Akhri khat by Atif Saeed

      No Comments on Akhri khat by Atif Saeed
Akhri khat by Atif Saeed

Atif Saeed ne apni is tihrer main 2 pyar karny walon ke Akhri khat ka zikar kea hai

آخری خط

تحریر:عاطف سعید

بنا اعتماد کے تعلق، پاؤں میں چبھےاس چھوٹے سے کانٹے جیسا ہوتا ہے جو نظر بھی نہیں آرہا ہوتا مگر تکلیف دے رہا ہوتا ہے۔ دل کرتا ہے اسے نکال باہر کریں مگر ڈھونڈیں تو کہیں ملتا ہی نہیں اور جب ڈھونڈنا ترک کر دیں تو اپنے ہونے کا احساس دلا دیتا ہے۔ بنا بھروسے کے تعلق کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ناں!

تم پر میں نے ہمیشہ اعتماد کیا، تمہیں اپنا مان کہا، اپنا مان سمجھا، مجھے جانے کیوں یہ یقین تھا کہ کم از کم تم مجھے کوئی دھوکا نہیں دو گے، تم مجھ سے کچھ نہیں چھپاؤ گے کیونکہ تم جانتے ہو مجھے، مری محبت کے جنون کو، مرے تمہارے ساتھ اخلاص کو- تم جانتے ہو ناں کہ میں نے تمہارا بُت بنایا ہوا تھا جسے میں پوجتی تھی،

اس بُت میں کوئی بھی برائی نہیں رکھی تھی میں نے، نہ کوئی کمزوری، اپنے خون سے سینچا تھا تمہارے بت کو، تم جانتے ہو ناں سب ۔۔۔ تم ہی تو گواہ تھے مرے ہر زخم کے، ہر قربانی کے، ہر تکلیف کے اور ہر احساس کے ۔۔ مجھے جانے کیوں لگتا تھا کہ تم دنیا سے الگ ہو گے، تم مرے یقین کو ٹھیس نہیں بہنچاؤ گے مگر تم  تم بھی دنیا کے فرد نکلے

Akhri khat by Atif Saeed

وار ہی کرنا تھا تو سامنے سے کرتے، میں تمہیں دیکھنا چاہتی تھی کہ اس وقت تمہاری آنکھوں کا رنگ کیا ہوگا، تمہارے چہرے کے تاثرات کیا ہوں گے ۔۔ تمہارے ہاتھ کانپ رہے ہوں گے یا ساکت ہوں گے ۔۔ تم وار کرتے ہوئے مری آنکھوں میں دیکھو گے یا نہیں ۔۔۔ تمہیں سامنے سے وار کرنا چاہیے تھا، مجھے بتا کر ۔۔۔ تم نہیں جانتے مرے پاگل پن کو کیا، میں منع تو نہ کرتی ۔۔ بلکہ تمہارا ساتھ دیتی ۔۔ تم ایک دفعہ کہتے تو ۔۔۔ ایک دفعہ بات تو کرتے ۔۔۔ تم نے تو مجھ سے مری یہ آخری خوشی بھی چھین لی ۔۔۔

تم نے ظلم کیا ناں ۔۔ یہ جانتے ہو ناں تم ۔۔۔ کسی کو قتل کرنا اتنا بڑا جرم نہیں ہوتا جتنا بڑا جرم کسی کا بھروسہ توڑنا ہوتا ہے ۔۔ اور تم نے مرا بھروسہ توڑ دیا ۔۔ اب میں کسی پر یقین نہیں کر سکوں گی ۔۔ خود پر بھی نہیں ۔۔۔
چاہنا اتنا بڑا جرم تو نہیں ہوتا کہ جس کی اتنی بڑی سزا دی جائے ۔۔ تم نے وہ کیا جو تم کر سکتے تھے اور میں وہ کروں گی جو میرے خون میں ہے ۔۔۔

اُس کا آخری خط اس سے آگے مجھ سے پڑھا ہی نہیں گیا، اس نے تو مجھ سے معافی مانگنے کی ہمت بھی چھین لی، اس کی محبت اور جنون نے مجھے وہ مقام دیا کہ میں واقعی خود کو دیوتا سمجھنے لگا، اور اُس بلندی پر پہنچ گیا جہاں سے میں اُسے بھی دیکھ نہیں سکا، اس کی آواز نہیں آ سکی مجھے ۔۔۔ اور نہ اس کرب کو محسوس کر سکا جو میری وجہ سے اس کے جیون میں اُتر آیا۔ میں اس وقت یہ بھی بھول گیا تھا کہ یہ سب تو اُسی کی وجہ سے ہے ۔۔۔

Akhri khat by Atif Saeed

دیوتا میں کوئی خاصیت نہیں ہوتی ، ساری خاصیت تو پجاری میں ہوتی ہے ۔۔ وہ جس پتھر کو چاہے دیوتا بنا دے ۔۔ اسے اس طرح چھوڑنے کے بعد ۔۔۔ مجھے یہ احساس ہوا مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔ میں اس بلندی سے پاتال کی گہرائی تک پہنچ چکا تھا ۔۔ دو انتہائوں کو سفر ۔۔ اور یہاں سے مری آواز اس تک نہیں جا سکتی اور نہ ہی وہ مجھے دیکھ سکتی ہے۔ صحیح کہتے ہیں سیانے ۔۔۔ دو ساتھ ساتھ چلتی لکیروں میں ذرا سا زاویے کا انحراف کچھ دیر میں دونوں کو میلوں، صدیوں کی دوری پر لے آتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *