دولھا | تحریر امجد مرزا لندن

bride-qnd-grome

امجد مرزا کا خوبصورت انشائیہ

دولھا جسے پنجاب کے علاقے میں مراج ،لاڑھا اور بنڑا بھی کہتے ہیں اس کے چاہے کتنے بھی نام ہوں کا م ایک ہی ہوتا ہے کہ اس نے منہ پہ

Amjad Mirza London

امجد مرزا

رومال رکھے سہرا سجائے کبھی گھوڑی پہ کبھی کار میں اور کبھی پیدل چل کر ایک معصوم سی لڑکی کو دلہن بنا کر سارے گھر کا سامان ٹرک میں لدوا کر سینہ پھلائے اس طرح اپنے گھر میں داخل ہونا ہے جیسے پانی پت کی لڑائی جیت کر آیا ہو ۔۔۔
اور پھر جسے باپ دن میں چار بار اس کے نکمے پن پہ گالیاں دیتا ہو ،ماں دن چڑھے تک سونے پہ کوستی ہو ،رشتہ دار گھر میں اکیلے داخل نہ ہونے دیتے ہوں دوست یار منہ پرے کرکے گذرتے ہوں کہ ادھار نہ مانگ لے ،وہ ایک اچھے بھلے انسان کا مالک اس کا ناخدا بن کر ساری زندگی حکم چلاتا ہے ۔۔۔
میں بچپن میں کسی دولھے کو گھوڑی پہ بیٹھے سہرے کی لڑیوں کاجھومر ماتھے پہ لہراتے،کڑھائی والی ماں یا خالہ پھوپھو کی چادر اوڑھے ایک ہاتھ میں گھوڑے کی لگام پکڑے دوسرے ہاتھ سے منہ پر رومال رکھے ،آگے پیچھے بینڈ بجانے والے یا ہینجڑے ناچتے اور باپ چاچا یا ماما کو بیگ سے پیسے آنے اور دونیاں ہوا میں بکھیرتے دیکھتا تو میرے دل میں دو خواہشیں جنم لیتیں۔ایک اس دولھے کو کھینچ کر اتار کے خود بیٹھ جاؤں اور گھوڑی کو زور سے ایڑ لگا کر بھگا لے جاؤں۔۔اور دوسری خواہش ہوتی کہ اس کے منہ سے رومال ہٹا کر دیکھوں کہ یہ اپنا منہ کیوں چھپا رہا ہے کیا دانت صاف نہیں کئے یا پھر منہ میں دانت ہی نہیں ہیں ۔۔۔
منہ پہ رومال رکھنے کا عقدہ تو اس وقت کھلا جب ہم خود دولھا بن کر اپنے پرانے بچپن کے دوست کے سالے کی کار میں بیٹھ کر جہلم گئے ۔۔گو یہ دل میں عہد کیا ہوا تھا کہ ہم لندن سے گئے ہوئے نئے زمانے اور نئے خیالات کے نوجوان ہیں یہ فرسودہ رسم نہیں اپنائیں گے۔لہذا ہم نے قراقلی کی ٹوپی تو پہن لی مگر سہرا اور اماں کے جہیز کی کاڑھی ہوئی تلے پٹے والی چادر کندھوں پہ نہ ڈالی ۔رومال تو ہم شروع سے ہی جیب میں رکھتے تھے ۔۔اور شکر ہے یہ عادت تھی ۔۔کیونکہ ہم جوں ہی کار سے نیچے اترے سسرالیوں کے استقبال اور پھولوں کے ہاروں نے ہمارے پاؤں اکھاڑ دیئے اور پھر جب ہم گھر کے اندر بلائے گئے۔۔تو نجانے ہماری مسکراہٹ (ہنسنے اور قہقوں کے لئے تو ہم مشہور تھے ہی) رکنے کانام ہی نہ لیتی۔۔نجانے وہاں ایسی کیا بات تھی کہ ہم مُس مُس کئے جارہے ہیں ۔۔تو ہمارے ساتھ ایک تجربہ کار بزرگ نے کان میں سرگوشی کی کہ بیٹے رومال منہ پہ رکھ لو ۔۔۔
اور ہم سوچنے لگے ۔۔۔اب یہ نہ تو رواج ہے نہ ہی یہ رسم ۔۔۔یہ کم بخت وہ مسکراہٹ ہے جو اس وقت دولھا کے لبوں پہ ناچ ناچنے لگتی ہے اور وہ بے چارہ اس سے مجبور ایک ہاتھ سے رومال منہ پہ رکھ لیتا ہے ۔۔۔
اور سچی بات ہے وہ رومال اس روز بہت ہی کام آیا ۔۔کیونکہ ہم دل کے بھی بہت کمزور اور طبیعت کے بہت حساس واقع ہوئے ہیں ،فلمیں ڈرامے دیکھ کر تو روتے ہی تھے ۔۔اب اپنی لکھی ہوئی کہانیوں پر بھی رو پڑتے ہیں ۔۔مگر اس روز جب دلہن کو ہمارے ساتھ الوداع کیاگیا اور اس کی سکھیاں ،بہن بھائی اور والدین رو رہے تھے ۔۔ توہم نے بھی اپنا وہ رومال منہ سے ہٹا کر لوگوں کی نظریں بچا کر اپنی آنکھوں کو خشک کیا۔۔۔نجانے ان سب کو روتا دیکھ کر ہماری آنکھیں کیوں گیلی ہوگئیں۔۔۔شاید رشتہ داری نزدیکی تھی ہمیں بھی ان کی اس بے چارگی پہ دکھ ہوا ۔۔۔اچھی بھلی پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی پال پوس کر ایک ایسے آدمی کے حوالے کردی ۔۔جسے آخری عمر میں ایسے انشایئے اور bride-qnd-gromeکہانیاں لکھنی تھیں۔۔۔
بہرکیف پھر ہمیں پتہ چلا کہ دولھے کے منہ پہ وہ رکھا ہوا رومال کتنا اہم ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
ہمیں اب بھی اپنا دولھا بننا یاد آتا ہے تو نجانے کیوں ایک مسکراہٹ سی ہونٹوں پہ پھیل جاتی ہے ۔۔اور ہم اکیلے میں مسکراتے ہی نہیں کبھی کبھی کھل کھلا کے ہنسنے لگتے ہیں ۔۔اور گھر والے دیکھ کر کچھ نہیں بولتے ۔۔۔وہ جانتے ہیں کہ اس عمر میں اکثر بوڑھے سٹھیا جاتے ہیں کبھی اکیلے رونے لگتے ہیں یا کبھی ہنسنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔
کہتے ہیں انسان کو لوگ تین بار ضرور دیکھتے ہیں ایک بار پیدا ہونے پر،دوسری بار دولھا یا دلھن بنے ہوئے اور تیسری بار جب چارپائی پہ میّت پڑی ہو اسکی ۔۔۔
ہمیں دو بار تو بہت دیکھا گیا ہے ۔۔۔اب اللہ جانے تیسری بار کب اور کتنے لوگ دیکھیں گے ۔۔۔کتنے خوش ہوں گے ۔۔۔۔اور کتنے اداس ہوں گے ۔۔۔۔۔
مگرانسان کے آخری دونوں مواقع پر لوگوں کا ہجوم ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔لوگ ایک بندھی بندھائی روٹین کے مطابق شامل ہوتے ہیں ۔اسی طرح گھر والے ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں۔۔۔بس فرق ہے تو پہلے دن صرف دلہن والے روتے تھے اور دوسری بار دونوں گھرانے روتے ہیں۔۔۔
اسی طرح جیسے پہلے دن بچہ دنیا میں آکر روتا ہے کہ میرا کیا ہوگا اور آخری بار اسکے گھر والے روتے ہیں کہ اب ہمارا کیا ہوگا ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *