Ahmed Aurang Abadi Introduction And Ghazals

Ahmed Aurang Abadi Introduction And Ghazals

احمد اورنگ آبادی صاحب کا تعارف اور کلام

تعارف
احمد اورنگ آبادی صاحب بہت اچھے شاعر ہیں۔ آپکا اصلی نام شیخ جنید احمد ہے مگر جب قلم سے رشتہ جُڑا تو آپ نے اپنا قلمی نام احمد اورنگ آبادی رکھ لیا۔ آپ ڈیبلوما ان مارمیسی کیا اور فارمیسسٹ کے شعبہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ آغاز شاعری کے بارے میں احمد اورنگ آبادی صاحب کہتے ہیں کہ

پچھلے دو سالوں سے باضابطہ شاعری کررہاہوں ‘اس سے پہلے بے وزن شاعری کرتا تھا ۔ آغاز شاعری یقینی طور سے کہ نہیں سکتا ہے کہ کب ہوا۔ نہ جانے کب سے یہ شوق دل میں پل رہا تھا۔ حالانکہ کبھی ادبی ماحول میسر نہیں تھا۔ لیکن فیس بک پر جب ماحول شاعری کے لئے نظر آیا تو اس شوق نے اپنا کمال دکھانا شروع کیا۔ شروع شروع میں فیس بک پر محترم امین چسؔپوری صاحب، محترم اسامہ سؔرسری سے آن لائن اصلاح لی۔علم عروض اکثر گگل سرچ یا کتابوں سے سیکھے۔ باضابطہ کبھی کوئی استاد نہیں ملا۔ آج بھی کسی اچھے استاد کی تلاش میں ہوں۔

آئیں احمد اورنگ آبادی صاحب کو مزید انکے کلام کے ذریعے جانتے ہیں۔

Ahmed Aurang Abadi Introduction And Ghazals

میرے تخیلات میں وہ عمدگی کہاں
حسنِ سخن کہاں یہ مری شاعری کہاں

لیل و نہر ففک سسخ ن میں گگزار دوں
اک بحرِ بیکراں ہے مگر تشنگی کہاں

دستِ دُعا درازککروں آ آسماں کی اور
تاثیر دے دعاؤں میں وہ بندگی کہاں

چھایا ہے رنگ خستگی رخ پر صنم کے آج
ہے چاند تو فلک پہ مگر چاندنی کہاں

رَختِ سفر ہے ساتھ نہ منزل کی کچھ خبر
لیکر چلی ہے مجھ کو مری زندگی کہاں

حفظ و امان نعرۂ جمہور ہے مگر
ہیں پاسبانِ امن بتا آشتی کہاں

باقی جنونِ عشق نہ صحرا کی لذتیں
لے جاؤں اب میں زیست کی آوارگی کہاں

احمد نہ کر بلند نشانِ قلم ابھی
اوجِ سخن کہاں یہ تری منطقی کہاں
Ahmed Aurang Abadi Introduction And Ghazals

مثالِ شمس سرِ آسماں نکھر جاؤ
صداقتوں کے سفیروں اُٹھا کے سر جاؤ

نظر سے دل کی مسافت تمام کر جاؤ
براہِ چشم دِلِ دل سِتاں اُتر جاؤ

وفا کی راہ میں اے دل وفا کا پاس لئے
ہزار خار سہی دشت سے گزر جاؤ

اگر تمہاری ادا ہے بہار کا موسم
خَزاں رُتوں میں سرِ گل ستاں بکھر جاؤ

میں بن کے سایہ فگن دہر کی تمازت میں
تمہارے ساتھ چلوں تم جہاں جدھر جاؤ

نگارِ شوق میں رسوا ہوئی درخشانی
سجاکے داغ تہی دَامنوں سنور جاؤ

وہ ملنے آئے سرِ خواب مجھ سے وقتِ سَحَر
طلوعِ صُبح کے لمحوں زرا ٹھہر جاؤ

نظر تھکی , نہ ابھی ختم انتظار ہوا
کہوں میں خود سے یہ کیسے کہ اپنے گھر جاؤ

دیارِ جاں میں رقیبوں نے انکو رام کیا
ملا ہے حکم ہمیں سوختہ جگر جاؤ

ہوائیں تُند سہی خستہ بال و پر ہی سہی
عقابی عزم لئے ہر اُڑان پر جاؤ

ملی جنون کو احمؔد سخن وری میں جِلا
یہ راہِ نور ہے یاں ہوکے بےخطر جاؤ

Ahmed Aurang Abadi Introduction And Ghazals
مجھ سے درپن نے چھپائی ہے حقیقت اپنی
اس نے دیکھی ہی نہیں چشمِ بصیرت اپنی

ہم تو چہروں پہ ہی پڑھ لیتے تھے حالِ بسمل
اب کے خود پر نہ عیاں ہو سکی حالت اپنی

جن نگاہوں سے تھا پینا وہ ہے بدلی بدلی
ہم کو محفل سے اُٹھا لائی ہے غیرت اپنی

شعر جتنے بھی لکھے نام سے اوروں کے لکھے
اپنے چہرے پہ کہاں سجتی ہے شہرت اپنی

جانے کس بات پہ روٹھا ہے منانے والا
جانے کس بات پی روٹھی ہے یہ قسمت اپنی

آنظر سے میں اُتاروں تری نظریں جاناں
وار دوں تجھ پہ مری جان محبت اپنی

ہجر کی شب تری یادوں سے لپٹ کر رویا
ہجر کی رات منائی ہے یوں قربت اپنی

یاد آتی ہے مجھے آج بھی الفت تیری
یاد آتی ہے مجھے آج بھی غفلت اپنی

پھر کِیا نالَۂِ دل نے مجھے رسوا احمد
کچھ تو بدنام تھی پہلے ہی سے صورت اپنی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *