Aik Tha Shabrati By Aslam Jamsheed Poori

      No Comments on Aik Tha Shabrati By Aslam Jamsheed Poori
ایک تھا شبراتی

بیلوں کو آ نگن میں نیم کے نیچے باندھ کر اس نے اہل سارے کے نیچے کھڑا کر دیا۔سیدھا کھڑا ہوتے ہوئے کمر کو سیدھا کیا ۔ہاتھ میں پانی کا خالی گھڑا لئے وہ اندر پہنچا۔شبراتن کو دیکھ کر بولا۔اری شبراتن آج کچھ جادہ ہی تھک گیا ہوں ۔جوڑ جوڑ دکھ رو ہے اوپر والو کھیت دوبارہ جوتو ہے ۔جرا ایک گلاس گرم دودھ پلا ۔اور ہاں دودھ میں میٹھا مت ڈالیو۔بس گڑ کا ایک ٹکڑا لے آئیو۔

شبراتن نے دودھ کا گلاس بھرا ،’’سنتے ہو نائی آیو تھو۔بلاوہ دے گو ہے۔چار بجے سانجھ کو اسکول میں پنچایت ہے ۔تمہیں بھیجنے کو کہہ گیوہے اور ہاں تم نے سنو کلوا کی نئی بھینس مر گئی ہے۔‘‘شبراتی ایک گھونٹ دودھ کا بھرتا اور پھر تھواڑا سا گڑ کاٹ کر کھاتا ،پورا دودھ پینے کے بعد اس نے کہا۔
ہاں شبراتن ۔بے چارے کلوا کی بھینس مر گئی ۔موئے بڑو (مجھے بڑا )دکھ ہے اس گریب نے ابھی جمے کی پینٹھ سے تولی تھی زور سے ڈکارتے ہوئے وہ اٹھا اور نل کے پاس جا کرہاتھ پاؤں دھوئے ۔باہر بیٹھک میں رکھے حقے کی چلم اٹھائی ۔اس کی راکھ کو کوڑے پر گرایا۔نئے تمباکو کا ایک گولا بنایا اور اسے چلم کے ٹھیک بیچوں بیچ سجاتے ہوئے رکھا اور اس کے اوپر ایک ٹوٹا ہوا کھٹا(کھپریل کا ٹکڑا رکھا۔اور آگ کیلئے گھر گیا۔

’’شبراتن آگ ہے گی۔؟‘‘ہاں دیکھے تو ہے ۔پر تھوڑی سی ہوئے گی ۔لاؤ میں رکھ دوں تھوڑی دیر بعد وہ بیٹھک کے باہر نیم کے نیچے چارپائی پر لیٹ کر حقہ منہ میں دبائے لمبے لمبے کش لینے لگا۔ موسم گرم تھا۔ لیکن باہر نیم کے نیچے اسے کچھ راحت ملی۔ حقہ پیتے پیتے وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔گاؤں کے اسکول میں لوگ جمع تھے۔ جمن کاکا ،شری گر چاچا، کنورپال، مہابیر، مہندر ٹھاکر، پنڈت گوپال، شبراتی، مکھان سنگھ اور بہت سے لوگ۔

ایک تھا شبراتی

روز بروز کی بڑھتی ہوئی جانوروں کی بیماریوں سے تنگ آ کر گاؤں کے مکھیا ملکھان،پنڈت گوپال اور مہندر ٹھاکر جیسے بڑے لوگوں نے ایک ہنگامی پنچایت بلوائی تھی۔مکھیا ملکھان سنگھ نے کھڑے ہو کر کہا۔بھائیو۔آپ کو تو پتوی (پتہ ہے)کہ آج گاؤں کے جانوروں میں بیماری گھسی ہوئی ہے۔ جانور مرتے جا رہے ہیں۔ ہمیں اس سمسیا کا سمادھان کرنو (کرنا)ہے۔

ہاں ملکھان چاچا ای بہت جروری ہے۔کل بیچارے کلوا کی نئی بھینس مر گئی ۔
ملکھان سنگھ کی بات کے بیچ ہی مہابیر بول پڑا ۔ہاں ۔مکھیا جی ۔ہماری گائیں بھینس تو بالکل سوکھ گئی ہیں۔ دودھ جیسے تھنوں میں سوکھ گیو ہے ۔کچھ اپائے کرو مکھیا جی ‘‘ کنور پال کی بات سب نے سنی۔ہاں‘ہاں۔۔کچھ ہونوچیےبہت سی  آ وازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں۔ پنڈت گوپال نے حقے کا ایک لمبا کش لے کر دھواں چھوڑتے ہوئے کہا۔

گاؤں میں دکھ گھس گیا ہے۔ ہمیں ہر سمبھو یا سو(اس سے) چھٹکارو چیے (چھٹکارا چاہیئے)جمن کاکا جو بڑے دھیان سے سن رہے تھے ہاں بولے۔
ہاں پنڈت جی۔دکھ نکلوانو(نکلوانا ہے)۔آپ کوئی بڑھیو سو دن رکھ دیں پنڈت گوپال نے اپنی پوتھی کھولی ۔لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے ۔تھوڑی دیر بعد پنڈت جی کی آواز بلند ہوئی ۔پردھان جی۔ آج بدھوار ہے۔ ایسا کرتے ہیں روی وار کورکھتے ہیں۔ روی وار کی رات شبھ رہے گی
ہاں۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے۔ ایک ساتھ کئی آوازوں کا شور بلند ہوا پھر مکھیا جی، پنڈت جی اور ٹھاکر مہندر نے کچھ مشورہ کیا۔ اور پھر مکھیا جی کی آواز گونجی۔ پھر خاموشی چھا گئی۔’بھائیو!روی کی رات دکھ نکلوائے جائے گا۔ آپ سب تیار رہیواور ہاں اس بار آگ کا کروا(مٹی کا گھڑا نما چھوٹا برتن)شبراتی سنبھالے گو(گا)کیا شبراتی یا کو(اس کے لیے )تیار ہے
مکھیا جی کے سوال پر پوری پنچایت میں موت کی سی خاموشی چھا گئی۔ کچھ دیر ایسا محسوس ہوتا رہاگویا کسی جادوگر نے گاؤں کے سبھی لوگوں کو مٹی کا بنا دیا ہو۔ ایک کونے میں بیٹھے شبراتی نے بیڑی کا ایک لمبا کش لیااور بیڑی کو زمین پر رگڑ کر بجھایا، بچی ہوئی بیڑی کو کان اوپر لگاتے ہوئے کھڑا ہوا اور انکساری سے بولا۔مکھیا جی۔ یو میرو (یہ میرا)سوبھاگیہ ہے جو موئے یا (مجھے اس)کام کو(کے لیے)چنو گیو(چنا گیا)۔اللہ نے چاہو تو میں اچھی طرح اپنو کام نبھاؤ گو(گا)۔

‘‘اتنا کہہ کر شبراتی خاموش ہوگیا۔ مکھیا جی نے پھر بہ آواز بلند پورا پروگرام سنایا اور پھر پنچایت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔دھنورا، اتر پردیش کے ضلع بلند شہر کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں کسانوں اور مزدوروں کی آبادی رہا کرتی تھی۔ گاؤں میں مختلف مزاہب اور برادریوں کے لوگ صدیوں سے ساتھ ساتھ رہتے آ رہے تھے۔گاؤں کا انحصار کھیتی پر تھا۔اور کھیتی کے لیے کسانوں کی امیدیں صرف آسمان کے بادلوں سے تھیں۔

جس سال بارش نہ ہوتی ۔کھانے کے لالے پڑ جاتے ۔سینچائی کا کوئی معقول انتظام نہ تھا۔ادھر چند برسوں میں چھ سات ٹیوب ویل لگ گئے تھے۔ جن میں دوسرکاری تھے۔سرکاری کیا تھے مکھیا ملکھان سنگھ،ٹھاکر مہندر اور پنڈت گوپال ہی اس کے کرتا دھرتا تھے۔کسی کو پانی لینا ہوتا تو ہفتوں ان کے تیل لگاتا۔بارش کے بغیر جانوروں کے چارے کی بھی قلت ہو جاتی اور کیوں نہ ہو۔جن انسانوں کو کھانے کے لیے نہیں تو جانوروں کی تو بات ہی کیا۔

برسوں قبل قحط پڑا تھا۔جس میں سینکڑوں لوگ بھوکے موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔نئی نئی بیماریاں خود ساختہ لیڈروں کی مانند ابل پڑیں تھیں ۔جانوروں میں ایک خاص قسم کی بیماری نے گھر کر لیا تھا۔دونوں تھنوں میں سوکھ گیا تھا۔اور جانوروں کی شرح اموات بڑھ گئی تھیں ۔گاؤں والوں نے اس بیماری کا نام دکھ رکھا تھا۔شبراتی نے دھنو راہی میں آنکھ کھولی تھی۔

ایک تھا شبراتی

اس نے جب ہوش سنبھالا توصرف اپنی ماں کو دیکھا تھا۔اس کے والد ایک بیماری میں لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اور اپنے پیچھے دکھوں اور غموں کے بے شمار لقمے چھوڑ گئے تھے۔انہیں لقموں کو تہہ در تہہ اپنے پیٹ میں اتار کر شبراتی بڑا ہوا تھا۔لوگوں کی زبانی اس نے سنا تھاکہ اس کے بابا نیک اور شریف آدمی تھے۔ کبھی کسی سے لڑائی نہ جھگڑا۔ بس اپنے کام سے کام۔

دن بھر باہر ٹھیے پر بیٹھے کام کرتے رہتے۔ کبھی کسی کا حل بنا رہے ہیں تو کبھی کسی کی چوکھٹ۔۔ زمین تو تھی نہیں بس کسانوں کے رحم و کرم پر گزر بسر ہو رہی تھی۔ کبھی کوئی من بھر گیہوں دے جاتا۔ کسی کے یہاں سے گڑ آ جاتا۔ کوئی اپنے کھیت سے چارا کاٹنے کو کہہ دیتا۔وہ اپنے والدین کو یاد کر کے غم زدہ ہو جایا کرتا۔اس نے بڑے ہو کر اپنے والد کاہی پیشہ اختیار کر لیا۔

والد کے چھوڑے ہوئے اوزار تھے اور بندھے ہوئے کسان۔ بچپن گزرا، جوانی آئی، شادی ہوئی کہ اچانک ایک دن ماں کا انتقال ہو گیا۔ پھر یکے بعد دیگرے دو بچے آ گئے۔ اکثر اسے اللہ کا نظام پر رشک آتاکہ اس نے زندگی کو دکھ اور سکھ کے ترازو میں بڑا متوازن رکھا تھا بلکہ دکھوں کا پلڑا ہی اکثر جھکا رہا۔وہ بڑی مشکل سے زندگی کی گاڑی کو محنت کے بیلوں کے سہارے کھینچ رہا تھا۔

گاؤں کے فیصلے کے آ گے اس نے اپنا سر خم کر دیا تھا۔ جبکہ اس کی بیوی نے دبے لفظوں ،اس کی مخالفت بھی کی تھی۔رات تاریک تھی۔چاروں طرف ایک ہوکا عالم تھا ۔آسمان کالے کالے بادلوں سے بھرا تھا۔کبھی کبھی بجلی کی چمک اور بادلوں کی گرج ماحول کو پر حول بنا رہی تھی۔ ملکھان سنگھ کی بیٹھک پرگہما گہمی تھی۔گاؤں کے نوجوان اور بوڑھے جمع تھے۔

ایک تھا شبراتی

شبراتی نے سرپر منڈاسہ اور دھوتی کو لنگوٹ کی صورت میں پہن رکھا تھا۔ اس کے پورے جسم پر کالی سیاہی ملی ہوئی تھی۔چہرہ بھی کالک سے پوت دیا گیا تھا۔ دس ہٹے کٹے نوجوان بھی کچھ اس قسم کا حلیہ بنائے ہوئے تھے۔ ان سب کے ہاتھوں میں لاٹھی اور بلم تھے۔ تیاری مکمل تھی۔۔۔بس مکھیا کی اجازت کی دیر تھی۔ تھوڑی دیر بعد مکھیا کی آواز گونجی۔

ہے بھگوان ہم تیرو نام لیکر اپنے گاؤں میں گھسے دکھ نکال رہے ہیں کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ شبراتی اور اس کے گروہ سے مخاطب ہوئے۔ ’’بھگوان کا نام لے کر آپ لوگ شروع کرو‘‘ اتنا سننا تھا کہ شبراتی، جس کو بالکل کالا بھوت بنا دیا گیا تھا ۔ ہاتھ میں کروا لئے، جس میں دہکتی ہوئی آگ تھی آ گے بڑھا۔ اس کے پیچھے اس گروہ کے دس نوجوان تھے سبھی ’’ ہو۔ ہا۔۔۔ شو۔۔۔۔‘‘کی عجیب و غریب آوازیں نکالتے جا رہے تھے۔

پورا ماحول ایک عجیب سی آواز سے گونجنے لگا۔ قافلہ گاؤں کی ایک ایک گلی سے گزرنے لگا۔ گاؤں والوں نے رات ہی کو اپنے اپنے دروازوں پر ایک ایک خالی گھڑا رکھ دیا تھا۔ شبراتی کے پیچھے چلنے والے نوجوان جس گھر کے سامنے سے گزرتے وہاں رکھے گھڑے کو لاٹھی مار کر پھوڑ جاتے ۔ شبراتی گھر گھر جا کر جانوروں کے پاس سے آگ کے کروے کو گھماتا ہوا اپنا کام بڑی کی تندہی سے کر رہا تھا۔

ایک طرف ہو ۔۔۔۔ ہا ۔۔۔۔شو اور گھڑوں کے پھوٹنے کی آوازیں تھیں تو دوسری طرف گاؤں کے بے شمار لوگ جا بجا مدو ساکت کھڑے دکھ نکالتے ہوئے قافلے کو دیکھ رہے تھے۔ شبراتی کی بیوی بھی اپنے گھر کے باہر کھڑی تھی۔ جب شبراتی وہاں سے گزرا تو وہ ایک لمحے کو اپنے شوہر کو عجیب بھیس میں دیکھ کر ڈر ہی گئی تھی۔ شبراتن دل ہی دل میں شبراتی کی کامیابی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔

ایک تھا شبراتی
اے اللہ میرے پتی کو سپھل واپس لائیو۔گاؤں کی ایک گلی سے دکھ نکلتا ہوا یہ قافلہ رواں دواں تھا آگے آگے شبراتی اور پیچھے ساتھی نوجوان۔ شبراتی تیز تیز قدم بڑھا رہا تھا۔ اس کے ساتھی اس سے دس بارہ قدم پیچھے تھے۔ اب وہ لوگ گاؤں کی آبادی سے باہر نکل آئے تھے۔ اچانک بڑے زور سے بادل گرجے۔ اور پورا آسمان روشنی میں نہا گیا۔ گویا گاؤں والوں کے اس عقیدے پر آسمان زور سے ہنسا ہو۔

دیکھتے ہی دیکھتے بارش ہونے لگی۔ شبراتی ہاتھ میں آگ کا برتن لیے تیزی سے اپنی منزل کی طرف گامزن تھا۔ بارش نے طوفان کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اس قدر تیز بارش تھی کہ لگتا تھا کہ گاؤں کو بہا کے لے جائیں گی۔ تھوڑی ہی دیر میں چاروں طرف پانی بھرنے لگا۔ شبراتی بارش اور طوفان کی فکر کیے بغیر آگے بڑھتا رہا۔ اس کے برتن کی آگ تھوڑی دیر تو بارش کے پانی سے جدوجہد کرتی رہی پھر اس نے ہتھیار ڈال دیئے۔

طوفان کا زور بڑھتا جا رہا تھا ۔ کھیتوں میں پانی دکھائی دینے لگا۔ کچھ دیر تک شبراتی کو اپنے پیچھے چھپ چھپ کی آوازیں آتی رہیں۔ اس نے پیچھے گھوم کر دیکھا۔ چاروں طرف سوا اندھیرے کے کچھ نہ تھا۔ اب اس کے ساتھیوں کے چلنے کی آوازیں اس کے کانوں تک پہنچ رہی تھیں۔ شبراتی نے سوچا وہ کچھ فاصلے پر خاموش آ رہے ہوں گے۔

ایک تھا شبراتی

طوفان کی شدت لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھیں ۔ایک بار اس کے دل میں خیال آ یا کہ واپس گاؤں لوٹ جائے ۔ مگر واپس جاکر گاؤں والوں سے کیا کہے گا؟ منزل تھوڑی ہی دور تو تھی۔ اور وہ پھر پوری قوت سے آگے بڑھنے لگا۔ مٹی کے برتن کو مضبوطی سے پکڑے وہ اندازے سے آگےبڑھتا رہا۔ چاروں طرف سیاہی سیاہی ہی تھی۔ کھیتوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا تھا۔ راستے کے تمام نام و نشان ڈوب چکے تھے۔ شبراتی کو گاؤں کی سرحد پار مٹی کے کروے کو زمین میں گاڑکر واپس لوٹنا تھا۔

بارش زوروں پر تھی۔ سرد ہوائیں سائیں سائیں کر رہی تھیں۔ سردی کے مارے اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ٹھنڈ کی ایک لہر اس کے پورے جسم میں پھیل گئی تھی۔ اس نے اپنے اوسان جمع کیے اور گاؤں کی سرحد کی طرف بڑھنے لگا۔ اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ کچھ دور چلنے کے بعد اس نے اندازہ لگایا گویا یہی پنڈت گوپال کا کھیت ہے۔ گوپال کے کھیت کے پار دوسرے گاؤں کے کھیت تھے۔

وہ بجلی کی سرعت سے گوپال کے کھیت میں داخل ہوگیا۔ کھیت کے پار سرکاری ٹیوب ویل کی گہری پختہ نالی تھی جو جا بجا ٹوٹی ہوئی تھی کئی جگہ خطرناک حد تک گہری ہو چکی تھی۔ اس نے بڑی احتیاط سے قدم رکھتے ہوئے نالی کو پار کیا۔اب وہ دوسرے گاؤں کی سرحد میں داخل ہو چکا تھا۔ وہ ایک لمحہ کور کا اور بلند آواز میں چیخا۔ ’’جا دکھ جا۔۔۔ہمارے گاؤں سو جا

ایک تھا شبراتی

تین بار زور سے کہنے کے بعد اس نے اپنے قدموں کے پاس پانی کے اندر مٹی ہٹا کر گڈھا بنایا اور مٹی کے کروے کو اس کے اندر داب دیا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور واپس ہو لیا۔ طوفان کا زور تھامے نہیں تھم رہا تھا۔ اسے آسمان پر کالی چادر نظر آ رہی تھی اور زمین پر دور دور تک پانی ہی پانی ۔ درخت بڑے بڑے بھوت اور جن کی مانند لگ رہے تھے گویا اس کی واپسی کے منتظر ہوں۔

شبراتن کی آ نکھوں میں نیند نہیں تھی ۔ اس نے تقریباً11بجے اپنے شوہر کو وداع کیا تھا۔ اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ وہ بار بار اپنے شوہر کی کامیابی کی دعائیں کر رہی تھی۔ اس کے دونوں بچے گہری نیند سو رہے تھے۔ رات تین بجے تک شبراتی واپس نہیں آیا تواس کا انتظار پریشانی میں بدل گیا۔کبھی دروازے تک آتی اور کبھی بچوں کے پاس لیٹتی ۔ نجانے کس پہر اس کی نیند سے بوجھل آنکھوں میں سکوں کے بادل چھا گئے اور نیند کے اتھاہ سمندر میں غوطہ زن ہوگئی۔
صبح آسمان بالکل صاف تھا۔گاؤں کے تمام راستے پانی سے لبریز تھے جو رات کے طوفان کے چشم دید گواہ تھے۔مکھیا ملکھان سنگھ کی بیٹھک پر مجمع لگا تھا۔کئی بڑے بڑے ڈرام رکھے تھے ۔جن میں پانی بھرا ہوا تھا ۔پنڈت گوپال اشلاک پڑھتے جارہے تھے اور ڈراموں میں گنگا جل ملا رہے تھے۔ لوگ اپنے گھروں سے تھوڑا سا دودھ لے کر آتے ،ڈرام میں ڈالتے اور ملا کر لے جاتے۔

ایک تھا شبراتی

پنڈت گوپال لوگوں سے کہہ رہے تھے۔ ’’اپنے اپنے جانوروں پر دودھ کی چھینٹیں مارو۔ اب کوئی چنتا نہ کریں ۔ دکھ نکل گو ہے۔ اب ساری بیماریاں ختم ہو جائیں گی۔ ’’جمن کاکا ،کنور پال مہندر ٹھاکر۔ شری گر چاچا اور دوسرے گاؤں کے بڑے لوگ وہاں موجودتھے۔ اتنے میں شبراتن روتی ہوئی آئی ۔مکھیا جی۔۔۔ میرو پتی ابھی تک گھر نہیں آیو۔۔۔وہ زور سے روئے جا رہی تھی۔ اس کی آواز سے بیٹھک میں سب موجود کان کھڑے ہو گئے۔

مکھیا کی آواز گونجی۔ ’’ارے کنور پال تمہارا لڑکا بھی تو شبراتی کے ساتھ تھا کیا وہ واپس آ گیا؟ہاں وہ سب تو رات ایک بجے ہی واپس آ گئے تھے ہائے میرو پتی۔۔۔۔۔کنور پال کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی شبراتن دہاڑیں مارنے لگی۔ سبھی کے چہرے مر جھا گئے تھے ۔ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے گاؤں میں پھیل گئی کہ رات شبراتی واپس نہیں آ یا ۔

مکھیا جی کی راہنمائی میں سارا گاؤں پنڈت گوپال کے کھیت کی طرف چل پڑا۔ چاروں طرف پانی کی حکومت تھی ۔ گوپال کا کھیت بھی پانی سے لبا لب تھا۔ شبراتی کا دوردورتک پتہ نہیں تھا۔ سب کے چہروں ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اچانک کسی کے زور سے چلانے کی آواز آئی ۔ شب۔۔۔۔۔شبراتی۔۔۔سب اس طرف لپکے ۔ جمن کاکا سرکاری نالی پر کھڑے تھے۔وہاں شبراتی کا نے جاں جسم پڑا تھا۔

ایک تھا شبراتی

اس کا جسم پھول کر کافی موٹا ہو چکا تھا۔جا بجا کالک لگا اس کا جسم بہت ہی ڈراؤنا لگ رہا تھا ۔نالی کے گہرے پانی سے بڑی مشکل سے شبراتی کی لاش کو نکالا گیا ۔لوگوں کی آنکھوں سے زار وقطار آنسو بہہ رہے تھے۔ہائے اللہ۔۔۔۔۔
ایک دلدوز دلخراش چیخ کے ساتھ شبراتن شبراتی کے بے جان جسم کے ساتھ لپٹ گئی ۔اس کے دونوں بچے بھی شبراتی کی لاش سے لپٹ گئے۔

گاؤں والو ں کی زبان پر تالے پڑ گئے تھے ۔ان کے سروں پر مانو منوں بوجھ تھاکہ سب کی گردنیں جھکیں ہوئیں تھیں۔ ابھی کچھ دیر قبل گاؤں میں خوشیاں منائی جا رہی تھی۔ گاؤں سے دکھ نکل گیا تھا۔ شبراتی کے دونوں بچے اپنی ماں کا دامن کھینچ رہے تھے گویا کہہ رہے ہوں ہمارے گھرمیں گھسے دکھ کو کون نکالاے گا۔۔۔۔۔۔؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *