Afzal Khan Interview By Touseef Turanal

Afzal Khan Interview

افضل خان صاحب کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: توصیف ترنل

س: سب سے پہلے ایک روائتی سوال لفظوں سے رشتہ کب جڑا ؟ پہلا شعر کونسا کہا اگر یاد ہو ؟
افضل خان: یہ 1988 کی بات ہے میں آتھویں جماعت میں تھا جب پہلا شعر کہا
خوابوں کو آنکھوں میں پرونا اچھا لگتا ہے
سپنا ان کا آئے تو سونا اچھا لگتا ہے
س: والدین کو جب پتہ چلا کہ ان کا صاحبزاد شعر کہتا ہے تو ان کا ردِ عمل کیا تھا ؟
افضل خان: شروع میں بہت مخالفت ہوئ. لیکن بعد میں خاموش ہو گئے. میں نے اس خاموشی کو رضامندی سمجھا۔

س: آپکا قلمی افضل خان ہے اس نام کو رکھنے کی کوئی خاص وجہ ؟
افضل خان: میرا کوئی قلمی نام یا تخلص نہیں. اصل چیز کام ہے. اور وہی میری پہچان ہے. اچھی یا بری.

س: کیا کبھی کسی سے اصلاح لی ؟ کس شاعر کو خود کے لیے زیادہ موثر سمجھتے ہیں ؟
افضل خان: محترم خالد عظیم میرے استاد ہیں جو کہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر.عروض بھی ہیں.

س: شاعری کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے شاعری کیا ہوتی ہے ؟ شاعری کا ذاتی زندگی پر کوئی مثبت یا منفی اثر اگر پڑا ہو تو ؟
افضل خان: شاعری لوگوں کے لیے ذریعہ اظہاراور میرے لیے ذریعہ انکار ہے میں ایک مروتی آدمی ہوں اور خیال خاطراحباب کا قائل ہوں لیکن شاعری کی زبان میں اپنا اختلافی نوٹ دے دیتا ہوں۔
س: طنز و مزاح سے لگاو ؟ کیا کبھی شاعری کے علاوہ نثر میں کچھ لکھا ؟
افضل خان: جی. میں نے افسانے، ڈرامے، مضامین وغیرہ سب کچھ لکھا. شروع میں مزاحیہ شاعری بھی کی اور ایک دو مزاحیہ مضامین بھی لکھے.

س: موجودہ دور کی شاعری سے کس حد تک مطمئن ہیں ؟ حالات حاضرہ کے شعرا میں آپ کی پسند کا شاعر ؟
افضل خان: مجموعی طور پر شاعری کا گراف نیچے کی جانب گامزن ہے. مکھی پر مکھی ماری جاتی ہے یا پھر جدت کے جکر میں سطحی مضامین باندھے جاتے ہیں جن میں کوئ تہہ داری نہیں ہوتی. اس کے علاوہ کلیشے کی روایت بھی عام ہے. موجودہ عہد میں محترم عباس تابش میرے پسندیدہ شاعر ہیں. ان کا فی الوقت کوئ ثانی نہیں. اس کے علاوہ کچھ نوجوان بھی اچھا کام کر رہے ہیں. جن سے بہ شرط.استواری توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں.

Afzal Khan Interview

س: کسی ادبی گروہ سے وابستگی ؟ اردو ادب کی ترویح و ترقی کے لیے جو کام ہو رہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں ؟
افضل خان: کسی گروہ سے کوئ تعلق نہیں کیونکہ نظریےکی موت ہو چکی. اردو ادب کی ترویج کے لیے سرکاری سطح پر جو ادارے بنائے گئے ہیں وہ صرف تنخواہ داری کے لیے ہیں. کچھ نجی ادارے البتہ اچھا کام کر رہے ہیں.
س: محبت کے بارے میں کچھ بتائیے کیا آپ نے کبھی محبت کی ؟ کیا شاعر ہونے کے لیے محبت ضروری ؟
افضل خان: محبت ملکیت کے احساس کا نام ہے. میں نے محبت نہیں بلکہ محبتیں کیں. شاعری کا تعلق حسن سے ہے اور حسن و محبت لازم و ملزوم ہیں. اسی طرح یہ دائرہ مکمل ہوتا ہے.

س: جہاں سوشل میڈیا نے نئے لکھنے والوں کے لیے سہولیات دی ہیں وہاں پر کتب سے دوری بھی دی ہے ۔ آپ کے خیال میں وہ کتابوں کا دور ٹھیک تھا یا حال ٹھیک ہے ؟ کتابوں سے محبت کا کوئی ذریعہ ؟
افضل خان: ہر عہد کی اپنی ضروریات ہیں. کتاب سے رشتہ استوار رکھنے کے لیے آپ کو روزی روٹی کے مسائل سے نمٹنا ہو گا جو کہ تیسری دنیا کے ممالک میں ابھی نا ممکن ہے. خوشحالی آنے دیجیے، کتاب کا رشتہ خود بخود بحال ہو جائے گا.
س: کس بحر میں غزل پسند ہے ؟ آپ کا اپنا کوئی پسندیدہ شعر ؟
افضل خان: مفاعیلن کی سادہ بحر میری طبیعت کے لیے موزوں ہے. ابھی تک اس شعر کے لیے ہی شاعری کر رہا ہوں جس کو میں اپنا پسندیدہ شعر قرار دے سکوں۔ یہ شاعری محض نیٹ پریکٹس ہے۔

س: پہلی ملاقات میں سامنے والی شخصیت میں کیا دیکھتے ہیں آپ ؟
افضل خان: میں خوف زدہ ہوتا ہوں کہ کہیں یہ شخص منافق اور رنگ باز نہ ہو۔
س: غالب کے بارے میں آپ کی رائے ؟
افضل خان: غالب اردو کے عظیم شاعر ہیں. انھوں نے شعر کو کرافٹ اور خیال دونوں حوالوں سے معتبر بنایا ہے. الفاظ کو کثیرالمعانی بنانے میں غالب کا حصہ سب سے زیادہ ہے. میرے جیسے لوگ تو ان الفاظ کی محض جگالی کرتے ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *