آج کی شخصیت اردو شاعری کا شہابِ ثاقب اطہر نفیس صاحب

آج کی شخصیت اردو شاعری کا شہابِ ثاقب اطہر نفیس صاحب

انتخاب: مہر خان

کنور اطہر علی خاں کی پیدائش علی گڑھ کے قصبہ پٹل کے ایک معزز خاندان میں22 فروری سنہ 1932کو ہوئی تھی۔ ان کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہی ہوئی۔علی گڑھ کے قصبہ پٹل سے ہجرت کر کے وہ سنہ 1949میں کراچی چلے گئے تھے او روہاں مشہور اخبار ” جنگ “ کے انتظامی شعبے سے وابستہ ہوئے او رترقی کر کے چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر پہنچے۔

اطہر نفیس نے ایک منفرد شاعر کی حیثیت سے ادب میں اپنا مقام بنایا۔ اطہر نفیس کو کم وقت ملا اور صرف 47برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی زندگی میں تو ان کا شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا لیکن انتقال کے بعد احمد ندیم قاسمی نے اسے”کلام“ کے نام سے شائع کیا۔کم عرصے میں ہی انہوں نے اپنی منفرد آواز کے نقوش چھوڑے۔

اطہر نفیس صرف شاعر نہیں بلکہ صحافی بھی تھے۔ انہوں نے پاکستان کے مشہور اخبار ”جنگ“ میں کالم اور حالاتِ حاضرہ پر مضامین بھی لکھے۔ لیکن اطہر نفیس پر اس اخبار میں انتظامی ذمہ داریاں بھی تھیں ا س لیے وہ لکھنے، پڑھنے پر بہت زیادہ وقت نہیں دے سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ اطہر نفیس کے اندر ایک منفرد شاعر موجودتھا۔ جس کی فکر الگ تھی، محسوسات الگ تھے، سوچنے کا انداز الگ تھا اور ادائیگی بھی الگ تھی۔ وہ منفرد اسلوب کے مالک تھے۔ ان کے احساسات ہی نہیں، لفظیات بھی الگ تھیں اور انہوں نے اپنے احساسات کا اظہار بھی الگ انداز میں کیا ہے۔

اب میری غزل کا بھی تقاضا ہے یہ تجھ سے
انداز و ادا کا کوئی اسلوب نیا ہو

یا پھر اپنی انفرادیت کا احساس وہ کچھ یوں دلاتے ہیں
ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
بے جذبہٴ شوق سنائیں کیا کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا

اطہر نفیس جس دور میں شاعری کر رہے تھے اس زمانے میں کئی ایسے شعرا موجود تھے جو اپنے اسلوب کے لحاظ سے منفرد انداز رکھتے تھے۔ ان میں ا ن سے فیض احمد فیض، منیر نیازی، حبیب جالب وغیرہ تھے تو ہم عصروں میں ابن انشا،مصطفیٰ زیدی، شکیب جلالی، اقبال ساجد اور عزیز حامدمدنی وغیرہ تھے۔ لیکن اطہر نفیس نے ان کے درمیان سے ایک نئی راہ نکالی۔ ان کے یہاں بہت سادگی ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام اہم گلوکاروں نے ان کی غزلوں کو اپنی آواز دی ہے۔ کیوں کہ یہ اشعار بہت آسانی سے سامعین کے ذہن میں اتر جاتے ہیں اور دل پر اثر کرتے ہیں۔

ان کی مشہور غزلوں میں

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں کوئی سچا شعر سنائیں کیا
اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تادیر اسے دہرائیں کیا
وہ زہر جو دل میں اتار دیا پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا
اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا
پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں یہ شمعیں بجھنے والی ہیں
ہم خود بھی کسی سے سوالی ہیں اس بات پہ ہم شرمائیں کیا
ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے، ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا، کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا

اطہر نفیس کی اس غزل میں جو کیفیت موجود ہے اس کی تفسیر بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کے غزلیات میں کوئی مشکل لفظ کم ہی آتا ہے۔ جو ترسیل میں دشواری پیدا کرے۔ اس لیے اطہر نفیس کا ہر شعر اپنی کیفیت خود بیان کر دیتا ہے۔

در اصل اطہر نفیس صرف ایک حساس شاعر ہی نہیں، صحافی بھی تھے اور انہوں نے چیزوں کو ان کی جزئیات کے ساتھ دیکھا اور پرکھا ہے۔ اس لیے جب وہ انہیں اشعار میں بیان کرتے ہیں تو ان کی لفظیات تبدیل ضرور ہو جاتی ہیں لیکن ان کے پرکھنے کا انداز نہیں بدلتا

تو ملا تھا اور میرے حال پر رویا بھی تھا
میرے سینے میں کبھی اک اضطراب ایسا بھی تھا
زندگی تنہا نہ تھی اے عشق تیری راہ میں
دھوپ تھی، صحرا تھا اور اک مہرباں سایہ بھی تھا
عشق کے صحرا نشینوں سے ملاقاتیں بھی تھیں
حسن کے شہر نگاراں میں بہت چرچا بھی تھا
ہر فسردہ آنکھ سے مانوس تھی اپنی نظر
دکھ بھرے سینے سے ہم رشتہ مرا سینہ بھی تھا
تھک بھی جاتے تھے اگر صحرا نوردی سے تو کیا
متصل صحرا کے اک وجد آفریں صحرا بھی تھا

یا پھر یہ غزل لے لیجئے، جس کے اندر ایک اضطراری اور اضطرابی کیفیت کروٹیں لے رہی ہے

پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو
اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو
اب دل میں سرِ شام چراغاں نہیں ہو تا
شعلہ مرے دل کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو
کب عشق کیا کس سے کیا جھوٹ ہے یارو
بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو

اطہر نفیس کے یہاں عصری مسائل تو موجود ہیں ہی جن کو انہوں نے اپنے احساسات میں تپا کر نیا اسلوب بخشا ہے، لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے تصوف کے مسائل بھی بیان کیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا معرفت سے گہرا لگاؤ تھا۔ احمد حسین صدیقی ’دبستانوں کا دبستان کراچی‘ میں لکھتے ہیں کہ اطہر نفیس کو بابا ذہین شاہ تاجی سے بے حد عقیدت تھی۔ مذہب سے بھی ان کا گہرا لگاؤ تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *