Amjad Islam Amjad 2 Line Poetry

Amjad Islam Amjad 2 line Poetry

امجد اسلام امجدؔ کے لاجواب کلام میں سے منتخب اشعار

انتخاب: محمد امجد

بس ایک شام بڑی خامشی سے ٹوٹ گیا
ہمیں جو مان تری دوستی میں رہتا تھا

کہاں آکے رکنے تھے راستے،کہاں موڑ تھا،اسے بھول جا
و ہ جو مل گیا اسے یاد رکھ،جو نہیں ملا اسے بھول جا

چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن
کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن

Amjad Islam Amjad Poetry

Amjad Islam Amjad 2 line Poetry

رنگ دھنک نے بکھرائے ہیں،موسم اچھا ہے
گئے زمانے یاد آئے ہیں،موسم اچھا ہے

موسم موسم آنکھوں کو اِک سپنا یاد رہا
صدیاں جس میں سمٹ گئیں وہ لمحہ یاد رہا

تو چل اے موسمِ گریہ،پھر اب کی بار بھی ہم ہی
تری انگلی پکڑتے ہیں،تجھے گھر لے کے چلتے ہیں

Amjad Islam Amjad Shayari

Amjad Islam Amjad 2 line Poetry

کسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہ رُک کے تم کو صدائیں دُوں گا
سمندروں کے سفر پہ نکلو تو اُس جزیرے پہ بھی اُترنا

عجیب موڑ پہ ٹھہرا ہے،قافلہ دل کا
سکون ڈھونڈنے نکلے تھے،وحشتیں بھی گئیں

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجدؔ ہم نے بچتے دیکھا کم

نہ کوئی غم خزاں کا ہے،نہ خواہش ہے بہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے امجدؔ کسی کی یاد کا موسم

بہت نزدیک ہو کر بھی وہ اِتنا دور ہے مجھ سے
اشارہ ہو نہیں سکتا،پکارا جا نہیں سکتا

Amjad Islam Amjad 2 Line Poetry

Amjad Islam Amjad 2 line Poetry

شامِ عِشق کی سیر بہانے تم بھی آجاؤ
دوست پرانے سب آئے ہیں،موسم اچھا ہے

ناٹک میں جیسے بکھرے ہوں کردار جا بجا
امجد فضائے جال میں ہے یوں بے قرار دُھند

کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے
نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے

ترے جمال سے آنکھیں حسیں ہیں میری
ترے خیال سے دل میں چراغ جلتے ہیں

اتنی سندر ہو کہ نہیں
بس تم مجھے اچھی لگتی ہو

وہ دہکتی ہوئی لَو کہانی ہوئی وہ چمک دارشعلہ فسانہ ہوا
وہ جو الجھا تھا وحشی ہوا سے کبھی،اُس دیئے کو بجھے زمانہ ہوا

Amjad Islam Amjad

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *