افسانہ: آخری فلائٹ / ازقلم: رابعہ الربا

img-20190602-wa0059

ماؤف ذہن میں صرف ایک سوچ تھی میں کیسے ان کا سامنا کروں گا، مجھ سے نہیں ہو گا یہ سب، میرے میں ہمت نہیں رہی کیا کہوں گا، ان کو اور کیسے کہوں گا ان سے نگاہیں کیسے ملاؤں گا، میں کر ہی کیا سکا ہوں ان کے لئے ! وہ۔۔۔! انہوں نے ہمارے لئے کیا کچھ نہ کیا کہ عمر بھر بھی لوٹانا چاہوں تو ناکام رہوں، میرا ذہن، میری سوچ ماؤف ہو چکی تھی، میں نے اس کے باوجود بارہا کوشش کی کہ جلدازجلد ان کا سامنا کر لوں۔۔۔ شاید پھر۔۔۔ مگر فلائٹ۔۔۔ کوئی جگہ نہیں تھی اور میرا دل بھی تو خالی ہو چکا تھا مگر پھر بھی ان سے ملنے کی جلدی مجھے مضطرب کئے ہوئے تھی، آخرکار ایک ریٹرن ٹکٹ کا بندوبست ہو گیا مگر جدہ سے۔۔۔ میں چونکہ خود کو حالات کی سونامی کے سپرد کر چکا تھا، میں نے یہ فیصلہ بھی قبول کر لیا، جب اس یخ بستہ علاقے جس کے رومان میں دنیا پاگل ہے، منفی چھ درجہ حرارت سے جدہ اترا تو ایک نئے موسم نے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور کان میں سرگوشی کی کہ ان کا سامنا نہیں کر سکتے ناں۔۔۔ تو پہلے کسی اور سے مل لو۔۔۔ تب معلوم ہوا مکہ پاس ہے۔

میں بیقرار مکہ کی اور نکل پڑا، نفل پڑھے، سجدے کئے۔۔۔ مگر کیامانگتا ربّ سے۔۔۔کچھ نہ تھا، جو میں مانگ سکتا تھا، میں بے خواہش ہو چکا تھا، اس سرزمین پر عشق کے آنسو بہا کر میں اپنے اگلے سفر کو نکل کھڑا ہوا، اگلی منزل۔۔۔ اس فلائٹ کے بعد مزید قریب ہوتی چلی جا رہی تھی۔ قدم نہیں اٹھ رہے تھے مگر میں خود کو شکست دے کر جیسے گناہ کی اور خود ہی دھکیل رہا تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا اس کے بعد پھر کبھی نہیں۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔! کیا کرے گا یار اس ملک میں جا کے واپس۔۔۔؟ رکھا ہی کیا ہے وہاں تیرا؟ ذمہ داری تیری کوئی نہیں؟ بہن بھائی کا اپنا گھر۔۔۔؟ یہاں۔۔۔یہاں تو ٹوائیلٹ میں جو پانی استعمال کرتا ہے وہاں پینے کو یہ پانی میسر نہیں۔ اپنی جاب دیکھ، ایسے مواقع بار بار نہیں ملتے، اور پھر لاسٹ سمسٹر چل رہا ہے۔ دو ماہ رہ گئے ہیں۔۔۔مستقبل بنا اپنا۔۔۔وہاں کوئی مستقبل نہیں۔۔۔! ہر یار، ہر جانا انجانا ایسی ہی باتیں کرتا۔ مگر میں انہیں کس طور سمجھاتاکہ میراکتنا بڑا اثاثہ ہے وہاں۔ اور وہ کیسے سمجھتے کیونکہ وہ تو اثاثوں کے نشہ سے ناآشنا تھے۔ اس لذت سے محروم۔۔۔! میرے ملک کی اڑنے والی مٹی دھول بھی میرے اثاثے کی جگمگاہٹ کو ماند نہیں کر سکے۔ انہیں اس کی قیمت کا کیا علم؟ مگر میں نے دل میں ٹھان لی تھی کہ دو ماہ بعد میں واپس جا کر اسے صاف ستھرا کروں گا، سنواروں گا، پالش کروں گا اور یہی دنیا اس سب پر مان کرے گی اور مجھے یہ مان ہو گا کہ اس اثاثے کی آنکھوں میں میری ملکیت کا غرور و رشک ہے۔ میرا ذہن پھر سے سمندری طوفانی لہروں کی مانند چودھویں رات کی بے چینی سے پُر ہوگیا۔ پھر مجھے یہی اضطراب ستانے لگا میں کیسے سامنا کر پاؤں گا۔۔۔؟ ان سے کیسے ملوں گا؟ کیا کہوں گا۔۔۔ کیا؟ میرا دل چاہ رہا تھاکہ یہ جہاز کسی خلائی جہاز سے بھی تیز ہو جائے اور میں چاند پر پہنچ جاؤں۔ بس ایک بار وہاں قدم رکھ لوں۔ فقط ایک بار۔۔۔! کئی گھنٹوں کی بے قراری و بے چینی سے مسوس آخر یہ فلائٹ اس منزل پر اتر گئی۔ جہاں سے مجھے آخری فلائٹ پہ سوار ہونا تھا۔ آخری فلائٹ۔ اور اس کے بعد میں ان کے روبرو کھڑا ہوں گا مگر ان کا سامنا۔۔۔! مجھ میں طاقت نہیں رہی۔ اب تو میں خود کو گناہ کی طرف دھکیل دھکیل کے بھی تھک چکا تھا۔ مگر مجھے اپنی زندہ لاش کو ابھی اپنے ہی کاندھوں پر اٹھانا تھا کیونکہ میری روح ابھی میری ہمسفر تھی۔ میری شریک تھی۔۔۔! اور پھر۔۔۔ ضروری کاروائیوں کے بعد میں اس کا سوار تھا۔ اب میرا دل تیز تیز دھڑکنے لگا۔ جو سوال جواب مجھے ستا رہے تھے وہ کہیں نہیں رہے فقط میں تھا اور میرا دل۔ جو طلاطم خیز دھڑکنوں سے مجھے چلا رہے تھے۔ مجھے کسی چیز۔۔۔ کسی بات کی خبر نہیں تھی۔ ایک بے یقینی کی کیفیت نے مجھے بے قرار کیا ہوا تھا۔ جیسے جیسے جہاز فضاؤں سے لڑ رہا تھا۔ میرے جسم کا ہر ہر حصہ دل کی طرح طلاطم خیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔ آخر یہ جہاز بھی لینڈ کر گیا۔ نہ معلوم کون کون لینے آیا تھا؟ کب کیا ہوا؟ بس سب کچھ دھڑک رہا تھا۔ بہت تیز تیز۔۔۔وہ گاڑی بھی جو مجھے ان کے سامنے لے کر جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ گاڑی رکی اور میں دھڑکتے بدن سے، لرزتے قدم اٹھاتا چند ساعتوں میں ان کے سامنے تھا۔ میرا اثاثہ، جس کے وجود کا میں حصہ تھا، پوری شان و شوکت سے میرے سامنے موجود تھا۔ میں اس سے لپٹ کر رویا۔۔۔بہت رویا۔۔۔! اس کے بعد جب مجھے ذرا ہوش آیا تو اک آواز چاروں اور گونج رہی تھی۔ کلمہ شہادت۔۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *