Arwa Sajal Beautiful Ghaazls

      No Comments on Arwa Sajal Beautiful Ghaazls
Arwa Sajal poetry

دیواروں سے باتیں کر کے دیکها ہے 

دیواروں سے باتیں کر کے دیکها ہے
تنہائی سے یوں بھی لڑکے دیکھا ہے

دل بجھ جائے گر تو سب کچھ بے معنی
شکوے،منت سب کچھ کر کے دیکھا ہے

اشکوں میں بهی تری صورت لرزاں ہے
میں نے اپنی آنکهیں بهر کے دیکها ہے

سارے خوف نہاں ہوتے ہیں مرے تب
جب جب اپنے رب سے ڈر کے دیکها ہے

عشق سمندر میں جو ڈوبا، ڈوب گیا
اس نگری کے پار اتر کے دیکها ہے

کیا لاگے ہے کملے دل کو منزل سے
سر قدموں میں اپنا دهر کے دیکها ہے

کم لگتی ہیں سانسیں اپنی اروی اب
جب سے میں نے تم پہ مر کے دیکه

Arwa Sajal Love Poetry

Arwa Sajal poetry

لو آخر ہو گئی— ہم کو محبت

لو آخر ہو گئی— ہم کو محبت
کہے اب جو یہ دنیا،سب عبث ہے

زمانے بهر کو دیکها ہے پرکھ کر
وفا جز اپنی ہستی،سب عبث ہے

یہ رم جهم، سرمئی شام اور کافی
تمهارے بعد رنگ،رت سب عبث ہے

تمہی کو سوچنا،تجھ میں سمٹنا
تری باہوں سے باہر سب عبث ہے

مسافت میں مزہ ہے زندگی کا
سفر بن منزل،مرادیں سب عبث ہے

Arwa Sajal poetry

Arwa Sajal Urdu Poetry

ناموس محبت نے روکا

ناموس محبت نے روکا
ہم تجهکو بهلا دیتے ورنہ

اعجاز محبت کا تها بهرم
ہم خود کو گنوا دیتے ورنہ

آندهی میں بهی جلتی ہی رہی شمع
یہ زیست بجها دیتے ورنہ

کچهہ اور سجهائی ہی نہ دیا
تم کو نہ صدا دیتے ورنہ

تم اہل عقل ہم عشق و جنوں
تم کیا جانو رمز عشاق

خود ہی نہ سمجهنا چاہے تم
ہم تم کوسکها دیتے ورنہ

تم خود ہی بنے اہل کوفہ
ہم پیاس بجها دیتے ورنہ

Arwa Sajal Ghazals

کیا بہانہ بہت ضروری ہے؟

کیا بہانہ بہت ضروری ہے؟
تیرا جانا بہت ضروری ہے؟

اشک پونچهو گے تم نہیں میرے
پهر رلانا بہت ضروری ہے؟

تم سے الفت ہے جانتے ہو نا
کیا جتانا بہت ضروری ہے؟

Arwa Sajal poetry

تم خفا ہو تو سانس رکتی ہے
یوں ستانا بہت ضروری ہے

دور جا کر بسنے والے سن!
تیرا آنا بہت ضروری ہے

عشقا سوہنے! ایک بات بتلا
کیا مٹانا بہت ضروری ہے

ہر غزل کا پیراہن ہے تو
گنگنانا بہت ضروری ہے

تیری مٹهی میں میری سانسیں ہیں
یہ بتانا بہت ضروری ہے

تم ہی بستے ہو اس کے اندر تم
دل دکهانا بہت ضروری ہے؟

Arwa Sajal Sad Urdu Poetry

غم زندگی تری داستاں کچھ اس طرح سے طویل ہے

غم زندگی تری داستاں کچھ اس طرح سے طویل ہے
تری الجهنیں میں لکھ سکوں یہاں وقت اتنا قلیل ہے

کیا برا کیا  جو چاہ کی،ہوا جرم کیا جو سزا ملی
ہیں محبتوں کے امین ہم،ہے گواہ کوئی نہ وکیل ہے

یہاں عشق کی ہے سزا کڑی،نہ سمجھ سکے کوئی صدق دل
کہے عاشقوں کو جو نامراد،یہ زمانہ ایسا بخیل ہے

سنو! زیست اپنی ہے بے مزہ،ہوا جب سے دور تو بے نوا
تجهے کیا خبر ترا رابطہ،مری زندگی کی دلیل ہے

مری چشم نم میں اے الم نواز! ترا عکس ہے کبهی جهانک لے
مری روح تلک ہے رچا بسا،تو ایسا میرا خلیل ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *