اردو افسانہ انجام کار

      No Comments on اردو افسانہ انجام کار
اردو افسانہ انجام کار

ازقلم: سلام بن رزاق

پہلی قسط

آج شام کو آفس سےگھر لوٹتے وقت تک بھی میں نہیں سوچ سکتا تھا کہ حالات مجھے اس طرح پیس کررکھ دیں گے۔ میں چاہتا تو اس سانحے کو ٹال بھی سکتا تھا۔ مگر آدمی کے لیے ایسا کر سکنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتاہے۔ کچھ باتیں ہمارے چاہنے یا نہ چاہنے کی حدود سے پرے ہوتی ہیں اور شاید ایسے غیر متوقع سانحات ہی کو دوسرے الفا ظ میں ’حا دثہ‘ کہتے ہیں۔ جوبھی ہو۔میں حالات کے غیر مرئی شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ اب اس سے نجات کی کو ئی صورت دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

آج گھر لوٹنے میں مجھے دیر ہو گئی تھی اس لیے میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر کی طر ف بڑھ رہا تھا۔ مجھے بیوی کی پریشانی کا بھی خیال تھا۔ وہ یقیناًکھڑکی کی جھری سے آنکھ لگائے میری راہ دیکھ رہی ہوگی اور ذرا بسی آہٹ پرچونک چونک پڑتی ہو گی۔ سانجھ کی پر چھائیاں گھِر آئی تھیں۔ میں جیسے ہی گلی میں داخل ہوا اس جا نے پہچانے ماحول نے مجھے گھیر لیا۔ ٹین کی کھولیوں کے چھجوں سے نکلتا ہہوا دھواں ، اِدھر اُدھر بہتی نالیوں کی بدبو اور ادھ ننگے بھا گتے دوڑتے بچوں کا شور، کتّوں کے پلّے، مرغیاں اور بطخیں۔ دو ایک کھولیوں سے عورتو ں کی گالیاں بھی سُنائی دیں۔ جو شاید اپنے بچوں یا پھر بچوں کے بہانے پڑوسیوں کو دی جارہی تھیں۔

میں جب اپنی کھولی کے سامنے پہنچا تو دیکھا کہ میرے دروازے کے سامنے گندے پانی کی نکاسی کے لیے جو نالی بنی تھی۔ اُس میں شامو دادا کا ایک چھوکرا دیسی شراب کی کچھ بوتلیں چھُپا رہاتھا۔ مجھے اپنے سرپردیکھ کر پہلے تو وہ کچھ بوکھلایا پھر سنبھل کر قدر ے مسکرا دیا۔ دیسی شراب کی بو میرے نتھنو ں سے ٹکرارہی تھی۔ میں نے ذرا تیز لہجے میں پوچھا۔’’ یہ کیا ہو رہا ہے ؟‘‘

وہ اطمینا ن سے مسکرا تا ہوا بو ا۔ ’’ شامو دادا نے یہ چھے بوتلیں یہاں چھُپانے کو بولاہے ۔‘‘

اردو افسانہ انجام کار

گلی کی گندگی جب تک گلی میں تھی تو کوئی بات نہیں تھی۔ مگراب وہ گندگی میرے دروازے تک پھیل آئی تھی اوریہ با ت کسی بھی شریف آدمی کے لیے ایک چیلنج تھا۔ لہذا میں چُپ نہ رہ سکا۔ میں اسی تیز لہجے میں کہا۔ ’’یہ بو تلیں یہاں سے ہٹاؤ۔یہ گٹر تمھاری بوتلیں چھُپانے کے لیے نہیں بنی ہے ۔‘‘ لڑکا تھوڑی دیر تک مجھے گھورتا رہا۔ پھربولا۔ ’’اپن کو نہیں معلوم ، دادا نے یہا ں چھُپانے کو بولا تھا۔‘‘’’میں کچھ نہیں جانتا۔ چلو اُٹھاؤ یہاں سے ۔‘‘

لڑکے نے ہونٹوں ہی ہونٹوں میں کچھ بڑ بڑاتے ہوئے بو تلیں واپس اپنے میلے جھولے میں رکھ لیں۔ پھر جاتے مُڑکر بو ا ۔’’ ساب! جاستی (زیادہ) ہو ساری دکھائے گا تو بھاری پڑے گا۔ یہ نہرو نگر ہے ۔‘‘ میں نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ اُس آوارہ چھوکرے کے مُنہ لگنا بے کار تھا۔ وہ بو تلیں لے کر چلا گیا یہی غنیمت تھا۔ میں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ میں نے کنکھیوں سے دیکھا، میری اور لڑکے کی گفتگو سن کر ارد گرد کی کھولیوں کے دروازے کھُلے اور کچھ عورتیں باہر جھاکتی ہوئی، دلچسپی اورتجسس سے میری طرف دیکھ رہی تھیں۔ میں نے اُس طر ف زیادہ دھیان نہیں دیا اور اپنے کمرے کے دروازے پر پہنچ گیا۔ بیو ی بھی شاید میری آوازسن چُکی تھی۔ وہ دروازہ کھولے کھڑی تھی۔

’’ کیا ہوا ؟ کون تھا؟‘‘ اُس نے قدرے گھبراہٹ کے ساتھ پوچھا۔ میں کمرے میں داخل ہو گیا۔ بیوی نے دروازے کے پٹ بھیڑ دیے۔ ’’کم بختوں کو دوسروں کی تکلیف یا عزّت کا ذرا خیا ل نہیں۔‘‘ میں جوتے کی لیس کھولتے ہوئے بڑبڑایا۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ بیوی کا لہجہ گھبرایا ہوا ہی تھا۔ ’’ارے وہ شامو دادا کا چھوکرا، اپنے گھر کے سامنے والی نالی میں شراب کی بوتلیں چھُپا رہا تھا۔‘‘

بیوی تھوڑی دیر چُپ رہی پھر بولی ’میں کہتی ہوں خدا کے لیے کوئی دوسری جگہ ڈھونڈ لیجیے۔ آج نل پر چھے نمبر والی آنٹی بھی خوا ہ مخواہ مجھ سے اُلجھ پڑی تھی۔‘‘ میں نے بُش شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے پوچھا۔’’ کیا ہوا تھا۔‘‘ ’’ہوتا کیا، یہ لوگ تو جھگڑے کے لیے بہانہ تلا شتے رہتے ہیں۔ سب کو نمبر سے تین تین ہنڈے پانی ملتا ہے۔ میں نے صرف دو ہنڈے لیے تھے۔ وہ کہنے لگی تمھارے گھر میں زیادہ ممبر نہیں ہیں۔ تم صرف دو ہنڈے لو۔ میں نے کہاسب کو تین ملتے ہیں تو میں بھی تین ہی لوںگی۔ دو کیوں لوں؟ بس اسی پر بات بڑھ گئی۔

میں کھاٹ پر لیٹ گیا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر کیا کیا جا ئے۔ ابھی تین چار ماہ تک کھولی بدلنے جیسی حالت میری تھی نہیں اور یہاں ایک ایک دن گزارنا مشکل ہوتا جارہا تھا۔ مجھے یہاں آئے ہوئے صرف تین مہینے ہوئے تھے۔ بیوی یہاں کے ماحول سے اس قدر پریشان ہو چکی تھی کہ روز رات کو سونے سے پہلے وہ اِدھر اُدھر کی باتوں کے درمیان گھر بدلنے کی بات ضرور کرتی۔ میں کبھی سمجھاکر، کبھی دانٹ کر اُسے ٹال دیتا۔ یہ بات نہیں تھی کہ وہ میری مالی حالت سے واقف نہیں تھی۔ مگر وہ بھی ایک عام گھریلو عورت کی طرح ایک اچھے گھر کی خواہش کو اپنے دل سے کسی طر ح بھی الگ نہیں کر سکتی تھی۔ اُسکی یہ خواہش اُسوقت مزید شدّت اختیار کر جاتی جب گلی میں کو ئی لڑائی جھگڑایا دنگا فساد ہوجاتا۔ اس قسم کے دنگے یہاں تقریباً روز ہی ہو کرتے تھے۔ بعض اوقات تو معمولی جھگڑے سے بھی خون خرابے تک نوبت آجاتی۔

اردو افسانہ انجام کار

اتوار کے روز یہاں کے ہنگاموں میں خصوصیت سے اضافہ ہو جاتا۔ ہفتے کے چھے دن تو زیادہ عورتیں آپس میں لڑتی رہتیں۔کبھی کبھی نل یا سنڈاس کی لائن میں دو چار عورتیں ایک دوسرے سے اُلجھ پڑتیں۔ جھوٹے پکڑ کر بھی کھینچے جاتے۔ مگر یہ جھگڑے گالی گلوج یامعمولی نوچ کھسوٹ سے آگے نہ بڑھ پاتے۔ مگر اتوار کا دن ہفتے بھرکے چھوٹے موٹے جھگڑوں کا فیصلہ کن دن ہوتا کیوں کہ اس دن ان عورتوں کے شوہروں بیٹیوں اور دوسرے عزیز رشتے دارو ں کی چھٹی کا دن ہوتا جو موٹر ورک شاپوں، ملوں، اور دیگر چھوٹے موٹے کارخانوں میں کام کرتے تھے۔ اُس دن شنکر پاٹل کا مٹکے کا کاروبار بھی کلوز رہتا۔ البتہ شامو دادا کے اڈّے پر خاص رونق ہوتی۔ صبح ہی سے پینے والوں کا تانتا بندھا رہتا۔ اورلوگ ’نوٹانک‘ ’پاوسیر‘ پی پی کر گلی میں اس سرے سے اس سرے تک لڑکھڑاتے۔ گالیاں دیتے اور ہنستے قہقے لگاتے گھومتے رہتے۔ ہفتے بھر عورتیں اُنھیں چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی جو رپورٹیں دیتی رہتیں وہ انھیں رپورٹوں کی بنیاد پرکسی نہ کسی بہانے لڑائی چھیڑ دیتے۔ ہفتے بھر کا حساب چُکانے کے لیے مرد اپنے اپنے ٹین اور لکڑ ی کے ناپختہ چھونپڑوں سے نکل آتے۔

دن بھر خوب جم کر لڑائی ہوتی۔ دو چار کا سرپھٹتا اور دوچارکو پولیس پکڑکر لے جاتی۔ یہ ہر اتوار کا معمول تھا۔ یہاں کے ماحول سے میں بھی کافی پریشان تھا۔ مگر صرف پریشانی سے کب کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے۔ شہروں میں ایک صاف ستھرے ماحول میں، مناسب مکان کا حاصل کرنا مجھ جیسے معمولی کلرک کے لیے کتنا مشکل ہے۔ اسکا صحیح اندازہ بیوی کو نہیں ہو سکتا تھا۔ کیو ں کہ وہ گانو سے پہلی دفعہ شہر آئی تھی۔

اتنے میں بیوی چائے کا پیالہ لے کر ساڑی کے پلّو سے مُنہ پو نچھتی میرے پاس آکر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیرتک خاموش نظروں سے میری طرف دیکھتی رہی۔ پھر بولی ’’لیجیے چائے پی لیجیے۔‘‘میں نے چائے کا پیالہ اُٹھا لیا۔ وہ کہ رہی تھی۔’’ پرسوں تین نمبر والی زلیخا آئی تھی۔ اُس نے مجھ سے اُدھار آٹا مانگا۔ میں نے بہانہ کردیا کہ گیہوں ابھی پسائے نہیں گئے ہیں۔ اُسوقت وہ چُپ چاپ چلی گئی۔ مگر تب سے سنڈاس کی لائن میں، نل پرمجھے دیکھتے ہی ناک چڑھا کر آنکھیں مچکاتی ہے اور میری طر ف منہ کرکے تھوکتی ہے ۔کتیا کہیں کی۔‘‘

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *