Aik Sham Dr Shahnaz Muzammil Ke Naam

Aik Sham Dr Shahnaz Muzammil Ke Naam

‘‘حلقہ فکرو فن کے زیرِ اہتمام ’’ ایک شام ڈاکٹر شہناز مزمل کے نام

رپورٹ: ڈاکٹر حناءامبرین طارق

سعودی عرب کی معروف ادبی تنظیم ”حلقہء فکروفن“ کے زیر اہتمام ”ایک شام ڈاکٹرشہناز مزمل کے نام“ تقریب کا انعقاد ریاض کے مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔ تقریب میں مختلف مکتبہء فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور پاکستانی کمیونٹی کے اکابرین کے علاوہ شاعروں اور صحافیوں کی کثیر تعداد نےشرکت کی۔ تقریب کے مہمان ِخصوصی پاکستان سفارتخانہ الریاض کے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی محمود لطیف تھے جبکہ صدارت حلقہء فکروفن کے صدر ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے کی۔

اور نامورشاعرہ و ادیبہ اور “ادب سرائے” کی چیئرپرسن ڈاکٹر شہناز مزمل نے بطور اعزازی مہمان شرکت کی۔نظامت کے فرائض مشہور شاعر اور صحافی وقار نسیم وامق نے ادا کئیے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ تلاوت کا شرف ڈاکٹر محمود باجوہ کو حاصل ہوا جبکہ ہدیہ نعت عابد شمعون چاند نے پیش کی۔

Aik Sham Dr Shahnaz Muzammil Ke Naam

تقریب کےمہمان خصوصی پاکستان سفارتخانہ الریاض کے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی محمود لطیف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک ہمارے معاشرے کے اندر احساس زندہ رہا وہ شاعر زندہ رہےجنہوں نے اپنے ذات پر گزرنے والے بحرانوں کو بھی بیان کیا اور معاشرے کے اوپر گزرنے والے ستم کو بھی بیان کیا۔ جب ہم اپنی آنے والے نسلوں تک اپنے ورثے اپنے ادب کو اپنی تاریخ کو اپنی ثقافت کو اپنی شاعری کو پیش کریں تو انہیں و ہمارے ٹوٹے ہوئے شعر نہ ملیں بلکہ ان کو وہ شعر ملیں جو شاعر نے حقیقت میں ادا کئے تھے۔

کمیونٹی ویلفیئر اتاشی محمود لطیف نے کہا کہ شاعر معاشرے کا ترجمان ہوتا ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے ہاں نامور شاعر پیدا ہوئے جنہوں نے ادب کی بے حد خدمت سرانجام دی ۔ ہمیں چاہئے کہ ادب کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔تاکہ ہماری ے آنے والی نسلیں بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔ مہمان خصوصی نے خوبصورت پروگرام کے انعقاد پر حلقہء فکروفن کے تمام عہدیداروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

adabi reprt pics Dr hina

ڈاکٹر شہناز مزمل نے کہا کہ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ جو بھی ادب کے ایک حرف کی حرمت کو جانتا ہے اس کو ادب کی طرف لایا جائے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہی ہیں۔ دنیا بھر میں انکے شاگرد ادب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر شہناز مزمل نے اپنا خوبصورت اردو اور پنجابی کلام بھی پیش کیا جو حاضرین محفل کو بے حد پسند آیا۔

چھپے ہو سات پردوں میں تمہیں تصویر کرنا ہے
ہمیں تو آج اپنے عشق کی تشہیر کرنا ہے
بہت ٹھہراؤ محسوس ہوتا ہے طبیعت میں
اب آگے بڑھ کے شہرِ آرزو تسخیر کرنا ہے

img_9873

ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کو اس تقریب میں اعزازی شیلڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے مہمانِ خصوصی اور مہمانِ اعزاز اور صدرِ محفل کو اپنے کتب کے تحائف بھی پیش کئے۔ ان کے اعزاز میں حلقہء فکروفن کے ناظم الامور ڈاکٹر طارق عزیز نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دور تھا کہ ادبی محافل اور مشاعرے فقط مردوں کے لئے مخصوص تھیں مگر آج خواتین نے معاشرے میں اپنے لئے وہ مقام پیدا کر لیا ہے کہ انکی شمولیت کے بنا یہ تقریبات ادھوری سمجھی جانے لگیں ہیں۔

img_9846

انہوں نے مزید کہا کہ بنتِ حوا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عرفان و ہنر پر اس کا پورا استحقاق ہے۔اور آج محترمہ شہناز مزمل کی صورت میں یہ دعوی مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ڈاکٹر طارق عزیز کا کہنا تھا کہ شہناز مزمل کا کلام پاسدارِ روایت ہے جو اظہار کی سادگی اور جذبات کی سچائی سے دھلا ہوا ہے۔ اس موقع پر کئی شعراء نے اپنا کلام بھی پیش کیا،جن میں شاعرِ فکر وفن عبدالرزاق تبسم نے پنجابی میں کلام پیش کر کے محفل لوٹ لی۔

اسکے بعد خالد رانا صاحب نے دل موہ لینے والا کلام پیش کیا۔ انکے اشعار یوں ہیں

وہ تو گلشن میں بھی خوشبو کے سلیقے اترے
چشمِ خوابیدہ میں خوابوں کے طریقے اترے
اس کی مستی میں بہاروں کا چلن ہے شائد
اس کے آتے ہی درختوں پہ شگوفے اترے

مشہور و معروف شاعر مرحوم امیں قریشی کے صاحبزادے نے ان کے کلام میں سے انتخاب پیش کیا

روز اول میں کہہ کے ہم نے بلا
لاج رکھ لی تیری خدائی کی

امیں پہ ہو اک نگاہء کرم
بگڑی بن جائے اک سودائی کی

ڈاکٹر حناءامبرین طارق جو کہ معروف شاعرہ اور ادیبہ ہیں اور حلقہء فکروفن کی ڈپٹی سیکریٹری ہونے کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں، انہوں نے مہمانانِ خصوصی اور اعزازی کو خوش آمدید کہتے ہوۓ اپنے کلام سے نوازا۔ ان کے اشعار یوں ہیں

adabi reprt pics Dr hina

عدو کے شہر میں کب بے اثر ہوں
خدا کا شکر ہے جو معتبر ہوں

بہاریں کیوں نہ پھرسے لوٹ آئیں
انہیں معلوم ہے میں بھی اِدھرہوں

وقار نسیم وامق جنرل سیکریٹری حلقہء فکروفن نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ انکے پیش کیے جانے والے اشعار میں سے کچھ اشعار یوں ہیں

کچھ دیر سوچنے میں منظر بدل گیا
خود ہی کو کهوجنے میں منظر بدل گیا
وامق خیالِ یار نے ایسا کیا کمال
دیکها جو آئینے میں منظر بدل گیا

مزید جن شعراء نے اپنا کلام عطا کیا ان میں الخبر سے تشریف لاۓ باقر فائز شامل تھے۔ حلقہء فکر وفن کے ایک دیرینہ ساتھی ڈاکٹر سعید وینس نے پر ترنم کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ صدر حلقہء فکروفن ڈاکٹر ریاض چودھری نے اپنے صدارتی خطبے میں تمام شرکاۓ محفل کا شکریہ ادا کیا اور شہناز مزمل صاحبہ کو قرانِ پاک کے منظوم مفہوم کلام کی تکمیل پر خصوصی مبارکباد پیش کی۔

Aik Sham Dr Shahnaz Muzammil Ke Naam

انہوں نے اس کا بھی اظہار کیا کہ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ ہمارے مہمانِ خصوصی محمود لطیف صاحب ایک ادب دوست انسان ہیں جو کہ مملکتِ سعودی عرب میں ادب کی ترویج کے لئےمثبت ثابت ہوگی۔ انہوں نے محبانِ حلقہء فکروفن کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

 

adabi reprt

چودھری مبین گجر جو کہ اس تقریب کے میزبان تھے اپنے خطاب میں اس بات کو سراہا کہ حلقہءفکروفن گزشتہ چار دہائیوں سے ادب کی ترویج کے لئے جو خدمات سرانجام دیتی آئی ہے وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا ۓ شعر و ادب میں کئی چہرے متعارف کروانے والی تنظیم حلقہء فکروفن آج بھی اپنے سفر پر اسی تر وتازگی کے ساتھ رواں دواں ہے جیسا کہ آج سے پہلے رہی۔انہوں نے حاضرینِ محفل کا شکریہ ادا کیا۔ اور حلقہءفکروفن کے اراکین کو اس خوبصورت مشاعرے کے انعقاد پر مبارکباد بھی پیش کی۔ تقریب کا اختتام پر تکلف عشائیے پر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *