Afzal Khan Introduction And Lyrics

      No Comments on Afzal Khan Introduction And Lyrics
Afzal Khan Introduction And Lyrics

Afzal Khan Introduction

افضل خان کا تعارف اور کلام

تعارف
جناب افضل خان صاحب بیت اچھے شاعر ہیں۔ افضل خان صاحب 10 اکتوبر 1975 کو پاکستان کے شہر بہاولپورمیں پیدا ہوئے۔ اور تاحال وہی پھر مقیم ہیں۔ افضل خان صاحب نے سول انجینیرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں بطور انجینیئر اپنی خدمات سر انجام دے رہیں۔ افضل خان صاحب نے 1988 شاعری کا آغاز کیا اور آپکے دو شاعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ جن میں “اک عمر کی مہلت” اور “تو بھی میں بھی” شامل ہیں۔ افضل خان صاحب کے خوبصورت کلام میں چند منتخب اشعار قارئین کرام کے لئے پیش خدمت ہیں۔

Afzal Khan Lyrics

Afzal Khan Introduction And Lyrics

اب جو پتھر ہے آدمی تھا کبھی
اس کو کہتے ہیں انتظار میاں

میں ہمہ وقت محبت میں پڑا رہتا تھا
پھر کسی دوست سے پوچھا یہ غلامی تو نہیں؟

ملتے رہتے ہیں مجھے آج بھی غالب کے خطوط
وہی انداز.تخاطب کہ ”میاں کیسے ہو”

اس لیے ہم کو نہیں خواہش.حوران.بہشت
ایک چہرہ جو ادھر ہے وہ ادھر ہے ہی نہیں

وصیت کی تھی مجھ کو قیس نے صحرا کے بارے میں
یہ میرا گھر ہے اس کی چار دیواری نہیں کرنی

اپنے حلییے سے سخن ساز نہ لگنے والے
ہم یہاں دوسرے شاعر ہیں عدم پہلے تھے

کہیں ایسا نہ ہو یا رب کہ یہ ترسے ہوئے عابد
تری جنت میں اشیا کی فراوانی سے مر جائیں

Afzal Khan Poetry In urdu

Afzal Khan Introduction And Lyrics

نیند میں بھی ہلتے رہتے ہیں پاؤں مرے
ساری رات آوارہ گردی ہوتی ہے

کہانی میں کوئ ردوبدل کر
مرا مرنا ابھی بنتا نہیں ہے

اور اب اس بات پر بھی مجھ سے میرے یار الجھتے ہیں
کہ میں ہر بات سن لیتا ہوں جذباتی نہیں ہوتا

دکھلائیے سپاہ کو دیوار کا شگاف
دروازہ بند ہے بھی تو بے کار بند ہے

میں خود بھی یار تجھے بھولنے کے حق میں ہوں
مگر جو بیچ میں کم بخت شاعری ہے نا

اتنی شدید آئ مجھے اپنے گھر کی یاد
گھبرا کے ریل گاڑی کی زنجیر کھینچ لی

عشق تمھارا کھیل ہے باز آیا اس کھیل سے میں
میرے ساتھ ہمیشہ بے ایمانی ہوتی ہے

پانی مقدار میں کم آنے لگے تو سمجھو
آنکھ ابرو کے مساموں سے ہوا کھینچتی ہے

Afzal Khan Introduction And Lyrics

ہمارا دل ذرا اکتا گیا تھا گھر میں رہ رہ کر
یونہی بازار آئے ہیں خریداری نہیں کرنی

مرے اترے چہرے کو دیکھ کر مری بوڑھی ماں
یہ سمجھ گئ کہ پھر آج کام نہیں ملا

پھر جو اس شہر میں آنا ہو تو ملنا مجھ سے
گھر کا آسان پتہ یہ ہے کہ گھر ہے ہی نہیں

وگرنہ تیر کسی کا نہ چھو سکا تھا مجھے
مری طرف سے مرے یار کو مبارک باد

ذرا سی بات پہ یوں دل برا نہیں کرتے
میں ٹھیک ٹھاک ہوں چل چھوڑ یار ہاہاہا

Afzal Khan Shayari 

Afzal Khan Introduction And Lyrics

ہمارے سانس بھی لے کر نہ بچ سکے افضل
یہ خاک دان میں دم توڑتے ہوئے سگریٹ

میں پہلے کوفہ گیا اس کے بعد مصر گیا
ادھر برائے شہادت ادھر برائے فروخت

یہ گنج.آب تو فقط ہے زائرین کے لیے
سمجھ سکو تو گھاءو ہے کنواں زمین کے لیے

بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی
وگرنہ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں

Afzal Khan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *