افضل گوہرؔ کے شعری مجموعے’’نمایاں‘‘ سے منتخب اشعار

افضل گوہرؔ کے شعری مجموعے’’نمایاں‘‘ سے منتخب اشعار

انتخاب: عبداللہ نعیم رسول

میں تم سے ملنے آیا تھا چھاؤں کی آس میں
تم نے بھی اپنی دھوپ مرے سر پہ ڈال دی

ورنہ کہاں نگاہ میں جچتا یہ آدمی
اس جانور کو شکل ہی تو نے کمال دی

اپنے ہونے کی کوئی معلوم آہٹ دے مجھے
خامشی میں نے تری آواز پہچانی نہیں

بجھ گئی رفتہ رفتہ آتشِ دل
سانس سے بھی دھواں چلا گیا ہے

موت تو ان کو آئی ہے گوہرؔ
جن کا نام و نشاں چلا گیا ہے

مصرعۂ تر مدام رہتا ہے
شعر اچھا کہاں پرانا ہوا

خاک داں کم ہی پڑ نہ جائے کہیں
رقص کا دائرہ بڑا ہے مرا

افضل گوہرؔ کے شعری مجموعے’’نمایاں‘‘ سے منتخب اشعار

پرائی خاک اٹھانا تو اک اذیّت تھی
میں جتنا خود میں سمایا مجھے مزہ آیا

وہاں پہ سانس کی مہلت کا کیا یقین کریں
کہ خود دھویں سے جہاں کھانستی ہوا آئی

یہ کس کے نقشِ پا سے ایسا سلسلہ چراغ تھا
کہ مجھ کو یوں لگا کہ سارا راستہ چراغ تھا

ایسے تبدیل ہوئے جاتے ہیں موسم گوہرؔ
پہلے جنگل میں تھی اب باغ میں ویرانی ہے

دکھ تو یہ ہے کہ ساری دنیا ہے
؂میں نہیں ہوں مری کہانی میں

تو ایسا حقیقت میں نظر کیوں نہیں آتا
تصویر سے جیسے تری تشہیر ہوئی ہے

یہ داستاں کبھی فرصت ملی تو لکھوں گا
کہاں کہاں سے گزر کر میں خود تلک آیا

یہ لوگ اب اسے دنیا سمجھتے ہیں گوہرؔ
میں دل کا بوجھ سمجھ کر جسے جھٹک آیا

زمیں سے میں نے ابھی ایڑیاں اٹھائی تھیں
کہ آسمان کا مجھ کو نظارہ ہونے لگا

کس وقت مری بھوک مری آنکھ میں اتری
جب دانہ مرا سارا تہہِ دام پڑا ہے

دنیا کی طرح ہم تو چھپا کر نہیں رکھتے
جو کچھ بھی میسر ہے سرِ عام پڑا ہے

وہ کوئی اور نہ تھا میرے علاوہ گوہرؔ
پاؤں رکھ کر جسے مسمار کیا ہے میں نے

خواب کی نیند ٹوٹتی ہی نہیں
ہم بھی کیسا نظارہ کر بیٹھے

جب مجھے دیکھنا نہ آتا تھا
اس نے منظر مجھے روانہ کیا

زمیں میں پھرتے ہیں آدھے ادھورے عکس میں لوگ
دکھائی دیتا نہیں اپنے قد میں سارا کوئی

اس بنانے کا فائدہ گوہرؔ
جو مراانہدام کر گیا ہے

میں نے یہ اینٹ یونہی سر کے تلے رکھی ہے
ورنہ ایسی بھی کہاں خواہشِ بستر ہے مجھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *