Ahmed Aashna Interview By Usman Atis

      No Comments on Ahmed Aashna Interview By Usman Atis
Ahmed Aashna Interview By Usman Atis

آن لائن اردو ڈاٹ کام کی جانب سے انٹرویو

احمد آشناؔ صاحب کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: عثمان عاطس

آن لائن اردو:۔ اگر کچھ اپنی اوائل عمری کے بارے میں بتانا مناسب سمجھیں تو؟
احمد آشناؔ: تعلق غریب گھرانے سے تھا کچے مکان میں رہتے بارش آتی تو کچی دیواروں کو دیکھ کے دل کانپ جاتا۔ اوائل عمری میں بہت حساس ہوا کرتا تھا چھوٹی سے چھوٹی بات بھی دل پہ لے لیتا۔ پڑھنے کا شوق شروع سے تھا۔ ذہین طالب علموں میں شمار ہوتا۔
آن لائن اردو:۔ آپ کا نام اور قلمی نام؟ تیز اس قلمی نام رکھنے کی خاص وجہ؟
احمد آشناؔ: میرا نام “نوید احمد” ہے قلمی نام “احمد آشنا” ؔ ہے اصلی نام سے”احمد” اور تخلص “آشناؔ “لے کر “احمد آشناؔ” قلمی نام رکھ لیا۔ میرا تخلص “آشنا” میرے اک آشنا نے رکھ تھا مگر وہ مجھ سے کبھی آشنا نہ ہو سکا۔
آن لائن اردو:۔ آپ نے لکھنا کب شروع کیا ؟ نیز پہلی تحریر کیا تھی؟ اور آپ کی پہلی تحریر کب اور کہاں شائع ہوئی؟
احمد آشناؔ: لکھنا 2000 سے شروع کیا۔ میری پہلی نظم 2006 میں لاہور سے شائع ہونے والے ایک رسالے ” امن” میں شائع ہوئی۔ شاعری کا باقاعدہ آغاز 2013 سے کیا۔

Ahmed Aashna Interview By Usman Atis

آن لائن اردو:۔ آپ کی کوئی تصنیف ؟ برکی کتاب ، ویب سائٹ ، بلاک وغیرہ؟
احمد آشناؔ: نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے مگر اپنی ویب سائٹ بنانے پرغور کر رہا ہوں۔
آن لائن اردو:۔ ان اساتذہ کا نام جن سے آپ اصلاح لیتے ہوں؟
احمد آشناؔ: میرے محترم اور محسن استاد منظور احمد صاحب ہیں جنکا تعلق انڈیا سے ہے۔ آپ نے مجھے شاعری کے ابتدائی رموز سے آشنا کیا۔ آپکے علاوہ محترم سر اسامہ سرسری صاحب کی کتاب اور انکے پیج سے کافی حد تک مستفید ہونے کا موقع ملا۔

آن لائن اردو:۔ آپکو لکھنے کے لیے کون سا وقت، کون سی جگہ پسند ہے، اور کیوں؟
احمد آشناؔ: اصل میں شاعری وقت اور جگہ کی محتاج نہیں ہوتی۔ چاہے تو راستہ چلتے شعر بن جائے چاہے تو سوچ سوچ کر بھی ایک لفظ نہ لکھا جائے۔ بس یوں سمجھ لیں جب شعر ذہن میں اترے تو وہی وقت اور جگہ شاعر کے لیے پسندیدہ ہو گی۔
آن لائن اردو:۔ کون سی تحریر لکھنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک لکھ نہیں پائے؟
احمد آشناؔ: تحریر تو نہیں اپنی شاعری کی کتاب کے لیے سر گرم ہوں۔ کم لکھتے ہوئے معیار کو ترجیع دیتا ہوں۔

آن لائن اردو:۔ آپ ماحول بنا کر سوچ سمجھ کر لکھتے ہیں یا شاعری کی طرح خیالات کی آمد ہوتی رہتی ہے؟
احمد آشناؔ: بعض اشعار کی آمد خود بخود ہو جاتی ہے ایسے اشعار کے لیے کسی ماحول کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر جو اشعار سوچ سمجھ کر لکھنے ہوں ان پہ زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انکو مختلف زاویوں سے دیکھ کر تراشنا پڑتا ہے۔
آن لائن اردو:۔ کیا شاعری کے لیے محبت یا غم کا ہونا ضروری ہے؟ نیز کیا آپ نے کبھی محبت کی؟
احمد آشناؔ: محبت ہونا تو ایک فطرتی بات ہے۔ محبت عورت کی ہی محتاج نہیں۔ محبت کائنات میں کسی بھی حسین چیز سے ہو سکتی ہے۔ ہاں بحرحال زندگی کے تلخ تجربات کو الفاظ میں پرو کر ہی اچھا شعر تخلیق ہوتا ہے۔
آن لائن اردو:۔ کوئی ایسی کتاب جو آپ چاہتے ہوں کہ سب کو پڑھنی چاہیے ؟
احمد آشناؔ: قرآن پاک

آن لائن اردو:۔ اپنے کلام میں سے اپنا پسندیدہ کلام ( کوئی شعر، نظم ، یا غزل ) جو آن لائن اردو کے قارئیں کی بصارتوں کی نذر کرنا چاہیں؟

احمد آشناؔ: پسندیدہ اشعار

آیا جو تنگ بھوک سے بچہ غریب کا
میں ہوں مشکل سوال کے جیسا
ایک نازک سزا محبت کی
اپنی زبان کاٹ کے لقمہ بنا لیا
مجھ کو ہر شخص چھوڑ دیتا ہے
کچے ناخن اکھاڑ دیتی ہے

Ahmed Aashna Interview By Usman Atis

آن لائن اردو:۔ کن شعراء سے متاثر ہیں ؟ نئے اور پرانے آپ کے پسندیدہ شاعر کون سے ہیں؟
احمد آشناؔ: غالب، علامہ اقبال اور امام احمد رضا بریلوی نے بے حد متاثر کیا۔ اس کے بعد محسن نقوی کی تخلیقات سے حیران ہوا۔ نئے شعرامیں شاہد زکی، عباس تابش سے متاثر ہوں
آن لائن اردو:۔ نئے لکھنے والوں کو کیا مشورہ دیں گے؟
احمد آشناؔ: نئے لکھنے والے بہت عمدہ اور زبردست خیالا ت کشید کر رہے ہیں۔ بس نئے لکھنے والوں میں خود پرستی کا عنصر نمایاں ہے۔ نئے لکھنےوالوں کو یہی مشورہ ہے کہ خود نمائی سے پرہیز کریں۔

آن لائن اردو:۔ کسی ادبی گروہ سے وابستگی ؟ اردو ادب کی ترویج و ترقی کے لیے جو کام ہو رہا ہے کیا آپ اس سے مطمٗن ہیں؟
احمد آشناؔ: سوشل میڈیا پر ہی ایک چند ادبی گروہوں سے وابستہ ہوں۔ اردو ادب کی ترقی کے لیے جہاں اچھے کام ہو رہے ہیں وہاں ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جیسا کہ مشاعروں میں تکبر اور خود پرستی جیسے عناصر جنم لے رہیں ہیں۔ مشاعروں میں بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ مشاعروں اور ادبی گروہوں میں ہونے والی یہ سیاست ادب کو بے حد نقصان پہنچا رہی ہے۔

آن لائن اردو:۔ آن لائن اردو ڈاٹ کام ادب کے لیے جو کام کر رہی ہے آپکی نذر میں کیسا ہے؟
احمد آشناؔ: آن لائن اردو ڈاٹ کام ادب کے لیے نمایاں خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ پرانے لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں کو بھی آن لائن اردو ڈاٹ کام بہت اہمیت دے رہی ہے۔ یہی کام اس تنظیم کو دوسرے ادبی گروہوں سے ممتاز کرتا ہے۔ میری دلی دعائیں اورنیک خواہشات اس ادبی تنظیم کے ساتھ ہیں۔ اللہ پاک اس تنظیم کو لامحدود کامرانیوں سے نوازے اور اس کے ادبی مشن کو ہمیشہ سرگرم رکھے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *