Aik Sham Tanvir Ahmad Tanvir Ke Naam

      No Comments on Aik Sham Tanvir Ahmad Tanvir Ke Naam
Aik Sham Tanvir Ahmad Tanvir Ke Naam
رپورٹ : عثمان سلیم پسرور
مشاعرے ہماری تہذیت کا حصہ ہیں ، ان کے ذریعے زبان و ادب کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایک روایت ہے جب کوئی پردیس سے گھر لوٹتا ہے تو مقامی احباب اُ س کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اردودان طبقہ ایسے مواقع پر مشاعرے کا اہتمام کرکے مہمان کامنفرد انداز میں استقبال کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں پسرور (سیالکوٹ) کی نمایاں ادبی تنظیم ’’ادبی سبھا‘‘ نے سعودی عرب سے تشریف لائے ہوئے منفرد لب و لہجے کے شاعر و ادیب تنویر احمد تنویر کے اعزاز میں ایک شام کا اہتمام کیا۔
اِس تقریب کے اہتمام کا سہرا پسرور کے بزرگ شاعر و منظوم ترجمان القرآن کے خالق قاضی عطاء کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنے دولت کدے پر ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا ۔ مشاعرے میں پسرور کے مقامی شعراء کے علاوہ چونڈہ، چوبارہ اور سیالکوٹ کے شعراء و ادبا نے شرکت کر کے محفل کو رونق افروز کیا۔ نشست کی صدارت جناب تنویر احمد تنویرنے فرمائی۔ مہمانِ خصوصی کی نشست پر شاعر و ادیب محمدایوب صابرؔ تشریف فرما تھے۔قاضی عطاء میزبانِ خصوصی کے طور پر جلوہ افروز تھے۔ نظامت کے فرائض نوجوان اسکالر ڈاکٹر محمدافضال بٹ نے خوبصورت اندازمیں ادا کر کے محفل کا رنگ بدل دیا۔
بزم کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ ندیم نے حاصل کی جبکہ اشرف کھوکھر نے نعتِ رسول مقبول ؐ خوش الحان آواز میں پیش کر کے ایمان افروز منظر پیش کیا ۔ محفل کے آغاز میں قاضی عطاء نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ادبی سبھا کا تعارف پیش کیا اور مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے فرمایاکہ میرے لئے یہ اعزاز ہے کہ آج پسرور کے ایک قلمکار کی عزت افزائی کے لئے احباب جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا ۔ محمد ایوب صابر نے تنویر احمد تنویر کا تعارف پیش کیا۔ مشاعر ے کا دور شروع ہوا تو شعراء نے اپنے منتخب کلام سے سماں باندھ دیا۔ ہر شاعر اپنے دلپذیر اشعار سے شرکاء محفل کو مسحور کر رہا تھا۔
Aik Sham Tanvir Ahmad Tanvir Ke Naam
داد و تحسین کا سلسلہ جاری تھا۔ شرکاء محفل نے بھی واہ واہ اور مکرر ارشاد سے خوب رنگ جمایا۔ محمدایوب صابر نے قاضی عطا اور تمام شعراء کا تنویر احمد تنویر کے اعزاز میں منعقدہ شام میں شرکت پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کی زرخیز دھرتی شعر و ادب کے لئے بے مثال ہے۔ یہاں پر علامہ اقبالؔ اور فیض احمد فیضؔ کے بعد کسی مثال کیضرورت باقی نہیں رہتی۔ شعرو ادب یہاں کی مٹی میں سمایا ہوا ہے۔ تنویراحمد تنویر  نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے تمام شرکاء محفل خصوصاً قاضی عطاء کی ادب دوستی اوربے پناہ محبت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے شہر کے قلمکاروں سے مل کر ایسا لگا کہ ہماری سرزمین بے شمار ادبی لعل و گوہر سے مالا مال ہے۔ انہوں نے کچھ غزلیں اور نظمیں پیش کر کے حاضرین مجلس کے دل جیت لئے۔
انہوں نے اپنے کلام سے ایک سحر طاری کر دیا۔ ڈاکٹر محمد افضال بٹ ، زاہد حسین بھٹی ، محمد سلیم گورائیہ ، محمد اختر، صغیر حسین صغیر ، ندیم آزر باجوہ ،شیخ کرامت خان، جاوید کنول موسیٰ پوری ، مشتاق قریشی ، خالد محمود عاصی، ارشاد نیازی، رحمان امجد مرزا، قاضی عطا، محمدایوب صابر اور تنویر احمد تنویر نے اپنا کلام پیش کیا۔ اِس طرح یہ یادگار محفل اختتام پذیر ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *