(اردو افسانہ انجام کار (آخری قسط

(اردو افسانہ انجام کار (آخری قسط

ازقلم: سلام بن رزاق

انتخاب: مہر خان

بیوی نے منہ بنا تے ہو ئے تلخ لہجے میں کہا۔ میری نظریں بیو ی کے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں۔ میں نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہو ئے کہا۔ ’’تھوڑا سا آ ٹا دے دینا تھا‘‘ ’’ کیا دے دیتی؟‘‘ اُسکی آواز مزید تیکھی ہو گئی۔’’آپ نہیں جانتے۔ ان لوگوں کی نہ دوستی اچھی، نہ دشمنی۔ اسی لین دین پر سے تو آئے دن یہاں جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔‘‘ بیوی نے جیسے کسی بہت بڑے راز کا انکشاف کرنے والے انداز میں کہا میں چُپ تھا۔ وہ کہہ رہی تھی۔

آج آپ نے دیرکردی۔ خدا کے لیے آپ آفس سے جلد آیا کیجیے۔ آپکے آفس سے لوٹنے تک میری جان سوکھتی رہتی ہے۔ یہاں پل، پل ایک جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ آپکے لوٹنے سے پہلے سامنے والی سکینہ اور رابو میں خوب گالی گلوج ہوئی۔ ’’کیوں؟ کچھ نہیں، سکینہ کے بچّے نے رابو کی بطخ کو کنکر مارا تھا۔ بس اُسی پر دونوں میں خوب جم کرلڑائی ہوئی وہ تو سکھوتائی نے دونوں کو سمجھا بُجھا کر چُپ کر ایا،ورنہ نو چ کھسوٹ تک کی نو بت آ گئی تھی ۔‘‘

میں سُننے کو تو بیوی کی باتیں سن رہا تھا۔ مگرمیرا ذہن شامو دادا کے چھوکرے کے سا تھ ہوئی گفتگو میں اُلجھا ہوا تھا۔ کم بخت ایک تو غلط کام کرتے ہیں اور ٹوکو تو دھمکیاں دیتے ہیں۔ دادا ہے نا۔ قانون قاعدہ سب اُنکا غلام ہے۔ جس دن قانون کی گرفت میں آجائیں گے ساری دادا گِری دھری کی دھری رہ جا ئے گی۔ اچانک بیوی بولتے بولتے چُپ ہو گئی۔ وہ کچھ سننے کی کو شش کر رہی تھی۔ آوازیں میرے دروازے پر آکر رُک گئیں۔ میں نے شامو دادا کی آواز سُنی وہ کہہ رہا تھا۔ چل بے لالو ! رکھ اس میں بو تلیں۔ دیکھتا ہوں کون سالا روکتا ہے۔

(اردو افسانہ انجام کار (آخری قسط

ایک لمحے کو میرا دل روز سے دھڑکا۔ آخر وہی ہوا جس سے میں اب تک بچتا آیا تھا۔ میں نے بیوی کی طرف دیکھا ۔ اُسکا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا۔ اُس نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔’’ جانے دیجیے، رکھ لینے دیجیے۔ اپنا کیا جاتاہے۔‘‘پیالے میں تھوڑی سی چائے بچی تھی۔ میں نے پیالہ اُسی فرش پررکھ دیا۔ پھر اس سے اپنا ہا تھ دھیرے سے چھڑاتا ہوا بولا۔ ’’تم چُپ بیٹھی رہو۔گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس طرح انکی ہر بات برداشت کرلیں گے تویہ لوگ ہمارے سر پرسوار ہو جائیں گے۔‘‘میں کھاٹ پر سے اُٹھ گیا۔

بیوی گھِگیائی۔’’ نہیں خدا کے لیے آپ باہر مت جایئے۔ آپ اکیلے کیا کرسکیں گے۔ وہ بدمعاش لوگ ہیں۔‘‘ میں نے اُسے تسلّی دیتے ہوئے کہا۔’’ پاگل ہوئی ہو ۔ میں کیا جھگڑا کرنے جارہا ہو ں۔ آخر بات کر نے میں کیا حرج ہے۔‘‘میں دروازہ کھول کر باہر گیا۔ شامو دادا کمر پر دونوں ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔ اُسکے پاس اور دو چھوکرے جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑےتھے۔ وہی چھوکرا جو پہلے بھی آیا تھا۔ جھولے سے بو تلیں نکال نکال کرگٹر دبا رہا تھا۔ میرے باہر نکلتے ہی وہ چاروں میری طرف دیکھنے لگے۔ شامو دادا ایک لمحے تک مجھے گھورتا رہا۔ پھرچھوکرے سے مخا طب ہوا۔ اے سالے! سنبھال کررکھ ، کوئی بوتل پھوٹ ووٹ گئی تو تیری بہن کی ۔۔۔۔ایسی تیسی کر ڈالو ں گا۔‘‘

میں اپنے چبوترے کے کنارے پر آکر کھڑا ہو گیا۔ وہ لوگ میری طرف مڑے۔ اُنکی آنکھوں میں غصّہ، نفر ت اور حقارت کے بھاو اُتر آئے۔ میں نے قریب پہنچ کر نہایت نر م لہجے میں شا مو دادا سے کہا۔’’ آپ ہی شامو دا دا ہیں؟‘‘’’ ہا ں کیوں؟‘‘ شامو کسی کٹکھنے کتّے کی طر ح غرّایا۔ ’’دیکھیے یہاں ان بوتلوں کو مت رکھیے ہمیں تکلیف ہوگی۔ تکلیف ہوگی تو کوئی دوسری جگہ ڈھونڈو۔ اس جھونپڑپٹی میں کیوں چلے آئے۔’’میری با ت سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ یہ چیزیں ہمیں پسند نہیں ہیں۔ کسی دوسری جگہ کیوں نہیں رکھتے انھیں۔

’’ یہ بوتلیں یہیں رہیں گی تمھیں جو کرناہے کرلو۔‘‘ اُسکے دونوں ساتھی میری طرف بڑھتے ہو ئے بولے۔’’ یہ تمھارے باپ کی گٹر ہے کیا؟‘‘ اُس وقت اندر ہی اندر اُبلتے غصّے کی وجہ سے میری جو حالت ہو رہی تھی وہ بیان سے باہر ہے۔ جی میں آرہا تھا کہ ان تینو ں کم بختو ں کی ایک سِرے سے لا شیں گِرادوں۔ مگر میں جانتا تھا کہ ایسی جگہوں پر اپنا ذہنی توازن کھونے کا مطلب سوائے پٹنے کے اور کچھ بھی نہیں۔ میں نے لہجے کو ذرا بھاری بناتے ہوئے کہا۔’’ دیکھو باپ دادا کا نام لینے کی ضرورت نہیں۔ میں اب تک شرا فت سے آپ لوگوں کو سمجھارہاہوں۔

ارے تو تُو کیا کرے گا ہمارا۔ تیرے ما ں کی ۔۔۔۔۔مادر۔۔۔۔سالا۔۔۔ ایک جھاپڑ میں مٹی چاٹنے لگے گا اورہم سے ہوشیاری کرتا ہے۔ شامو دادا نے دو قد م میری طر ف بڑھتے ہوئے کہا۔ گالی سُن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میں نے اُنگلی اُٹھا کر کہا۔‘‘ دیکھو شامو دادا ! اپنی حد سے آگے مت بڑھو۔ ایک تو غیرقانونی کام کرتے ہو اوپرسے سینہ زوری کرتے ہو۔’’ارے تیر ے قانون کی بھی ما ں کی ۔۔۔۔۔‘‘شامو دادا میری طرف لپکتا ہوا بولا۔ اُسکے ایک ساتھی نے اُسے پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا۔’’ ٹھہر و دادا ، اس سالے کو میں ٹھیک کرتا ہوں۔

اس نے جیب سے ایک لمبا سا چاقو نکا ل لیا۔ کڑ، ڑ، کڑ، ڑ، کڑ، ڑ چاقو کھُلنے کی آواز کے سا تھ ہی میرے جسم میں سر سے پیر تک چیونٹیاں رینگ گئیں۔ میری انتہائی کوشش کے باوجود حالات میرے قابو سے باہرہو چکے تھے۔ ایک لمحے کو میں سرسے پیر تک کانپ گیا۔ اِرد گرد کے جھونپڑوں سے عورتیں، مرد اور بوڑھے سب نکل آئے تھے۔ سب کے سب اس جھگڑ ے کو بڑی دل چسپی سے دیکھ رہے تھے۔ شامو دادا کے ساتھی کے چاقو نکالتے ہی دو تین عورتوں کے منہ سے چیخیں نکل گئیں اور ان چیخوں نے میری نس نس میں ایک کپکپاہٹ سی بھر دی۔ میں زند گی میں پہلی دفعہ اس قسم کی سچویشن سے دو چار ہوا تھا۔ میرا سارا غصّہ ایک خو ف زدہ بچّے کی طر ح سہم کر میرے اند ر ہی دُبک گیا۔ میں اب صرف ایک گھبرا ہٹ بھر ے پچھتا وے کے ساتھ اس غنڈے کے چمچا تے چاقو کی طر ف دیکھ رہا تھا۔ میں اُسوقت بھاگ کر اپنے کمر ے میں چھُپ سکتا تھا۔ مگر اب بھاگنا بھی اتنا آسان نہیں رہ گیا تھا۔ کیوں کہ بیسیوں آنکھیں مجھے اپنی نظر کے ترازو میں تول رہی تھیں۔ بھاگنے کا مطلب تھا میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اُن نگا ہوں میں مرجاتا۔

وہ غنڈا چاقو لیے میری طرف بڑھا اور میں بے حس و حرکت وہیں کھڑا رہا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس وقت میں بہت بہادری سے کھڑا تھا۔ بل کے اُس وقت اپنے پیروں کو اس جگہ جمائے رکھنے میں مجھے جس کش مکش اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا وہ میرا ہی دل جا نتا ہے۔ میں اپنے کمرے کے چبو ترے پر کھڑا تھا ۔ وہ غنڈا بالکل میرے قریب پہنچ چکا تھا ۔قریب پہنچ کر وہ بھی ایک لمحے کو ٹھٹکا۔شاید اُسے بھی تو قع تھی کہ میں بھا گ کر کمر ے میں گھس جا ؤ ں گا ۔مگر جب خلافِ تو قع اُ س نے مجھے اسی طر ح کھڑا پا یا توبجائے مجھ پر چا قو کا وار کر نے میری ٹا نگ پکڑ کر مجھے نیچے کھینچ لینا چاہا ۔میں ایک قدم پیچھے ہٹ گیا ۔میری ٹا نگ اُ س کے ہا تھ نہ آ سکی ۔اتنے میں پیچھے سے ایک چیخ سُنا ئی دی اور کو ئی آکر مجھ سے لپٹ گیا ۔میں نے پلٹ کر دیکھا ۔ میری بیو ی میر ی کمر پکڑ ے مجھے اند ر کھینچنے کی کو شش کر نے لگی ۔ وہ بُر ی طر ح رو رہی تھی ۔

’’ چلیے آ پ اندر چلیے ۔خدا کے لیے آ پ اندر چلیے۔‘‘ اُ س نے مجھے کمر ے کی طر ف گھسیٹتے ہو ئے کہا ۔بیو ی میں اتنی طا قت نہیں تھی کہ وہ مجھے اندر گھسیٹ لے جا تی ۔ مگرمیرا لا شعور بھی شاید اسی میں اپنی عا فیت سمجھ رہا تھا ۔ بیو ی نے مجھے کمر ے میں دھکیل کر در وازہ اند رسے بند کر لیااور زور زور سے پھو ٹ پھو ٹ کر رو نے لگی ۔ ایک لمحے تک باہر سنّا ٹا چھا یا رہا ۔ صر ف میری بیو ی کی زور زور سے رو نے کی آ واز سُ نا ئی دے رہی تھی ۔پھر با ہر سے مغلظّات کا ایک طو فا ن اُمڈ پڑا ۔وہ سب مجھے بے تحا شا گا لیا ں دے رہے تھے ۔پھر ایسا بھی سُنا ئی دیا جیسے کچھ لو گ انھیں سمجھا رہے ہو ں ۔مگر دو تین منٹ تک گا لیو ں کا سلسلہ برا بر چلتا رہا ۔بیو ی دو نو ں پیر پکڑ ے میرے گھٹنو ں پر سر ٹکا ئے بُری طر ح رو رہی تھی ۔میں کھا ٹ پر کسی بُت کی طر ح چُپ چا پ بیٹھا رہا ۔آخر مغلّظا ت کا طو فا ن رُکا اور پھر ایسا لگنے لگا جیسے بھیڑ چھٹ رہی ہو ۔تھو ڑی دیر بعد با ہر مکمل سنّاٹا چھا گیا ۔ صر ف رہ رہ کر کسی کھو لی سے عو رت کی کوئی تیکھی گالی اڑتی ہو ئی آ تی اوریک طما نچے کی طر ح کا ن پر لگتی۔میں پتا نہیں کتنی دیر تک اسی طر ح چپ چا پ بیٹھا رہا۔بیو ی پتا نہیں کب تک گو د میں سر ڈالے رو تی رہی۔

اُس وقت ند ا مت ، غصّہ اور خو ف سے میری عجیب کیفیت تھی ۔ ذہن گو یا ہوا میں اُڑا جا رہا تھا اور دل تھا کہ سینے میں سنبھلتا ہی نہیں تھا ۔ میری سا ری کو ششو ں کے با و جو د معا ملہ کسی کا نچ کے بر تن کی طر ح میرے ہا تھوں سے چھو ٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا ۔ اور اب اُس کی کر چیں میرے جسم میں اس طر ح گڑ گئی تھیں کہ میرا سا را و جو د لہو لہا ن ہو گیا تھا ۔ میری سا ری تد بیریں نا کا م ہو گئی تھیں اور اب میں بہت بلندی سے گر نے والے کسی بد نصیب شخص کی طر ح ہوا میں معلّق ہا تھ پیر ما ر رہا تھا ۔کسی کگا ر کو چھو سکنے یا کسی ٹھو س جگہ پر پا نو جما نے کی بے نتیجہ کو شش ۔۔۔۔آ خر میں نے طے کر لیا کہ میں جلد ہی یہ کھو لی چھوڑ د و ں گا ۔مگر کھو لی چھوڑ نے سے پہلے اپنی توہین کا بدلا بھی لینا تھا ۔مگر میں اکیلا کیا کرسکتا تھا ۔ میں نے بہت دیر تک اسی پیچ و تا ب میں بیٹھا رہا ۔ آج میں اپنی نظرو ں میں ذلیل ہو گیا تھا ۔ رہ رہ کر اُ ن غنڈ و ں کی گالیا ں میرے کا نو ں مں گو نج رہی تھیں اور میری بے بسی کا احسا س بڑھتا جا رہا تھا اور اس بے بسی کے احسا س کے سا تھ ہی میرا غصّہ بھی بڑھتا جا رہا تھا ۔بیوی کی سِسکیا ں اب تھم چُکی تھیں مگر اس کا سر میر ی گو د میں میں اسی طر ح رکھا تھا ۔میں نے آہستہ سے اُس کا سر اُٹھا تے ہو ئے کہا ۔ ’’ اٹھو چا پا ئی پر لیٹ جا ؤ ۔‘‘

بیو ی اُسی طر ح فر ش پر بیٹھی سا ڑی کے پلّو سے اپنی نا ک سڑکنے لگی ۔ میں اُٹھ کر بُش شر ٹ پہننے لگا ۔بیو ی نے میری طر ف دیکھتے ہو ئے پو چھا ۔’’ کہا ں جا ر ہے ہو؟‘‘ میں نے کہا ۔’’ تم آ را م کر و ۔ میں ابھی پو لیس اسٹیشن سے ہو آتاہو ں ۔‘‘ نہیں آ پ کہیں نہیں جا یئے۔‘‘گھبرا ؤ نہیں ۔‘‘ میں نے تسلی دیتے ہو ئے کہا۔’’ میں ابھی دس منٹ میں آ جاؤ ں گا ۔‘‘ نہیں خدا کے لیے آپ اُ ن لو گو ں سے نہ الجھیے ۔وہ لو گ بدمعا ش ہیں ۔‘‘تم خوا ہ مخوا ہ گھبرا رہی ہو ۔ یہ لو گ سیدھے سا دے لو گو ں پر اسی طر ح دھو نس جما تے ہیں ۔ کسی کو ما رنا اتنا آسا ن نہیں ہو تا ۔تم دیکھنا دس منٹ بعد پو لیس ان سب کے ہتکڑ یا ں لگا کے لے جا ئے گی ۔کسی شریف آدمی کو اس طر ح پریشا ن کر نا ہنسی کھیل نہیں ہے ۔‘‘

’’ مگر آپ اکیلے ہیں اور وہ بہت سا رے ہیں ۔ آ پ اکیلے کتنو ں سے لڑیں گے ۔‘‘ ارے میں لڑ نے کہا ں جا رہا ہو ں ۔ پو لیس میں شکا یت در ج کرا ؤ ں گا۔ پو لیس خو د آ ن کر اُ ن سے سمجھ لے گی ۔ہم اس طر ح ان کی بد معا شی کو سہتے رہیں تو جینا دو بھر ہو جا ئے گا ۔ اُنھیں اُ ن کی بد معا شی کی آخر کچھ تو سزا ملنی چاہیے۔‘‘ بیو ی کی آنکھو ں سے پھر آنسو ں بہنے لگے ۔’’ جب ہمیں یہا ں رہنا ہی نہیں ہے تو پھر خوا ہ مخوا ہ اُ ن کے منہ لگنے کی کیا ضرورت ۔‘‘ میں نے ذرا کڑے لہجے میں کہا۔’’ تم اند ر سے کُنڈ ی لگا لو ۔تم ان با تو ں کو نہیں سمجھتیں ۔ وہ لو گ ہما رے دروازے پر آکر ہمیں یو ں ذلیل کر جا ئیں اورہم پو لیس میں شکا یت تک نہ کریں۔اس سے بڑی بزدلی اورکیا ہو سکتی ہے۔آ ج انھو ں نے دروازے پر گڑ بڑ کی ، کل گھر میں بھی گھُس سکتے ہیں ۔‘‘ پھر لہجے کو تھوڑا نر م بنا تے ہو ئے بولا ۔’’ تم سمجھ دا ر ہو ۔ہمت سے کا م لو ۔ میں ابھی لو ٹ آ ؤ ں گا ۔ چلو اٹھو دروازہ اندرسے بند کرو ۔‘‘

یہ کہہ کر میں با ہر نکل گیا ۔ بیو ی مرے قد مو ں سے چلتی میرے پیچھے آ ئی ۔میں نے دروازہ بند ہو نے کے سا تھ ہی اُ س کی ہلکی ہلکی سِسکیو ں کی آ واز بھی سنی ۔گلی میں کا فی اندھیرا تھا ۔ پا س کی کھو لیو ں کے دروازے بند ہو چکے تھے ۔چا رو ں طر ف ایک نا گو ار قسم کا سنّا ٹا چھا یا ہو ا تھا ۔میں گلی کو پا ر کر کے سڑک کے کنا رے آ گیا ۔یہا ں لیمپ پو سٹ کی طگجی روشنی او نگھ رہی تھی ۔ میں نے مڑ کر دا ئیں طر ف نظر دو ڑا ئی جہا ں شا مو کا شرا ب اڈّا تھا ۔ چا رو ں طر ف ٹا ٹ سے گھِرے اُس اڈّے میں کا فی رو شنی ہو رہی تھی ۔با ہر بنچو ں پر کچھ لو گ بیٹھے پیتے دکھائی دیے۔پا س ہی سیخ کبا ب والا اپنی انگیٹھی دہکا ئے بیٹھا تھا ۔اڈّے سے رہ رہ کر ہلکے ہلکے قہقہو ں اور گلا سو ں کے کھنکھنے کی مِلی جُلی آوازیں آ رہی تھیں۔پو لیس اسٹیشن جا نے کا را ستہ اسی طر ف سے تھا ۔مگر میں اُس طر ف جا نے کے بجا ئے دو سر ی طر ف مڑ گیا اور ریل کی پٹر ی کرا س کر کے بڑی سڑک پر نکل آیا ۔ میں دل ہی دل میں پو لیس اسٹیشن میں انسپکٹر کے سا منے جا نے وا لی شکا یت کا خا کا تر تیب دینے لگا۔میں زند گی میں پہلی دفعہ پو لیس اسٹیشن جا رہا تھا دل میں ایک طر ح کی گھبراہٹ بھی تھی ۔ مگر اُ ن مد معا شوں مزہ چکھا نے کا جذ بہ اُس گھبراہٹ پر کچھ ایسا حا وی تھا کہ پیر پو لیس اسٹیشن کی طر ف بڑھتے ہی گئے ۔ می نے سُن رکھا تھا کہ وہا ں شریف آ دمیو ں سے کوئی سیدھے منہ با ت تک نہیں کر تا ۔ میں ذہن میں ایسے جملو ں کو تر تیب دینے لگا جن کے ذریعے پو لیس انچا ر ج کے سا منے اپنے بے بسی اور پریشانی کا واضح نقشا کھینچ سکو ں اور وہ فوراً متا ثر ہو جا ئے ۔ پو لیس اسٹشین کی عما رت آ گئی تھی ۔ گیٹ میں داخل ہو تے وقت ایک با ر پھر میرا دل زور سے دھڑکا۔

(اردو افسانہ انجام کار (آخری قسط

میں عما رت کی سیڑ ھیا ں چڑ ھ کر ورانڈے میں پہنچا ۔ پا س ہی بچھی بینچ پر ایک کا نسٹیبل بیٹھا ہتھیلی پر تمبا کو اور چو نا مسلتا نظر آ یا ۔اُس نے اپنی ٹو پی اتا ر کر بینچ پر رکھ لی تھی اور اس ک ی گنجی کھو پڑی بلب کی رو شنی میں چمک رہی تھی۔مجھ پر نظر پڑ تے ہی اُ س نے استفہامیہ نظرو ں سے میری طر ف دیکھا ۔ میں اُس کے قریب پہنچ کر ایک وقفے کے لیے رُکا پھر بولا’’ مجھے ایک کمپلین لکھوا نی ہے ۔‘‘ کہا ں سے آ ئے ہو ؟‘‘اُس نے تیو ری چڑھا کر پو چھا۔ نہر و نگر سے ‘‘کیا ہوا ؟‘‘ اُس کی نظر یں سر سے پیر تک میرا جا ئزہ لے رہی تھیں ۔وہا ں کچھ غنڈو ں نے مجھ پر حملہ کر نا چا ہا تھا ۔‘‘

’’ ہّم‘‘ اُس نے تمبا کو کو اپنے نچلے ہو نٹ کے نیچے دبا تے ہو ئے زور سے ہنکا ری بھر ی ۔پھر ہا تھ جھا ڑ تا ہوا بولا۔’’ جا ؤ،اُدھر جا ؤ‘‘اُس نے سیدھے ہا تھ کی طر ف اشا رہ کر تے ہو ئے کہا اور دیوا ر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔میں اُس طر ف مڑ گیا جدھر کا نسٹیبل نے اشا رہ کیا تھا ۔کچھ قدم چلنے کے بعد ایک کھُلا دروازہ دکھا ئی دیا ۔ میں دروازے میں ٹھٹک گیا اور سا منے کر سی پر بیٹھے ایک مو ٹے حولدار کو دیکھنے لگا۔وہ شا ید ہیڈ کا نسٹیبل تھااور گر دن جھُکا ئے کر رہا تھااور ایک دوسرا کا نسٹیبل ایک طر ف کر سی پر بیٹھا جما ہیا ں لے رہا تھا ۔میں نے ایک لمحے توقف کے بعد کھنکا رکر کہا ۔’’ مے آئی ، کم اِن ؟‘‘ ہیڈ کانسٹیبل نے فا ئل سے گر دن اُٹھا ئی اورجما ہی لینے والا کا نسٹیبل چند ھیا ئی آ نکھو ں سے مجھے دیکھنے لگا ۔ہیڈ کا نسٹیبل نے گر دن ہلا کر مجھے اندر آنے کی اجا زت دی۔میں اندر داخل ہوا اور میز کے پا س جا کھڑا ہوا۔
’’ کیا ہوا ؟‘‘ ہیڈ کا نسٹیبل نے فا ئل پر سے نظر یں اُٹھا تے ہو ئے پو چھا ۔ جی ۔۔۔۔ جی ۔۔۔۔ مجھے ایک کمپلین لکھوا نی ہے ۔‘‘کہا ں رہتے ہو ؟‘‘’’نہر و نگر میں ۔‘‘ کیا ہوا، جلد ی بو لو۔‘‘ اُس کا لہجہ بڑا اہانت آمیز تھا۔ میں نے دل میں الفا ظ تو لتے ہو ئے کہا ۔’’ جی با ت یہ ہے کہ میں نہر و نگر میں پا نچ نمبر بلا ک میں رہتا ہو ں ۔وہا ں شا مو دا دا کا شرا ب کا اڈا ہے ۔ اُس کے چھو کر و ں نے آ ج مجھ پر چا قو سے حملہ کر نا چاہا تھا ۔‘‘ کیو ں ، تم نے اُسے چھیڑا ہوگا۔‘‘ ہیڈکا نسٹیبل نے کہا۔

میں اس کے ریما ر ک پر بو کھلا گیا ۔ میں سمجھ رہا تھا شرا ب کے اڈے کا ذکر آتے ہی یہ لو گ اُن غنڈو ں کی غنڈا گر دی کو سمجھ جا ئیں گے ۔کیو ں کہ شا مو نا جا ئز شرا ب کا کا رو با ر کر تا تھا ۔ مگر اب حولدا ر کے تیو ر دیکھ کر میرا دل ڈو بنے لگا میں نے مسمسی صو ر ت بنا کر کہا۔’’ جی میں نے کچھ نہیں کیا ۔‘‘ پھر کیا اُس کا دما غ خرا ب ہو گیا تھا جو خوا ہ مخوا ہ تم سے جھگڑا کر نے آ گیا ۔‘‘اُس کے درشت لہجے نے میرے رہے سہے حوا س بھی غا ئب کر دیے تھے ۔پھر بھی میں نے سنبھلتے ہو ئے کہا۔ جی با ت یہ تھی کہ وہ ہما رے گھر کے سا منے والی نا لی میں شرا ب کی بو تلیں چھپا رہا تھا ۔میں نے منع کیا ۔بس اسی پر بگڑ گیا ۔‘‘

’’ ہم،یہ با ت ہے ۔ یہ بتاؤ تم نے منع کیوں کیا ؟‘‘جی !‘‘ میں حیرت سے اُس کی طر ف دیکھنے لگا ۔ ’’ صا حب وہ میرے گھر کے سا منے شرا ب چھپا رہا تھا ۔ میں ایک شریف آ د می ہو ں ۔کیا مجھے اس پر اعترا ض کر نے کا حق بھی نہیں۔‘‘ ہیڈ کا نسٹیبل نے ایک با ر مجھے گھو ر کر دیکھا اور بو لا ۔’’ ارے شرا ب کی بو تلیں نا لی میں چھُپا رہا تھا نا ، تمھا را کیا بگڑ تا تھا اس سے ۔‘‘

مجھے اس سچ مچ غصّہ آ گیا تھا ۔ میں نے دل ہی دل میں اس موٹے حولدا ر کو ایک مو ٹی سی گالی دی مگر بہ ظا ہر اپنے لہجے کو حتی الامکا ن نر م بنا تے ہو ئے کہا ۔’’ مگر حولدا ر صا حب (حرا می صا حب )وہ غنڈا آ د می ہے۔ اگر میں اُس وقت اعتراض نہ کر تا تو وہ کل میرے گھر میں گھُس سکتا تھااورپھر اُس کا دھندا بھی تو قا نو ناً نا جا ئز ہے۔ بس بس ہم کو معلو م ہے ۔یہا ں قانو ن مت بگھا رو ۔اُدھر جا ؤ پہلے صا حب سے شکا یت کر و۔وہ کہے گا تو ہم کمپلین لکھ لے گا ۔‘‘اُس نے با ئیں طر ف ایک کیبن کے بند دروازے کی طر ف اشا رہ کر تے ہو ئے کہا۔پھر وہ کر سی میں پڑے جما ہیلیتے سپا ہی سے مخا طب ہوا ۔’’ بھا لے را ؤ اس آ دمی کو صا حب کے پا س لے جاؤ ۔‘‘بھا لے را و نے ایک بار پھر منہ پھا ڑ کر جما ہی لی اور کچھ بڑ بڑا تا ہو انا گوا ری سے بولا ۔’’ چلو !‘‘

وہ کر سی سے اُٹھا اور لڑ کھڑا تے ہو قد مو ں سے چلتا ہوا کیبن کی چق ہٹا کر اندر چلا گیا ۔پھر چند سیکنڈ بعد ہی باہر نکلا اور میر ی طر ف دیکھے بغیر بو لا ۔’’ جا و ۔‘‘ اور خو د دو با رہ اُسی کر سی کی طر ف مڑ گیا جہا ں پہلے بیٹھا جما ہیا ں لے رہا تھا ۔میں نے چق ہٹا کر اندر دا خل ہوا ۔سا منے ایک سخت چہر ے اور بڑ ی بڑ ی مو نچھو ں والا شخص مجھے گھو ر رہا تھا ۔ میں نے تھو ک نگلتے ہو ئے دو نو ں ہا تھ جو ڑ کر اسے نمسکا ر کیا اور اس کے سا منے جا کھڑا ہوا۔( میر ے دو نو ں ہا تھ نمسکا ر کی شکل میں اب بھی جُڑے ہو ئے تھے )سا منے دو خا لی کر سیا ں پڑ ی تھیں ۔ مگر میں اس قد رنر وس ہو گیا تھا کہ کر سی پر بیٹھنے کے بجا ئے ، میز کے کو نے سے لگ کر کھڑا ہو گیا۔ کیا با ت ہے ؟‘‘ اُس سخت چہر ے والے پو لیس انسپکٹر نے ( ہا ں وہ صو ر ت سے پو لیس انسپکٹر ہی لگتا تھا )اپنی مو ٹی آواز میں پو چھا۔ میں نے پھر اپنے خشک ہو تے گلے پر ہاتھ پھیر تے ہو ئے کہا ۔’’ صا حب میں ایک کمپلین لکھوا نے آیا ہو ں۔‘‘کہا ں رہتے ہو ؟‘‘ اُس نے بھی مجھے سر سے پا نو تک گھو ر تے ہوہ ئے پوچھا۔ نہر و نگر میں ‘‘میں نے انتہا ہی نر م اور ملتجی آ وا ز میں جوا ب دیا۔

’’ بیٹھو۔‘‘ آ س نے کر سی کی طر ف اشا رہ کیا۔ میں ایک کر سی پر بیٹھ گیا اور شا م کے جھگڑ ے کی تفصیلا ت سنا نے لگا ۔میری گفتگو کے دو را ن وہ سگریٹ سُلگا کر ہلکے ہلکے کش لیتا رہا ۔وہ میری با تیں اتنی بے دلی سے سُن رہاتھا جیسے کو ئی گھِسا پٹا ریکا رڈ سن رہا ہو ۔بس وہ سننے کے لیے سن رہا تھا ۔جب میں چُپ ہو ا تو ایک لمحے کو اس کی تیز نگا ہیں میرے چہر ے پر جمی رہیں ۔پھر اُس کی آ وا ز میرے کا نو ں سے ٹکرا ئی۔ اچھا تو اب تم کیا چا ہتے ہو ؟‘‘جی !‘‘ میں اُس کے سوا ل کا مطلب نہیں سمجھ سکا تھا ۔اس لیے صر ف جی کرکے رہ گیا ۔انسپکٹر نے شاید میرے لہجے میں چھپے استعجاب کو بھا نپ لیا تھا ۔اُس نے فوراً دو سرا سوا ل کیا ۔ ’’کیا کا م کر تے ہو؟جی صا حب میں’سی‘ وارڈ می کلر ک ہو ں ۔‘‘’’گھر میں کون کون ہے ؟‘‘’’جی میں اور میری بیو ی۔

’’شاید نئے آ ئے ہو ۔‘‘ جی ہا ں ، چھے سا ت مہینے ہو ئے ہیں ۔ اچھا دیکھو وا قعی تمھا رے سا تھ زیا دتی ہو ئی ہے اور مجھے اس کا بڑا افسو س ہے مگر ۔۔۔۔۔ انسپکٹرکے ان جملو ں سے میری ڈھا ر س بند ھی اور میرا حوصلہ بھی بڑھا ۔میں نے در میا ن میں جلد ی سے کہا۔’’ سر ! اگر آ پ چا ہے تو‘‘ انسپکٹر کو شا ید میرا اس طر ح در میا ن میں ٹو کنا بُرا لگا ۔اُ س نے قد ر سے سخت لہجے میں کہا ۔’’ پہلے ہما ری پو ری با ت سُنو !‘‘

جی سر ! ‘‘ میں سہم کر ایک دم سے چُپ ہو گیا ۔’’ دیکھو! ہم ابھی تمھا رے سا تھ دو چا ر سپا ہی روانہ کر سکتے ہیں اور سا تھ ہی اُس کے آدمیو ں کی مشکیں کسوا کر یہا ں بُلا سکتے ہیں ۔مگر سو چو اس سے کیا ہو گا ۔وہ دو سرے دن ضما نت پر چھوٹ جا ئے گا اورپھر تمھیں وہیں رہنا ہے اور وہ ہے غنڈا آ دمی ۔چھوٹنے کے بعد وہ انتقا ماً کچھ بھی کر سکتا ہے۔کیاتم میں اتنی طا قت ہے کہ اس سے ٹکرا سکو ؟‘‘ ’’مگر سر !قا نو ن ۔۔۔۔۔‘‘ اُس نے ہا تھ اُٹھا کر مجھے چُپ کر ا دیا اور سگریٹ کی را کھ ایش ٹر ے میں جھا ڑتا ہوا بولا۔ قا نو ن کی با ت مت کر و ۔ قا نو ن ہم کو بھی معلو م ہے ۔ پو لیس تمھا ری کمپلین پر ایکشن لے سکتی ہے ۔مگر چو بیس گھنٹے تمھا ری حفا ظت کی گا ر نٹی نہیں دے سکتی ۔‘‘

میں گر دن جھُکا ئے چپ چا پ بیٹھا رہا۔انسپکٹر نے دو سر ی سگریٹ سُلگا تے ہو ئے کہا۔’’ دیکھو ! تم سید ھے سا دے آد می معلو م ہوتے ہو ۔ ہو سکے تو وہ جگہ چھو ڑ دو ، اور اگر وہیں رہنا چا ہتے ہو تو پھر ان غنڈو ں کے ساتھ مل کر رہو ۔‘‘ ’’مگر سرر !نا جا ئز شرا ب کا دھندا کر تا ہے کیا پو لیس اُس کا دھندا بند نہیں کر اسکتی ( مجھے فوراً احسا س ہو ا کہ مجھے یہ سوال نہیں پو چھنا چا ہیے تھا ) ایک پل کے لیے انسپکٹر کی آنکھو ں میں غصّہ اتر آ یا ۔اُس نے مجھے گھو ر کر دیکھا ۔ پھر گمبھیر آواز میں بو لا ۔’’ پو لیس خو ب جا نتی ہے کہ کہ اسے کیا کر نا چاہیے ۔ شا مو کا دھندا بند ہو نے سے سا رے کا لے دھند ے بند ہو جائیں گے ایسا نہیں ہے۔‘‘

جی میں آیا کہ دو ں ۔کا لے دھند ے تو بند نہیں ہو ں گے ۔مگر شا مو سے ملنے والا ہفتہ ضر ور بند ہو جائے گا اورتم یہی نہیں جا نتے ۔مگر ایسا کچھ کہنا اپنے آ پ کو اندھے کنو یں میں گر ا نے جیسا ہی تھا ۔کیو ں کہ اگر یہ سا منے بیٹھا ہوا انسپکٹر نا راض ہو جا ئے تو اُلٹا مجھے اندر کر ا سکتا ہے ۔میں نے کتنی ہی دفعہ شا مو کے اڈے پر پو لیس والو ں کو کو کا کو لا پیتے اورسیخ کبا ب اڑا تے دیکھا تھا ۔ایک دو دفعہ تو وہ باہر بیٹھا ہوا ہیڈ کا نسٹیبل بھی دکھا ئی دیا تھا ۔یہ میر ی ہی بھو ل تھی کہ میں یہا ں دو ڑا چلا آ یا تھا ۔مجھے سچ مچ یہا ں نہیں آ نا چا ہیے تھا ۔ان حرا م خو رو ں سے منصفی کی تو قع رکھنا ، کنجو س سے سخا و ت کی امید رکھنے جیسا ہی تھا۔ مجھے یوں گُم سُم بیٹھا دیکھ کر انسپکٹر نے سگریٹ کو ایش ٹرے میں رگڑ تے ہو ئے کہا۔

’’ دیکھو ! اب بھی تم کمپلین لکھوانا چا ہتے ہو تو با ہر جا کر کمپلین لکھوا دینا ۔ایک کا نسٹیبل تمھا رے سا تھ آ ئے گا اور شا مو کو یہا ں بُلا ئے گا ۔اب تم جا سکتے ہو ۔‘‘ اتنا کہہ کر اُ س نے میز پر رکھی گھنٹی بجا ئی۔ جھٹ ایک حوالدا ر اندر داخل ہوا ۔انسپکٹر نے رعب دا ر آ واز میں کہا۔’’ دیکھو یہ کو ئی کمپلین لا ج کر نا چا ہتے ہیں ۔ پانڈ ے سے کہو ان کی کمپلین لکھ لے اور بھا لے را و کو ان کے سا تھ بھیج دے۔‘‘

یس ۔۔۔۔۔سر ۔۔۔۔ !‘‘ حوالدا ر نے سر جھُکا کر کہا ۔پھر میری طر ف مڑ کر بو لا۔ ’’ چلو ۔‘‘ میں حوالدا ر کے پیچھے با ہر نکل آ یا۔ حوالدا ر نے اُسی مو ٹے کانسٹیبل کو مخا طب کر ہو ئے کہا ۔ ’’ پا نڈ ے صا حب ! بڑے صا حب نے اس آ د می کی کمپلین لا ج کر نے کو کہا ہے ۔‘‘پا نڈ ے نے خشو نت آ میز نظر و ں سے میری طر ف دیکھا ۔ چڑ چڑا ہٹ اور بیزا ر ی اُس کے چہر ے سے صا ف پڑھی جا سکتی تھی۔ایک لمحے کو اُس کی اور میری نظریں ملیں ۔میں نے دھیرے سے کہا۔ ’’مجھے کوئی کمپلین نہیں لکھوا نی ہے۔‘‘اتنا کہ کر میں تیزی سے در وا ز ے کے با ہر نکل گیا ۔اپنے پیچھے میں نے پا نڈ ے کی آ وا ز سُنی جو شا ید بھا لے را وسے کہہ رہا تھا ۔

’’ ذرااِ ن کا حلیہ تو دیکھ ۔دَم تو کچھ بھی نہیں اور چلے ہیں دا دا لو گو ں سے ٹکرلینے ۔‘‘ میں تیز تیز قد م اُٹھا تا ہوا پو لیس اسٹیشن کے با ہر نکل آ یا۔ کلا ئی کی گھڑی دیکھی ، دس بج رہے تھے ۔ دُکا نیں قریب قریب بند ہو چکی تھیں۔صر ف نیو اسٹا ر ہو ٹل کُھلا تھا اور پا ن وا لے کی دُکا ن پر کچھ لو گ کھڑ ے نظر آ رہے تھے ۔ میں نے جیب سے دس پیسے کا ایک سکّہ نکا لا اور پا ن والے سے این پنا ما سگریٹ خرید کر پا س ہی جلتے ہو ئے چرا غ سے اُسے سلگا یا۔

میرے قدم پھر اپنے محلے کی طر ف اُ ٹھ گئے ۔ میں اُس وقت بالکل خا لی الذہن ہو گیا تھا۔ نہ مجھے شامو پرغصّہ آرہا تھا نہ پانڈے حوالدار پر نہ پولیس انسپکٹر پر۔ مجھے وہ تینوں ایک جیسے ہی لگے۔ انسپکٹر کی باتوں نے مجھے جھنجھوڑ کررکھ دیا تھا۔ مجھے لگ رہاتھا۔ سچائی، انصا ف اور شرا فت سب کتا بی باتیں ہیں۔ حقیقی زندگی سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اس دنیا میں شریف اور ایما ندار آدمی کو لوگ اسی طرح نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جس طرح کسی زمانے میں برہمن، شُدر لوگوں کو دیکھتے تھے۔ میں ریلو ے پٹری کراس کر کے پتلی سڑک پر آگیا۔ نا لیو ں سے اٹھنے والے بد بو کے بھبکو ں نے میرا استقبا ل کیا ۔ میں پھر اپنے محلے میں دا خل ہو چکا تھا ۔ سامنے شا مو کے اڈ ے پر ویسی ہی چہل پہل تھی ۔سیخ کبا ب والے کی انگیٹھی بر ابر دہک رہی تھی اور گلا سو ں کی کھنک اور پینے والو ں کی بہکی بہکی گا لیا ں گالیا ں فضا میں تیرتی پھر رہی تھیں۔

میں ایک پل کے لیے ٹھٹکا۔ پھر اپنے گھر کی طرف مُڑ نے کے بجائے شامو دادا کے اڈّے کی طر ف بڑھ گیا۔ قریب پہنچ کر میں نے اڈّے کا جائزہ لیا۔ پانچ دس آدمی بینچوں پر بیٹھے، سیخ کباب چکھتے، شراب کے گھونٹ لے رہے تھے۔ سوڈا واٹرکی بوتلیں اور شرا ب کے گلاس اُنکے سامنے رکھے تھے۔ دیسی شراب کی تیز بُو میرے نتھنوں سے ٹکرائی۔ دو چھوکرے پینے والوں کو سرو کر رہے تھے۔ اُن میں ایک وہی تھا جس نے مجھ پر چاقو اُٹھایا تھا۔ میں جیسے ہی روشنی میں آہا۔ اُسکی نظر مجھ پر پڑی ایک لمحے کے لیے وہ چونکا پھر اپنے ہاتھ میں دبی سوڈے کی بوتل دوسرے چھوکرے کے ہاتھ میں تھماتا ہوا دھیمی آواز میں کچھ بولا۔ اُس چھوکرے نے بھی پلٹ کر مجھے دیکھا اور پھر لپک کر اندر کے کمرے میں چلا گیا۔ مجھ پر چاقو اُٹھانے والا اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکّھے اسی طر ح کھڑا مجھے گھور رہا تھا۔ میں دھیرے دھیرے چلتا ہوا قریب کی ایک بینچ پر جاکر بیٹھ گیا ۔اتنے میں شا مو لُنگی اوربنیا ن پہنے با ہر نکلا۔اُس کے ساتھ دو چھوکرے اور بھی تھے ۔ شامو دادا کے تیور اچھے نہیں تھے۔

’’ کون ہے رے!‘‘اُس نے تیکھے لہجے میں مجھ پر چاقو اُٹھانے والے چھوکرے سے پو چھا۔ پھر اُسکے جواب دینے سے پہلے ہی اُسکی نظر مجھ پر پڑ گئی اور وہ بھی ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گیا۔ میری نظریں اُسکے چہر ے پر گڑی ہوئی تھیں۔ اُس نے اُن چھوکروں سے کچھ کہا۔ جسے میں نہیں سن سکا۔ پھروہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا میرے قریب آکر کھڑا ہو گیا۔دو سرے چھوکرے چند قدم کے فا صلے سے مجھے نیم دائر ے کی شکل میں گھیرے کھڑے ہو گئے۔ شراب پینے والے دوسرے گاہک بھی اب بہکی بہکی باتیں کرنے کی بجا ئے ہماری طر ف دیکھنے لگے تھے۔ شاید وہ بھی سمجھ گئے تھے کہ اب یہاں کچھ ہونے والا ہے۔ میں اسی طر ح بینچ پر بیٹھا شامو دادا کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شامو نے اپنی لُنگی اوپر چڑھاتے ہوئے کڑے لہجے میں پو چھا۔

’’ اب کیا ہے ۔‘‘معاً اُسکی اور میری نظر یں ملیں۔ اُسکی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ میں نے نہایت پُر سکو ن لہجے میں جواب دیا۔’’ پاوسیر موسمبی اور ایک سادا سوڈا ۔‘‘شامو کے ہاتھ سے لُنگی کے چھور چھوٹ گئے اور وہ حیرت سے میری طر ف دیکھنے لگا۔

نیم دا ئرے کی شکل میں کھڑے اُس کے چھوکرے بھی حیران نظر وں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔اُنکے لیے میرا یہ رویّہ شاید قطعی غیر متو قع تھا۔ وہ سب پتھر کی مورتیو ں کی طرح بے حس و حر کت کھڑے میری طر ف دیکھ رہے تھے۔ اُنکی آنکھوں میں اس وقت ایک عجیب قسم کی پریشانی جھلک رہی تھی۔ چند ثانیوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ اُس وقت وہ مجھے بہت بے بس نظر آئے۔ اور انکی اُس بے بسی کو دیکھ کر مجھے اندر سے بڑی را حت کا احسا س ہوا۔ چند سیکنڈ تک کوئی کچھ نہ بولا۔ میں نے اُسی ٹھہرے ہو ئے لہجے میں آگے کہا۔ ’’ اور ایک پلیٹ بھُنی ہوئی کلیجی بھی دینا۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *