علی افتخار جعفری صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب کلام

علی افتخار جعفری صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب کلام

انتخاب: مہر خان

چمن میں وہ فراموشی کا موسم تھا میں خود کو بھی
زمیں پر برگ آوارہ نظر آیا تو یاد آیا

ابھی اک نسبت دار و رسن کا قرض باقی ہے
فراز جاہ و منصب سے اتر آیا تو یاد آیا

بھلایا گردش ایام نے دس پدر یوں تو
مگر جب موڑ کوئی پر خطر نظر آیا تو یاد آیا

کسی کی آنکھ کا تارا ہوا کرتے تھے ہم بھی تو
اچانک شام کا تارا نظر آیا تو یاد آیا

بھرا بازار تھا کچھ جنس جاں کے دام لگتے
شہادت گاہ دنیا سے گزر آیا تو یاد آیا

علی افتخار جعفری

علی افتخار جعفری صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب کلام

رنگ محفل سے فزوں تر مری حیرانی ہے
پیرہن باعث عزت ہے نہ عریانی ہے

نیند آتی ہے مگر جاگ رہا ہوں سر خواب
آنکھ لگتی ہے تو یہ عمر گزر جانی ہے

اور کیا ہے تری دنیا میں سواۓ من و تو
منت غیر کی زلت ہے جہاں بانی ہے

چوم لو اس کو اسی عالم مدہوشی میں
آخر خواب وہی بے سروسامنی ہے

اپنے ساماں میں تصاویر بتاں ہیں یہ خطوط
کچھ لکیریں ہیں کف دست ہے پیشانی ہے

علی افتخار جعفری

سر بچے یا نہ بچے طرہء دستار گیا
شاہ کج فہم کو شوق دو سری مار گیا

اب کسی اور خرابے میں صدا دے گا فقیر
یاں تو آواز لگانا مرا بے کار گیا

سر کشو شکر کرو جاۓ شکایت نہیں دار
سر گیا بار گیا طعنہ اغیار گیا

اولیں چال سے آگے نہیں سوچا میں نے
زیست شطرنج کی بازی تھی سو میں ہار گیا

صد ایام پہ پٹخے ہے دوانہ سر کو
جس کو چاہا کہ نہ جاۓ وہی اس بار گیا

علی افتخار جعفری

بر سر باد ہوا اپنا ٹھکانہ سر راہ
کام آیا مرا آواز لگانا سر راہ

دوستو فرط جنوں راہ بدلتا ہے مری
کس نے چاہا تھا تمھیں چھوڑ کے جانا سر راہ

دل ملاقات کا خواہاں ہو تو خاک اڑتی ہے
بچ کے چلتا ہوں تو ملتا ہے زمانا سر راہ

یہ جو مٹی تن باقی کی لیے پھرتا ہوں
چھوڑ جاؤں گا کہیں یہ بھی خزانا راہ

تم کسی سنگ پہ اب سر کو ٹکا کے سو جاؤ
کون سنتا ہے شب غم کا فسانا سر راہ

رہ دنیا میں ٹھرنا تو نہیں تھا دل کو
مل گیا ہو گا کوئی خواب پرانا سر راہ
علی افتخار جعفری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *