بہ عنوانِ عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرہ

بہ عنوانِ عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرہ

بہ عنوانِ عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرہ

(رپورٹ: نفیسؔ ناندوروی (بھارت

منفرد ادارہ، ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری دورِ حاضر میں دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اِس برقی ترقی یافتہ دَور میں شعراء، ادباء و مُصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسّانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے جو کہ کامیابی سےہمکنار ہوتے ہیں، کامیابی کے اِس منفرد سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ادارے کی جانب سے 4/11/2017، بروز سنیچر، شام 7 بجے، 124واں پروگرام بہ عنوانِ عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرہ منعقد کیا گیا۔

mukhtar

پروگرام شروع ہونے سے تقریباً تین گھنٹے قبل طرحی مصرع دیا گیا، جس پر شعرائے اکرام نے اپنے کمالِ فن اور بَدیہہ گوئی سے طرحی مشاعرے کو سَرسَبز و شاداب کردیا۔ ھٰذا مشاعرہ، آن لائن اردو ادب میں اپنی ایک منفرد تاریخ رقم کرگیا۔ جسکا سَہرا ادارے کے بانی و چئیرمن گولڈ میڈلسٹ محترم توصیف ترنل صاحب کے سَر جاتا ہے۔

پروگرام کے آرگنائزر، محترم توصیف ترنل صاحب (ہانگ کانگ) منصبِ صدارت محترم احمد کاشف صاحب(انڈیا)، مہمانانِ خصوصی محترم آمین اڈیرای صاحب (پاکستان)، محترم امیرالدین امیر صاحب (انڈیا)، مہمانانِ اعزازی محترم شکیل انجم صاحب(انڈیا)، محترم وسیم احسن صاحب (انڈیا)، محترم جہاں آرا تبسم صاحبہ (پاکستان)، ناقدین: محترم مَسعود حسّاس صاحب (بھارت)، محترم شہزاد نیّر صاحب (پاکستان)، نظامت محترم مختار تلہری صاحب (انڈیا) نے اپنے عمدہ اندازِ تخاطب سے محفلِ مشاعرہ میں چار چاند لگا دیئے۔

پروگرام کا آغاز ربِّ ذوالجَلال کی پاک وشفّاف حَمد وثنا کے ساتھ محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ (انڈیا) نے یوں کِیا،
مالکِ ربِّ دو جہاں, حمدوثنا قبول کر
نورِ مکان و لامکاں, حمدوثنا قبول کر
اور رسول اکرم نُور مُجسّم محمّدﷺ کی شانِ اقدس میں نعتیہ کلام کا نظرانۂ عقیدت محترم مختار تلہری صاحب (بھارت) نے پیش کیا۔
غنچہ و گُل میں بسا کر حق نے بوئے مصطفےٰ
رشکِ جنّت کر دیا ہے باغِ کوئے مصطفےٰ

علاوہ ازیں دیگر معزّز شعرائے اکرام میں

Urdu Adab Ko Kaisay Zindah Rakha Jaye

محترم مختار تلہری صاحب
جذبۂ عشق جب مچلتا ہے
خونِ دل آنسوؤں میں ڈھلتا ہے

محترم ظہیر احمد ضیاء صاحب
درد جو خواہشوں میں پلتا ہے
خونِ دل آنسوؤں میں ڈھلتا ہے

محترمہ ڈاکٹر مینانقوی صاحبہ
ہجر کی شب کہاں سنبھلتا ہے
دل تو بچّہ ہے بس مچلتا ہے

محترم علی مزمل خان صاحب
خونِ دل آنسوؤں میں ڈھلتا ہے
تب کہیں آنکھ سے اُبلتا ہے

محترم علیم طاہر صاحب
جب ارادہ عمل میں ڈھلتا ہے
تب کوئی راستہ نکلتا ہے

سروراجیہ انقلابی

محترم نصیر حشمت صاحب
سورجِ وصل جب بھی ڈھلتا ہے
دل یہ مثلِ چراغ جلتا ہے

محترم اشرف علی اشرف صاحب
عشق پہ کس کا زور چلتا ہے
کون ہے ؟ جو کہ بچ نکلتا ہے

محترم امین اڈیرای صاحب
دل میں جب اک گمان پلتا ہے
کتنے پہلو یقیں بدلتا ہے؟

img-20170829-wa0005

محترم حفیظ مینا نگری صاحب
پیار جب نفرتوں میں ڈھلتا ہے
پھول بھی خار میں بدلتا ہے

محترمہ جہاں آرا تبسّم صاحبہ
جب دعاؤں کا دیپ جلتا ھے
ایک سو ر ج نیا نکلتا ھے

محترم شکیل انجم صاحب
غیر تو اپنی راہ چلتاہے
اپنے اپنوں کو اپنا کھلتا ہے

محترم نفیس ناندوروی صاحب
عِشق میں تیرے جب مَچلتا ہے
خونِ دل آنسوؤں میں ڈھلتا ہے

img-20170829-wa0010

محترم احمد کاشف صاحب
وقت سے آگے جو بھی چلتا ہے
وہ نظامِ جہاں بدلتا ہے

مقالہ
تبصرہ نگار: نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی

معزّز شعرائے اکرام نے یکے بعد دیگرے اپنی بدیہہ گوئی اور منفرد خیالات و تفکّرات سے اِس ادبی محفل کو مزید روشناس کردیا… دورِ حاضر میں ادبی سلطنت سِمٹتے سِمٹتے ادیبوں سے آباد چائے خانوں اور انجموں میں رہ گئ تھی لیکن آج کا سائنٹفک دور ادب کو جہاں گیر برقی آلات اور نئے نئے سائنسی پروگرامز تک لے جانے میں کارگر ثابت ہوا ہے، جس کا استعمال ادارۂ ھٰذا کے بانی, گولڈ میڈلسٹ محترم توصیف ترنل صاحب بخوبی جانتے ہیں۔

img-20170829-wa0007

بین الاقوامی سطح پر حالیہ منعقد پروگرام “عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرہ” کے ذریعہ بہترین ادبی کارنامہ سر انجام دیا گیا ہے جس نے ادب و ثقافت کو جلا بخشی اور طے پایا کہ ادب اس مُشک کی مانند ہے جس کی خوشبو بِلا تفاوت ہر سمت پھیلتی ہے۔

ameen udirai

یہ مشاعرہ دراصل موازنہ یا تقابلی تفرق نہیں بلکہ ایک دوربين ہے جس سے ادب کے مستقبل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ آنے والے وقتوں میں ادب کی بقاء ساخت اور پرداخت کس حد تک اور کس طرح ممکن ہے۔ ادبی زاويے کس حد تک اپنا رُخ تبدیل کریں گے۔ اقبال وغالب کا طرز بیاں، قتیل و ساحر کے گیت، فیض و فراق کا تغزل، میر و جِگر کا دَرد، شاذ و ایلیا کی سوچ وفکر وغیرہ مع ادب کو دورِ حاظر کے شعراء کس حد تک ایک ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ طرحی مشاعره میں شامل شعراء کا کلام پڑھنے سے پتہ چلا کہ روایت کے سانچے میں ڈھلنے والے اور جدید لے پر سر دھنّے والے بدیہہ گو شعرا آج بھی میدانِ شاعری میں رقص کناں ہیں۔

اس تاریخی پروگرام میں شریک معزّز موصوفیانِ اردو ادب اور تمامی رفقائے بزم کو ادارے کی جانب سے مبارکباد، ساتھ ہی ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی انتظاميہ بالخصوص محترم توصيف ترنل صاحب کو فائزالمرام خدمتِ اردو ادب کیلئے قلبی تہنیت پیش کرتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *