرمہ کے منہ پر سال بھر پٹی بندھی رہے گی جسے وہ صرف کھانے پینے اور دانتوں پر برش کرتے وقت اتار سکے گی ۔اس کا شوہر وقتاً فوقتاً عدالت کو مطلع کرتا رہے گا کہ اس سزا پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے ۔

اب آپ خود غور فرمائے کیا کسی عورت کیلئے اس سے بڑی اور اس سے کڑی کوئی سزا ہو سکتی ہے کہ اس کا منہ محارتاً نہیں بلکہ حقیقتاً بند کر دیا جائے ؟اس سے تو بہتر تھا کہ اُس بے چاری کو ہماری طرح قید میں ڈال کے بھول جاتے ۔کم از کم وہ بولنے کی آزادی سے محروم نہ ہوتی۔عجب بات ہے کہ آسٹریلیا میں حقوق انسانی کے علمبرداروں اور عورتوں کی تنظیموں نے خاموشی کی اس سزا پر کیسے خاموشی اختیار کر لی۔

اس لئے کہ اگر بولنا انسان کا پیدائشی حق ہے تو بہت بولنا ہر عورت کا بنیادی حق ہے ۔بعض عورتوں کا بغیر بولے کھانا ہضم نہیں ہوتا اور بعض کو بغیر بولے بھوک نہیں لگتی۔شوہروں کو جو عرف عام میں مظلوم کہا جاتا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بیوی کی سن سن کے بے چارے کے کان سن ہو جاتے ہیں۔

Urdu inshaiya

بولنے کے معاملے میں عورتوں کو کئی اعتبار سے مردوں پر فوقیت حاصل ہے مثلاً مرد صرف کسی معینہ موضوع پر بول سکتے ہیں ،عورت کیلئے موضوع کی شرط نہیں ۔موضوع ان کے سامنے شوہروں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں اور وہ ہر موضوع کے ساتھ شوہروں والا سلوک کرتی ہے یعنی کبھی اسے چڑھاتی ہے کبھی گراتی ہے اور کبھی خود اس سے پوچھتی ہیں ۔۔بول تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟

مرد عموماً بے وقت نہیں بولتے جبکہ عورتیں وقت کی پابندی سے بھی آزاد ہیں ،اکثردیکھنے میں آیا ہے کہ جو خواتین اپنےشوہروں کے ساتھ صبح کی واک پہ نکل تی ہے وہ ٹانگوں کے ساتھ ساتھ زبان کی ورزش بھی کرتی ہے ۔شوہر نامدار خاموشی سے سنتے چلے جاتے ہیں اگر کچھ سناتے ہیں تو دفتر جا کر ماتحتوں کو یا مختلف کاموں سے آنے والی عوام کو ۔

اس طرح زبان کو ہلانے جلانے کے بعد موصوف شام کو جب گھر لوٹتے ہیں تو پھر سے’’سُنی ‘‘ہو جاتے ہیں۔جو شوہر یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کی بیوی بھی کبھی کبھار اسے سنے تو اسے چاہیئے کہ کہ وہ بیوی کے سامنے کسی دوسری عورت سے بات کرے ۔موصوفہ نہ صرف سنیں گی ،سنا ہوا یاد رکھیں گی بلکہ اسے بنیاد بنا کر جب چاہیں گی داخلی محاذ کھول کر شوہر کا منہ بند کر دیں گی۔

ہماری بیگم دوسری عورتوں کی طرح بولتی تو ہیں لیکن درمیان میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنا یہ عہد بھی تازہ کرتی رہتی ہے۔۔’’میں نے تو اب فیصلہ کر لیا ہے کہ بالکل خاموش رہوں گی۔تم سے بات کرنا تو بھینس کے آگے بین بجانا ہے۔‘‘بے چاری بھینس ان کے اس با برکت فیصلے پر ذرا اطمینان کا سانس لیتی ہے کہ وہ پھر سے بین سنبھال لیتی ہیں ۔

Urdu inshaiya

بچوں کی شرارتیں ،ملازموں کی حکایتیں ،عزیز و اقارب کی چشمکیں،ان سب کا بیان جو ناشتہ پر ادھورا رہ جاتا ہے اس کا ٹوٹا ہوا سلسلہ شام کو ہمارے گھر لوٹتے ہی دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ایک روز ہم نے بصد احترام ان سے عرض کیا کہ جوتے موزے اتارنے اور کپڑے اتارنے کی مہلت دے دیا کریں۔اس کے بعد بقول داغ
پھر نہ رکیے جو مد عا کہیئے
ایک کے بعد دوسرا کہیئے

کچھ نیکی کے موڈ میں تھیں فوراً مان گئیں۔دوسرے دن ہم کام کی زیادتی پر ذرا دیر سے گھر آئے ۔ہم ابھی تک اپنے کمرے میں نہیں پہنچے تھے کہ باورچی خانے سے آواز آئی ’’آج دیر سے آئے ہو بس جلدی سے کپڑے وغیرہ تبدیل کر لو مجھے تم سے ایک دو اہم باتیں کرنی ہیں بلکہ ہو سکے تو پہلے ذرا ادھر آ جاؤ۔اور یوں یہ معاہدہ افغان مجاہدین کے متحارب گروپوں کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدوں کی طرح بودا ثابت ہوا۔

حضرت دل گیر کا کہنا ہے کہ ان کی بیگم تمام دن بولتی رہتی ہیں لیکن محوِخواب ہونے سے چند منٹ قبل بولنا بند کر دیتی ہیں ۔اس لئے نہیں کہ ان کے پاس بولنے کیلئے نہیں رہتا یا نیند کا غلبہ ہو جاتا ہے بلکہ اس لئے کہ دن بھر بولتے بولتے منہ تھک جاتا ہے تو خود بخود بند ہو جاتا ہے ۔ہم نے ان سے پوچھا ’’آپ کی سمجھ میں کچھ آتا ہے ،وہ کیا کہتی رہتی ہیں؟بولے۔

کچھ بھی نہیں اس لئے کہ ان کے بولنے کی رفتار میرے سننے کی رفتار سے کئی گنا زیادہ ہے ۔‘‘ہم نے کہا’’تمہارا مطلب ہے وہ ریل کی رفتار سے بولتی ہیں اور تم اونٹ کی رفتار سے سنتے ہو؟‘‘کہنے لگے’’نہیں اس کا الٹ ہے۔آج کل اونٹ ٹرینوں سے زیادہ تیز رفتار ہیں۔‘‘گفتگو کی حد تک خواتین اپنے آپ کو ہر فن مولا سمجھتی ہیں۔مسئلہ کھانا پکانے کا ہو یا مکان کی تعمیر کا ۔

الیکٹریشن کا کام ہو ،پلمبر کا ہو یا بڑھئی کا ۔گھر کو ئی فرد بیمار ہو یا کسی کو کاروباری مسئلہ درپیش ہو تو خاندان خانہ ہر معاملے میں اپنی رائے ضرور دے گیں اور اسے ماننے پر اصرار بھی کریں گی ۔جب ان کے مشورے پر کوئی کام الٹ جائے تو دامن جھٹک کر الگ ہو جائیں گی کہ میں نے یوں تھوڑی کہا تھا۔
ہماری بیگم نے ایک کرشماتی چورن بنا رکھا ہے جس کے فضائل گنوا کر وہ ہر بیماری میں مریض کو چمٹے کی نوک پر استعمال کرواتی ہیں۔

قبض کی حالت میں اسے گرم دودھ میں گھول کر پلاتی ہے اور اسہا ل میں ٹھنڈے یخ شربت فالسہ کے ساتھ ۔بھوک نہ لگتی ہو تو خشک چٹکی پانی کے ساتھ پھانکنے پر مجبور کرتی ہے اور چکر آ رہے ہو تو وہی چٹکی عرق گلاب میں ملا کر چٹائیں گی۔

Urdu inshaiya

بعضے مریضوں کو بلد پریشر کا مرض قرار دے کر اسی چورن سے ’’بزور کفگیر‘‘اس کا علاج کرتی ہیں۔جب مرض باقی رہتا ہے اور مریض ہاتھ سے نکلتا نظر آتا ہے تو اس کے ساتھ اتنی رعایت ضرور کرتی ہے

کہ خود اسپتال لے کر جاتی ہے لیکن چورن کی ڈبیا ساتھ لےجانا نہیں بھولتیں۔ وہاں مریض کو سر درد تشخیص ہوتا ہے ۔یہ مریض کو چائے کے ساتھ چورن کھلانا چاہتی ہیں لیکن اس سے پہلے ڈاکٹر اسے انجکشن لگا کر سلا دیتا ہے ۔
آسٹریلیا کے ایوان گوسیج نے بونی کو خا موشی کی سزا دلوا کر پوری مرد برادری پر احسان کیا ہے ۔

ہم یہ چاہیں گے کہ ایسی کم خرچ بالا نشین ٹائپ کی سزائیں وطن عزیز میں بھی رائج کی جائیں۔بڑے بڑوں کے ہوش نہ ٹھکانے آ جائیں تو جو ٹیکس چور کی سزا وہ ہماری سزا یعنی ٹی وی کا خبر نامہ دیکھنا جس کے بارے میں حیدر حسین جلیسی نے کیا خوب کہا ہے

جھوٹ سے مرا دل بہلتا ہے
جب بھی چاہوں میں بول لیتا ہوں
آرزو ہو جو جھوٹ سننے کی
نو بجے ٹی وی کھول لیتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *