انجمن اربابِ فکروفن کویت کے عہدیداران اور شعرا کرام کے اعزاز میں شعری نشست کا انعقاد

kuwait-mushaira

انجمن اربابِ فکروفن کویت کے عہدیداران اور شعرا کرام کے اعزاز میں شعری نشست کا انعقاد

کویت میں مقیم معروف شاعر عماد بخاری نے اپنی رہائش گاہ پر انجمن اربابِ فکروفن کویت کی تشکیلِ نو کے بعد نئے منتخب ہونے والے صدر بدر سیماب، جنرل سیکرٹری سید صداقت علی ترمذی ، چیئرمین خالد سجاد احمد اور انجمن کے دیگر شعرا کرام کے اعزاز میں شعری نشست کا اہتمام کیا۔ جس کی صدارت بین الاقوامی شہرت کے حامل شاعر جناب خالد سجاد احمد نے فرمائی۔ جبکہ مہمانانِ خصوصی میں انجنیئر اشرف ضیا، لیاقت علی بٹ، اور فاروق گھمن کے نام شامل ہیں۔ شعری نشست کی نظامت نوجوان شاعر اور انجمن اربابِ فکروفن کویت کے جنرل سیکرٹری سید صداقت علی ترمذی نے کی۔ تمام شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا اور خوب داد وتحسین حاصل کی۔ صاحبِ صدارت جناب خالد سجاد احمد نے ایک خوبصورت نشست کے اہتمام پر میزبان عماد بخاری کا شکریہ ادا کیا اور مبارکباد بھی پیش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی نشست میں تمام شعرا نے اپنا بہترین کلام پیش کیا۔ جس پر تمام شعرا کرام مبارکباد کے مستحق ہیں۔ صدر انجمن اربابِ فکروفن کویت جناب بدر سیماب نے کہا کہ ان شاءاللہ انجمن کے پلیٹ فارم سے مستقبل میں مزید ایسی محافل کا انعقاد ہوتا رہے گا۔ جنرل سیکرٹری انجمن اربابِ فکروفن کویت سید صداقت علی ترمذی نے کہا کہ ہم انجمن اربابِ فکروفن کویت کے بینر تلے اور تمام ممبران کے تعاون سے انجمن کو مزید فعال بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انجمن میں شعرا کرام کے علاوہ اصنافِ ادب سے تعلق رکھنے والے دیگر قلمکاروں کو بھی شمولیت کی دعوت دیں گے۔ جس سے نہ صرف انجمن کا دائرہ کار مزید وسیع ہوگا۔ بلکہ وہ اردو ادب کی ترویج میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ میزبان کی جانب سے تمام شرکاءکے لئے پُر تکلف عشاےئے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ شعری نشست میں شرکت کرنے والے شعرا میں خالد سجاد احمد، بدر سیماب، ظہیر مشتاق رانا، عماد بخاری، سید صداقت علی ترمذی، خضر حیات خضر، اقبال ساحر، ذوالفقار ارشد ذکی، اور یاسین سامی کے نام شامل ہیں۔
نمونہ کلام
سروں پہ رات جو آئی ہمیں خیال آیا
ابھی چراغ ہمیں اور بھی جلانے تھے
میں اُس سے اُس کا پتہ پوچھ کر بھی کیا کرتا
ہوا کے اپنے بھلا کونسے ٹھکانے تھے
خالد سجاد احمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس رستے میں دھول بہت ہے
اس رستے کے بعد ملیں گے
کچھ عرصہ تو سوچنے دو نا
کچھ عرصے کے بعد ملیں گے
بدر سیماب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقامِ ربط کے زینے وہ جلد بازی میں
اتر تو جائے گا لیکن اتر کے روئے گا
اسے تو صرف بچھڑنے کا دکھ ہے اور مجھے
یہ غم بھی ہے وہ مجھے یاد کر کے روئے گا
ظہیر مشتاق رانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھوپ میں جو درخت ہوتے ہیں
وہ مسافر کا بخت ہوتے ہیں
ہاتھ میرا جھٹک کے اس نے کہا
اس طرح لخت لخت ہوتے ہیں
عماد بخاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احباب کے مارے ہیں ، مقدر کے نہیں ہم
گھر گرچہ ہمارے ہیں مگر گھر کے نہیں ہم
ہم مل تو نہیں سکتے مگر ساتھ چلیں گے
دریا کے کنارے ہیں ، سمندر کے نہیں ہم
سید صداقت علی ترمذی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرض و منت رہِ وفا کیسی
پیار کرنے میں التجا کیسی
مستیاں نگاہوں کی کچھ ملا کے ساغر میں
جام لے کے آ ساقی میکشی کا موسم ہے
خضر حیات خضر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے شہر سے باہر کو جو اٹھائے قدم
تو راستے میں کئی بار لڑکھڑائے قدم
ذکی وہ اجنبی کچھ ایسی چھاپ چھوڑ گیا
کہ دل میں پھر کسی دوجے کے ٹک نہ پائے قدم
ذوالفقار ارشد ذکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ملنے جا نہ سکا عید پر بھی بچوں سے
نیا بہانہ کوئی اور مجھے بنانا ہے
کیسے لکھوں میں کہانی ظلم کی
آتی ہے مجھ کو حیا کشمیر سے
یاسین سامی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ پاکے کھونے سے ڈر لگتا ہے
اس لئے تیرا ہونے سے ڈر لگتا ہے
خود کو بیچ کر امیر ہوا ہوں
پھر غریب ہونے سے ڈر لگتا ہے
اقبال ساحر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *