Amjad Islam Amjad Famous Poems

      No Comments on Amjad Islam Amjad Famous Poems
Amjad Islam Amjad

Amjad Islam Amjad Beautiful  Poems

انتخاب:ارویٰ سجل

محبت کی طبیعت میں
یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
اِسے تائیدِ تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقیں کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو
ہزاروں طرح کے دلکش حسیں ہالے بناتی ہو
اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے
محبت مانگتی ہے یُوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفلِ سادہ شام کو اِک بیج بوئے
اور شب میں اُٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے
کہ پودا اب کہاں تک ہے؟؟؟
محبت کی طبیعت میں عجب تکرار کی خَو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑنے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو مجھ سے محبت ہے
کہو مجھ سے محبت ہے

Amjad Islam Amjad

تمھیں مجھ سے محبت ہے
سمندر سے کہیں گہری
ستاروں سے سوا روشن
ہواؤں کی طرح دائم
پہاڑوں کی طرح قائم
کچھ ایسی بے سکونی ہے وفا کی سرزمینوں میں
کہ جو اہلِ محبت کو سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو کہ جیسے ہاتھ میں تارا
کہ جیسے شام کا تارا
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے
گُمنام کے شاخوں میں آشیانہ بناتی ہے اُلفت کا
یہ عین وصال میں بھی ہجر کے خدشوں میں رہتی ہے
محبت کے مسافر زندگی جب کاٹ چکتے ہیں
تھکن کی کرچیاں چنتے وفا کی اجرکیں پہنے
سمے کی راہ گزر کی آخری سرحد پہ رُکتے ہیں
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر
دھیرے سے کہتا ہے
کہ یہ سچ ہے نا
ہماری زندگی اک دوسرے کے نام لکھی تھی
دُھندلکا سا جو آنکھوں کے قریب و دُور پھیلا ہے
اسی کا نام چاہت ہے
تمھیں مجھ سے محبت ہے
تمھیں مجھ سے محبت ہے

Amjad Islam Amjad Poetry

Amjad Islam Amjad

آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے میں
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں
رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں
دھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک کی لائنیں لگاتے ہیں
ہر دسمبر کے آخری دن میں
ہر برس کی طرح اب بھی
ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہونگے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سمٹ گئے ہونگے
ہردسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری ،دوست دیکھتے ہونگے
ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نشاں صفحوں سے
نام میرا بھی
کٹ گیا ہوگا

Amjad Islam Amjad Famous Poetry

Amjad Islam Amjad

ﺑﺎﺭﺵ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ
ﺑﺎﺭﺵ ﺗﮭﯽ، ﮨﻢ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻨﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺷﺎﻡ
ﺗﻢ ﻧﮯ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ، ﺁﻭٔ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺑﮭﯿﮕﺘﮯ ﭼﻠﯿﮟ
ﺍِﻥ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﺗﻠﮏ ﮔﮭﻮﻣﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﺎ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ
ﮐﺎﻧﺪﮬﮯ ﭘﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺭﮨﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ
ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ،ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﻟﻮﮞ
ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﻟﻮﮞ
ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺟﻮ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﺭُﺥ ﭘﺮ ﮐﮭﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﺍِﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻨﮏ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﮨﻮﻧﭧ ﺳﮯ ﺍِﻥ ﮐﻮ ﭼُﻨﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﺩِﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﺗﺎﺭﮮ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﯾﮟ، ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﯿﮟ
ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﻟﭙﭩﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﯿﮟ
ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ “ ﺁﻭٔ ﭼﻠﯿﮟ، ﺭﺍﺕ ﺁ ﮔﺌﯽ
ﺩﻝ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮈﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﮨﯽ ﺑﺎﺕ ﺁ ﮔﺌﯽ
ﺑﯿﺘﮯ ﺳﻤﮯ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﯽ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
ﯾﮧ ﺩﻝ ﮐﮩﯿﮟ ﻭﺻﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﮧ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺍﯾﮏ ﭼُﭗ ﺳﯽ ﺭﮨﯽ ﺩﺭﻣﯿﺎﮞ ﻣﯿﮟ
ﮔﺮﮨﯿﮟ ﺳﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﮍﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﮞ ﺯﺑﺎﮞ ﻣﯿﮟ
ﯾﮏ ﺩﻡ ﮔِﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺎﺧﺴﺎﺭ ﺳﮯ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺍﺿﻄﺮﺍﺭ ﺳﮯ
ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮕﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﮭﻮﻧﮑﮯ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺗﮭﮯ
ﻭﮦ ﭼﻨﺪ ﺑﮯ ﮔﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻟﻤﺤﮯ، ﺑﻼ ﮐﮯ ﺗﮭﮯ
ﻧﺸﮧ ﺳﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﭘﮭﯿﻠﺘﺎ ﮔﯿﺎ
ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ

Amjad Islam Amjad Shayari

Amjad Islam Amjad

محبت ابر کی صورت
دلوں کی سر زمیں پہ گھر کے آتی ہے اور برستی ہے
چمن کا ذرہ زرہ جھومتا ہے مسکراتا ہے
ازل کی بے نمو مٹی میں سبزہ سر اُٹھاتا ہے
محبت اُن کو بھی آباد اور شاداب کرتی ہے
جو دل ہیں قبر کی صورت
محبت ابر کی صورت

محبت آگ کی صورت
بجھے سینوں میں جلتی ہے تودل بیدار ہوتے ہیں
محبت کی تپش میں کچھ عجب اسرار ہوتے ہیں
کہ جتنا یہ بھڑکتی ہے عروسِ جاں مہکتی ہے
دلوں کے ساحلوں پہ جمع ہوتی اور بکھرتی ہے
محبت جھاگ کی صورت
محبت آگ کی صورت

محبت خواب کی صورت
نگاہوں میں اُترتی ہے کسی مہتاب کی صورت
ستارے آرزو کے اس طرح سے جگمگاتے ہیں
کہ پہچانی نہیں جاتی دلِ بے تاب کی صورت
محبت کے شجر پرخواب کے پنچھی اُترتے ہیں
تو شاخیں جاگ اُٹھتی ہیں
تھکے ہارے ستارے جب زمیں سے بات کرتے ہیں
تو کب کی منتظر آنکھوں میں شمعیں جاگ اُٹھتی ہیں
محبت ان میں جلتی ہے چراغِ آب کی صورت
محبت خواب کی صورت

محبت درد کی صورت
گزشتہ موسموں کا استعارہ بن کے رہتی ہے
شبانِ ہجر میں روشن ستارہ بن کے رہتی ہے
منڈیروں پر چراغوں کی لوئیں جب تھرتھر اتی ہیں
نگر میں نا امیدی کی ہوئیں سنسناتی ہیں
گلی جب کوئی آہٹ کوئی سایہ نہیں رہتا
دکھے دل کے لئے جب کوئی دھوکا نہیں رہتا
غموں کے بوجھ سے جب ٹوٹنے لگتے ہیں شانے تو
یہ اُن پہ ہاتھ رکھتی ہے
کسی ہمدرد کی صورت
گزر جاتے ہیں سارے قافلے جب دل کی بستی سے
فضا میں تیرتی ہے دیر تک یہ
گرد کی صورت
محبت درد کی صورت

Amjad Islam Amjad

Amjad Islam Amjad

دل کے آتشدان میں شب بهر
کیسے کیسے غم جلتے ہیں
نیند بهرا سناٹا جس دم
بستی کی اک اک گلی میں
کهڑکی کهڑکی تهم جاتا ہے
دیواروں پر درد کا کوہرا جم جاتا ہے
رستہ تکنہ والی آنکهیں اور قندیلیں
بجهہ جاتی ہیں
تو اس لمحے تیری یاد کا ایندهن بن کر
شعلہ شعلہ ہم جلتے ہیں
تم کیا جانو
قطره قطره دل میں اترتی اور پگهلتی
رات کی صحبت کیا هوتی ہے
آنکهیں اپنے خواب بجها دیں
چهرے اپنے نقش گنوا دیں
اور آئینے عکس بهلا دیں
ایسے میں امید کی وحشت
درد کی صورت کیا ہوتی ہے
ایسی تیز ہوا میں
بڑے بڑے منہ زور دئیے بهی کم جلتے ہیں
دل کے آتشدان میں شب بهر
تیری یاد کا ایندهن بن کر
ہم جلتے ہیں…..!

Amjad Islam Amjad Ghazals

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *