Aslam Banarsi Interview By Touseef Turanal

Aslam Banarsi Interview

اسلم بنارسی صاحب کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: توصیف ترنل

س: لفظوں سے رشتہ کب جڑا؟
اسلم بنارسی: لفظوں سے میرا رشتہ تقریباً 40 سال پہلے جڑا کیونکہ میرے استادِ محترم جو مجھے اردو پڑھاتے تھے وہ خود بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ اسے میں شعر نہیں کہوں گا۔ کیونکہ یہ خارج از بحر ہے، ہاں مگر جب میں نے اسے کہا تھا تو شعر سمجھ کر ہی کہا تھا، وہ یوں ہے۔
نامِ خدا کو لیکر چھوڑا ہے کشتی اب
طوفان تلاطم ساحل سب مل کے دغا دیجے

س: والدین کو جب پتہ چلا کہ ان کا صاحبزادہ شاعری کرتا ہے تو انکا ردعمل کیا تھا؟
اسلم بنارسی: والدہ محترمہ تو ہمیشہ والد صاحب سے چھپاتی تھیں، لیکن ایک روز والد محترم کو شک ہوا کہ یہ اتنا ہوم ورک لکھتا ہے۔ آخر بات کیا ہے اور میں ہوم ورک کے بہانے اپنے ٹوٹے پھوٹے خیالات بطور شاعری لکھتا رہتا تھا، اک روز میں لکھ ہی رہا تھا کہ والدِ محترم اچانک آئے اور مجھ سے کہا کے اپنی کتابیں اور کاپیاں مجھے دو۔ کیونکہ ان دنوں شاعری کرنا بڑا عیب سمجھا جاتا تھا، اسلئے میں مار کھانے کے خوف سے بیحد ڈر گیا مگر کرتا بھی کیا سب کاپی کتابیں میں نے دیدی۔

وہ ایک ایک ورق پلٹ پلٹ کر دیکھنے لگے، جب دیکھ لیا تو میری جانب غضب کی نظروں سے دیکھا اور کہا کہ یہی تمہارا ہوم ورک ہے شاعری کرتے ہو، شاعر بننا چاہتے ہو، زندگی خراب کرنا چاہتے ہو، میں ڈرا سہما خاموش بیٹھا رہا، پھر میری والدہ سے برہم ہوکر بولے، تم سب چھپاتی رہتی ہو، میری والدہ نے بھی ایک چپ سو سکھ، پھر والدِ محترم نے مجھے اک لکڑی سے بہت مارا، اتنا مارا کہ مارنے کے بعد خود بھی رونے لگے۔ پھر میں والد محترم کے خوف سے اپنے مکان کی چھت پر جاکر چھپ چھپ کے لکھتا تھا، اور جس کاپی پر لکھتا تھا، وہ اوپر چھت پر ہی ایک جگہ چھپا دیا کرتا تھا۔

س: آپکا قلمی اسلم بنارسی ہے اس نام کو رکھنے کی کوئی خاص وجہ؟
اسلم بنارسی: میرا قلمی نام اسلم بنارسی ہے۔ اسلم اسلئے ہے کہ میرے دادا بزرگوار مجھے ہمیشہ محمد اسلم پکارا کرتے تھے۔ جبکہ میرا اصلی نام والدِ محترم کا عطا کردہ، عمران قوی، ہے اسلئے میں نے اپنے دادا بزرگوار کے عطاکردہ نام کوہی اپنا تخلص بنا لیا بنارسی اسلئے ہے کہ میرا شھر بنارس ہے۔

Aslam Banarsi ghazals

س: کیا کبھی کسی سے اصلاح لی؟ کس شاعر کو خود کے لیے زیادہ موثر سمجھتے ہیں؟
اسلم بنارسی: اصلاح کے لئے میں اپنے استادِ محترم مرزا صاحب کا نام سب سے پہلے لوں گا کیونکہ انھوں نے ہی مجھے اردو پڑھایا اور وہ بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ لیکن میری بد نصیبی یہ کہ جن دنوں میں اصلاح کے لئے سوچنے پر آمادہ ہوا، اس سے پہلے ہی میرے استادِ محترم کا انتقال ہو چکا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں کس کے پاس جاؤں کیونکہ یہ بھی خوف تھا کہ میرے والدِ محترم کو کسی طرح کچھ پتہ نہ لگ جائے۔ مگر دل میں یہ خیال تھا کہ غالبؔ بہت بڑے شاعر تھے پھر وہیں سے میں نے دیوانِ غالبؔ پڑھنا شروع کر دیا۔ الله کا عظیم کرم ہے کہ میں دیوانِ غالبؔ پڑھ پڑھ کر شاعر ہوا۔ اور میں انکا بہت بڑا مداح ہوں، یوں سمجھ لیں کہ میں مداحِ غالبؔ ہوں

س: شاعری کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے شاعری کیا ہوتی ہے ؟ شاعری کا ذاتی زندگی پر کوئی مثبت یا منفی اثر اگر پڑا ہو تو؟
اسلم بنارسی: شاعری اک خداداد صلاحیت اور نعمت ہے۔ جس سے پروردگارسب کو نہیں نوازتا، شاعری کا ذاتی زندگی پر کوئی مثبت یا منفی اثر ہونے کا جہاں تک سوال ہےتو اس کے لئے میں یہی کہونگا کہ جب میری زندگی ہی شاعری ہے تو پھر مثبت کیا اور منفی کیا، کیونکہ آج بھی میں ساری رات مطالعہ کرتا ہوں، اشعار کہتا رہتا ہوں، یا اگر شاگردوں نے کچھ کہا ہے تو انکے کلام کی اصلاح کرتا ہوں، غرض یہ کہ زندگی قرطاس و قلم ہے۔

س: کیا طنز و مزاح سے لگاؤہے؟اور کیا کبھی شاعری کے علاوہ نثر میں کچھ لکھا؟
اسلم بنارسی: طنزومزاح کو پسند کرتا ہوں۔ ہاں بہت ساری کتابوں کے پیش لفظ لکھے مضامین لکھے، سال 2016 میں دو کتابیں میرے نام انتساب کی گئیں، جس میں ایک کتاب کا نام خواب خواب چنگاری ہے، جو شمیم انجم وارثی صاحب کی ہے شاعر شمیم انجم وارثی کا تعلق کلکتہ، انڈیا سے۔ دوسری کتاب شاعر جنابِ وقیع منظر صاحب کی ہے جنکا تعلق مغربی بنگال آسنسول ، انڈیا سے ہے۔ یہ دونوں مجموعۂ کلام غزلیات، رباعیات و دیگر اصنافِ سخن پر مشتمل ہیں۔ اوراک بات یہیں کہتا چلوں کہ میری بھی کئی کتابیں اشاعتی مراحل میں ہیں۔ لیکن ابھی تک میری کوئی کتاب منصۂ شہود پر نہیں آئی۔ انشاءاللہ بہت جلد آجائے گی۔

س: موجودہ دور کی شاعری سے کس حد تک مطمئن ہیں؟ حالات حاضرہ کے شعرا میں آپکی پسند کا شاعر؟
اسلم بنارسی: شاعری بساط اور دسترس کی چیز ہے شاعری آج سے پہلے کے شعراء کو فکر، بیان، زبان پر جتنی دسترس جس جس کو تھی، ویسی انکی شاعری تھی، آج کے شعراء کو فکر، بیان، زبان پر جتنی دسترس ہے ویسی انکی شاعری ہے، آنے والے زمانے میں بھی جس شاعر کو جیسی دسترس رہے گی، ویسی شاعری رہے گی۔

حالاتِ حاضرہ کے شعراء میں میری پسند کے یوں تو کئی شاعر ہیں، لیکن ان میں بھی خصوصی دو نام ہیں۔ پہلا نام فرحت عباس شاہ کا اور دوسرا نام جنابِ شوزیب کاشر کا۔ ان دونوں کے یہاں فکر بہت اچھی اورالگ ہے، اس لئے یہ دو میرے پسندیدہ ہیں۔

س: کسی ادبی گروہ سے وابستگی؟ اردو ادب کی ترویح و ترقی کے لیے جو کام ہو رہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟
اسلم بنارسی: کس کس ادارہ اور تنظیم کا نام لوں، کتنے ادارے تو میرے ہی قائم کردہ ہیں۔ جن میں کچھ بند بھی پڑے ہیں اور کچھ رواں دواں بھی ہیں یوں سمجھ لیں کہ ان اداروں سے لیکر انٹر نیٹ اور فیس بک، واٹس ایپ کی دنیا تک سینکڑوں سے ذائد اردو ادبی اداروں، فورم، گروپس، سے وابستہ ہوں۔

س: محبت کے بارے میں کچھ بتائیے کیا آپ نے کبھی محبت کی ؟ کیا شاعر ہونے کے لیے محبت ضروری ؟
اسلم بنارسی: ضرور کی ہے اور شاعریہی تو پہلی محبت ہے۔ میرا اک بڑا سادہ سا شعر ہے
محبت ہے خدا، پھر تو یہی ہے مشورہ میرا
محبت میں جیا کرنا، محبت میں مرا کرنا

س: جہاں سوشل میڈیا نے نئے لکھنے والوں کے لیے سہولیات دی ہیں وہاں پرکتب سے دوری بھی دی ہے۔ آپکے خیال میں وہ کتابوں کا دور ٹھیک تھا یا حال ٹھیک ہے؟ کتابوں سے محبت کا کوئی ذریعہ ؟
اسلم بنارسی: دیکھئے کتابیں تو صفِ اول ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا نے آج جو مواقع فراہم کیے ہیں اس سے اردو زبان کا اتنا بڑا فائدہ ہے کہ کیا کہوں۔ تفصیل میں جاؤں تو بہت وقت لگ جائے گا اسلئے اتنا ہی کہوں گا کہ اس ترقی یافتہ دور کی پہلی ضرورت سی بن گیا ہےسوشل میڈیا۔

Aslam Banarsi ghazals

س: کس بحر میں غزل پسند ہے؟ آپ کا اپنا کوئی پسندیدہ شعر؟
اسلم بنارسی: بحور تو بہت ساری پسند ہیں خواہ وہ سالم ہوں، مرکب ہوں، مزاحف ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اک شعر میرا بالکل تازہ شعرہےسن لیں
تجھ کو صدیاں نہاریں گی احساس
میرے شعروں میں ڈھل سلیقے سے
س: پہلی ملاقات میں سامنے والی شخصیت میں آپ کیا دیکھتے ہیں؟
اسلم بنارسی: یہ دیکھتا ہوں کہ اس آدمی کا مزاج چاپلوسی والا تو نہیں ہے۔
س: غالب کے بارے میں آپکی رائے؟
اسلم بنارسی: غالبؔ کے بارے میرا مزاج یہ ہے۔ بابائے شاعری، شہنشاہِ غزل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *