Apna Watan Chorney Ka Almiya By Arif Mahmud Kisana

      No Comments on Apna Watan Chorney Ka Almiya By Arif Mahmud Kisana
Apna Watan Chorney Ka Almiya

کالم نگار: عارف محمود کسانہ

اپنا وطن اور گھر چھوڑ کر کہیں اور جاکر بسنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ترک وطن کی بہت اہم وجوہات ہوتی ہیں اور کوئی یونہی اپنا گھر نہیں چھوڑتا۔ آئے روز میڈیا میں بیرون ممالک جانے والوں کی دل ہلا دینے والی خبریں منظر عام پر آتی ہیں۔ جن مشکلات اورمصائب سے جو لوگ گذرتے ہیں اس کا اندازہ وہی کرسکتے ہیں۔ دیار غیر اور غریب الوطنی میں کئی اپنی جان سے بھی جاتے ہیں اور جو کہیں پہنچ بھی جاتے ہیں انہیں سالوں سال مستقل ویزا کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔

کوئی اپنے پیچھے اپنے غریب والدین اور بہن بھائیوں کو چھوڑکرآیا ہوتا ہے تو کسی کے بیوی بچے ہجر کی آگ میں سلگ رہے ہوتے ہیں۔ بہت سے بچارے انتہائی کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور اور ایسی زندگی بسر کررہے ہوتے ہیں کہ حضرت سلطان باہو ؒ کے الفاظ میں

Apna Watan Chorney Ka Almiya
شالا مسافر کوئی نہ تھیوے تے ککھ جنہاں تیں بھارے ہو
تاڑی مار اڈا نہ باہو اساں آپے اڈن ہارے ہو

جب بھی کہیں دنیا میں پاکستانی تارکین وطن کے ساتھ کوئی المیہ پیش آتا ہے تو میڈیا میں اس کی بازگشت سنائی دینا شروع ہوجاتی ہے۔ اخبارات میں خبریں، تبصرے اور کالم شائع ہوتے ہیں۔ حکومت بھی اپنی بیداری کا ثبوت دینا شروع کردیتی ہے۔ کوئی تارکین وطن کو کوس رہا ہوتا ہے کہ یہ لوگ دنیا میں پاکستان کو بدنام کروا رہے ہیں اورکوئی حکومت کو مشور ہ دے رہا ہوتاہے کہ نگرانی سخت کی جائے تاکہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔

کوئی بیرون ملک جانے والوں کو ملک میں ہی کر محنت کرنے اور روٹی کمانے کا مشورہ دے رہا ہوتا ہے تو کوئی اسے راتوں رات امیر بننے کا خبط قرار دیتا ہے، گویا جتنے منہ اتنی ہی باتیں۔ یہ بالکل درست ہے کہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانا کسی طور مناسب نہیں اور ایجنٹوں کے ہاتھوں اپنی جمع پونجی اورجان کو موت کے منہ میں ڈالنا کہاں کی دانش مندی ہے۔Apna Watan Chorney Ka Almiya

یہ بھی ہو سکتا ہے کچھ لوگ یونہی بیرون ملک کے خبط میں مبتلا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثریت معاشی وجوہ کی بنا پر اپنا ملک، ماں باپ، بہن بھائیوں اور بیوی بچوں کو چھوڑ کر انجانی منزلوں کی راہی بنتی ہے۔ ان ہجرتوں کی سب سے بڑی وجہ اپنے گھر والوں کو بہتر مستقبل کا حصول اور اپنی حالت بہتر بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہ آواز بھی سنائی دیتی ہے کہ اپنے ملک ہی میں محنت کریں تو باہر جانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔

یہ ایک جذباتی بات ہے کیونکہ موجودہ استحصالی نظام کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایسا کہنے والے خود اپنے بچوں کو کسی دوسرے ملک میں سیٹل کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔ ایک مزدور جتنی مرضی محنت کرلے زندگی کی آساشیں ایک طرف ، وہ بمشکل دو وقت کی روٹی پوری نہیں کرسکتا۔ اپنے بچوں کی تعلیم، علاج کے اخراجات ،سر چھپانے کے لئے گھر اور دوسری ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں۔

چھوٹے ملازم توایک طرف گریڈ سترہ کا افسر اپنی حلال کی کمائی سے صرف دال روٹی ہی چلا سکتا ہے۔ گھر اور گاڑی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا اورنہ ہی بچوں کو اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوا سکتا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی ہر کسی کو لازمی چاہیے۔ صحت، تعلیم، خوراک اور رہنے کے لئے گھرکی کسی ضرو ت نہیں۔عوام کو میگا پروجیکٹ اور بڑے منصوبوں سے غرض نہیں بلکہ وہ روزمرہ کی ضروریات کا حصول چاہتے ہیں۔

Apna Watan Chorney Ka Almiya

اس لئے ریاست کی ترجیح بنیادی ضروریات کی فراہمی ہونا چاہیے۔ ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ غربت کفر کے قریب لے جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھوک اورافلاس سے پناہ مانگی گئی ہے۔ سویڈن اس وقت دنیا کی بہترین سماجی فلاحی مملکت ہے لیکن ایک وہ وقت بھی گذرا ہے جب اس ملک میں غربت اورافلاس کا دور دورہ تھا۔ ہزاروں سویڈش عوام معاشی خوشحالی اور بہتر مستقبل کے لئے ہجرت کرکے امریکہ چلے گئے۔

آج بھی امریکہ میں سویڈش شہروں کے نام پربہت سے قصبے ہیں۔ سٹاک ہوم کے بعد سویڈش عوام کی سب سے زیادہ تعداد کسی سویڈن کے کسی شہر میں نہیں بلکہ شکاگو میں آباد ہے۔ اس کے بعد سویڈش عوام نے جدوجہد کی اوراستحصالی نظام کو بدل کررکھ دیا۔ مطلق العنان شہنشاہت کوآئینی بادشاہت میں بدل دیا۔ جمہوری انقلاب سے لوگوں کو حقوق ملے۔ سماجی اور معاشی ڈھانچے میں تبدیلیاں کرکے عوام کو ایک بہترین فلاحی مملکت دی گئی۔

عوام کو حقوق، تحفظ اور عزت نفس دیا۔ اب کوئی سویڈش معاشی وجوہات کی بنیاد پر ہجرت نہیں کرتا بلکہ انہیں امریکہ سے بہتر معاشرہ دستیاب ہے۔ آج سویڈن میں سب سے کم اجرت پانے والا بھی اپنی چھٹیاں کسی اورملک میں گذاراتاہے۔ اس کے بچوں کو بھی وہی سکول میسر ہے جو باقی سب کے بچوں کے لئے ہے۔ صحت عامہ اور دوسری سہولتوں میں کوئی تفریق نہیں۔ سرکاری اداروں سے کام فون اورای میل کے ذریعہ ہوجاتے ہیں۔

ہر شہری کو عزت نفس، جان و مال کا تحفظ اور قانون کی حکمرانی ہے۔ نقل مکانی تب ہی رک سکتی ہے جب عوام کو زندگی گذارنے کی سہولتیں دی جائیں۔ جتنے بھی قانون بنالیں اور سخت اقدامات کرلیں پھر بھی ہجرتوں کا سفر نہیں رکے گا یہ صرف تب ہی رکے گا جب عوام کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراوانی ہوگی۔ تعلیم، صحت ،انصاف، روٹی کپڑا اور مکان سب کی ذمہ داری ریاست کے سپرد ہوگی۔

Apna Watan Chorney Ka Almiya

پاکستان کے بالا دست طبقہ کو اس سے کوئی غرض نہیں اس لئے ایسے نظام کے حصول کے لئے عوام کو خود جدوجہد کرنا ہوگی۔ دنیا کے جن ممالک میں ہمارے لوگ بہتر مستقبل کے لئے جاتے ہیں وہاں بھی کبھی غربت اور استحصالی دورتھا لیکن وہاں کے عوام نے اپنی قسمت خود بدلی۔ لوٹ کھسوٹ کے راج کو عوام نے خود بدلنا ہے اور جب تک ایسا دور نہیں بدلے گا لوگ اپنا ملک چھوڑتے رہیں گے اور تارکین وطن کے ساتھ درد ناک سانحے ہوتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *