Ali Akbar Interview By Usman Atis

      No Comments on Ali Akbar Interview By Usman Atis
Ali Akbar Interview By Usman Atis

آن لائن اردو ڈاٹ کام کی جانب سے انٹرویو

علی اکبرکرنالوی صاحب کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: عثمان عاطسؔ

آن لائن اردو: اگر کچھ اپنی اوائل عمری کے باری میں بتانا مناسب سمجھیں تو؟
علی اکبرکرنالوی: میرا تعلق ایک پڑھے لکھے گھرانے سے اسطرح ہے کہ میرے والد صاحب 1947 میں بی ایس سی ایگریکلچر تھے۔ اور 1951 میں انھوں نے ایم ایس سی کیا۔میرے سب سے بڑے بھائی پی ایچ ڈی شماریات لندن سے ہیں۔ اور سابقہ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور۔ ریٹائرڈ ہوے ہیں۔ مختصر کر تے ہوئے یہ کہوں گا، ہم نو بہن بھائیوں میں سے کوئی انڈر گریجویٹ نہیں ہے۔ اور آج ہمارے بچوں میں تین ایف سی پی ایس ڈاکٹرز چھ پی ایچ ڈی اورتین انجینئرز بن چکے ہیں۔

میں میٹرک ایم سی ہائی سکول فیصل آباد سے 1975 میں کیا انٹر گورنمنٹ کمرشل کالج ملتان سے کیا گریجویشن{ بی کام} ہیلے کالج آف کامرس پنجاب یونیورسٹی سے 1981 میں کیا ایم بی اے 1999 میں کیا۔ ہائی سکول کےزمانے میں انٹر سکولز بیت بازی کے مقابلے متعدد بار جیتے، یعنی کہ شعر و شاعری سے لگاؤ سکول کے دور سے شروع ہو گیا تھا، فرسٹ ایر میں باقاعدہ شاعری کرنا شروع کی، لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ والد صاحب نے پڑھائی پر توجہ مرکوز کروا دی۔

آن لائن اردو: آپ کا نام اور قلمی نام ؟ نیز اس قلمی نام رکھنے کی کوئی خاص وجہ؟
علی اکبرکرنالوی: میرا پورا نام علی اکبر خاں ہے، میرے والد صاحب انڈیا کے ضلع کرنال سے ہجرت کر کے پاکستان آئے، اس لیے میں نے اپنا تخلّص کرنالوی رکھا ہے۔
آن لائن اردو: ان اساتذہ کا نام جن سے آپ اصلاح لیتے ہوں؟
علی اکبرکرنالوی: آغاز میں فیصل آباد کےاُبھرتے ہوے شاعر جناب سلیم بیتاب سے سیکھنے کا عمل جاری کیا، میں ان سے متاثر بھی بہت تھا، لیکن اللہ نے ان کو جلد ہی اپنے پاس بلا لیا۔ اُن کا ایک مشہور زمانہ شعر آپکے ذوق کی نظر کرتا ہوں۔
“میں نے تو یونہیخاک میں پھیری تھی انگلیاں
دیکھا تو غور سے تیری تصویر بن گئی ”

Ali Akbar Interview By Usman Atis

آن لائن اردو: کن شعراء سے متاثر ہیں؟ نئے اور پرانے آپکے پسندیدہ شاعر کون سے ہیں؟
علی اکبرکرنالوی: پرانے شعراء کرام میں غالب. علامہ اقبال. اور حفیظ جالندھری کو پڑھ چکا ہوں اور عہد ِ جدید کے بہت سارے شاعروں کو پڑھا ہے۔ جن میں قابل ِ ذکر نام پروین شاکر، محسن نقوی، امجد اسلام امجد، احمد فراز اور فیض احمد فیض ہیں۔
آن لائن اردو: آپ نے لکھنا کب شروع کیا؟ نیزپہلی تحریر کیا تھی؟ اور آپ کی پہلی تحریر کب اور کہاں شائع ہوئی؟
علی اکبرکرنالوی: میں نے دوبارہ باقاعدہ شاعری کا آغاز 2014 میں کیا ہے۔ اور آجکل میں حرف اکادمی انٹرنیشنل راولپنڈی سے جڑا ہوا ہوں۔ میرے اساتذہ بھی اسی حرف اکادمی انٹرنیشنل سے، کرنل سید مقبول،اور عرفان خانی ناظمِ اعلی، ہیں میری پہلی تحریر ایک غزل ” عالمی ادارو بیسٹ اردو پورٹری” ہانگ کانگ میں چھپی،

آن لائن اردو: اپنے کلام میں سے اپنا پسندیدہ کلام ( کوئی شعر، نظم یا غزل) جو آن لائن اردو کے قارئین کی بصارتوں کی نذز کرنا چاہیں؟

علی اکبرکرنالوی: پسندیدہ غزل

پیار کا گیت سناؤں گا چلا جاؤں گا
پھول گلشن میں کھلا ؤں گا چلا جاؤں گا

تو ہے دریا تو دہکتا ہوا سورج میں ہوں
آگ پانی میں لگاؤں گا چلا جاؤں گا

آج تو جشن بہاراں میں گلے مجھ کو لگا
زخم کانٹوں کے دکھاؤں گا چلا جاؤں گا۔

دل کی دہلیز ِ محبت پہ تری آنکھوں میں
اپنی تصویر بناؤں گا چلا جاؤں گا

عشق میں کون ہے مرتا یہ جہاں کہتا ہے
میں تجھے مر کے دکھاؤں گا چلا جاؤں گا

آن لائن اردو: آپکو لکھنے کے لئے کون سا وقت، کون سی جگہ پسند ہے، اور کیوں؟
علی اکبرکرنالوی: مجھے لکھنے کے لیے صبح نماز کے بعد کا وقت بہت راس ہے، اپنے گھر میں اپنے بیڈ پر۔
آن لائن اردو: آپ ماحول بنا کر سوچ سمجھ کر لکھتے ہیں یا شاعری کی طرح خیالات کی آمد ہوتی رہتی ہے؟
علی اکبرکرنالوی: میں دونوں صورتوں میں لکھ لیتا ہوں۔ محول بنا کر بھی اور فِل بدی بھی۔
آن لائن اردو: کیا شاعری کے لئے محبت یا غم کا ہونا ضروری ہے؟ نیز کیا آپ نے کبھی محبت کی ہے؟
علی اکبرکرنالوی: محبت اور غم شاعری کےلئے ضروری نہیں البتہ اگر یہ ہوں تو شاعری آسان لگنے لگتی ہے اور کوالٹی بہت بہتر ہو جاتی ہے۔

Ali Akbar Interview By Usman Atis

آن لائن اردو: کوئی ایسی کتاب جو آپ چاہتے ہیں کہ سب کو پڑھنی چاہیئے؟
علی اکبرکرنالوی: میرے نزدیک علامہ اقبال کو ضرور سب کو پڑھنا چاہئے۔
آن لائن اردو: آن لائن اردو ڈاٹ کام اردو ادب کے لئے جو کام کر رہی ہے آپکی نظر میں کیسا ہے؟
علی اکبرکرنالوی: آن لائن اردو ڈاٹ کام اردو ادب کے لئے منفرد اور نمایاں کام کر رہی ہے۔ جس کے لئے آن لائن اردو کی پوری مبارک باد کی مستحق ہیں۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ آن لائن اردو ڈاٹ کام کو دن دگنی اور رات چار چوگنی ترقی نصیب کریں۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *