Abbas Tabish Two Line Poetry | Abbas Tabish Best Poetry

Abbas Tabish Two Line Poetry

محترم عباس تابش صاحب (سرپرست اعلیٰ آن لائن اردو ڈاٹ کام) کے لاجواب کلام میں سے یاورعظیم صاحب نے اشعارمنتخب کئے ہیں وہ اشعار قارئین کرام کے لئے حاضرخدمت ہے

منتخب اشعار

Abbas Tabish Two Line Poetry

چلتا رہنے دو میاں سلسلہ دلداری کا
عاشقی دین نہیں ہے کہ مکمل ہو جائے

اگر قریب سے گزروں تو ایسا لگتا ہے
یہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں

عجیب لوگ ہیں یہ خاندانِ عشق کے لوگ
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے

ابھی سے ترکِ تعلق کی بات کرتے ہو
یہ فیصلے تو میاں ایک دم نہیں ہوتے

لفظ تو لفظ یہاں دھوپ نکل آتی ہے
تیری آواز کی بارش میں نہانے کے لیے

کس طرح ترکِ تعلق کا میں سوچوں تابشؔ
ہاتھ کو کاٹنا پڑتا ہے چھڑانے کے لیے

ضروریاتِ جہاں ہم سے پوچھنے والے
تجھے یہ کیسے بتائیں کہ تُو ضروری ہے

میں تجھ سے تیرے مسائل کی بات کیسے کروں
کہ تیرے ساتھ تری گفتگو ضروری ہے

Abbas Tabish Two Line Poetry

Abbas Tabish Two Line Poetry

یہ ہم کو عشق غلط فہمیوں میں ڈال گیا
وگرنہ میں ہوں ضروری نہ تُو ضروری ہے

کیوں نہ اے شخص تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں
تُو مرے وہم سے بڑھ کر بھی تو ہو سکتا ہے

یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول نہ جان
میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہو سکتا ہے

تجھ کو گنتا ہوں میں اپنے آپ میں اس واسطے
تاکہ دنیا کو بتا پاؤں مکمل شخص ہوں

دوست میرا مسئلہ کچھ مختلف ہے پیڑ سے
وہ پھلوں سے اور میں یادوں سے بوجھل شخص ہوں

پیاس میں اتنا بھی خوش فہم کوئی ہوتا ہے
اُس پیالے پہ چھلکنے کا گماں ہے کہ جو تھا

ایک لمحے کو لگا کُھل گئے عقدے سارے
پھر یہ سوچا کہ ترے بندِ قبا رہتے ہیں

جب بھی ہوتی ہے ہمیں نقل مکانی منظور
کچھ دنوں کے لیے اک شخص میں جا رہتے ہیں

میں اُن سے کس لیے کرتا ملامتوں کا گلہ
یہ کام دوست نہ کرتے تو کیا عدو کرتے

مرے بعد آنے والوں سے کہو ، وہ حوصلہ رکھیں
میں خود کو کاٹ کر ان کے لیے رستے بناتا ہوں

مجھ ایسے کوہ کن کو رفتگاں کا رنج ہے تابشؔ
میں پتھر کاٹ کر نہریں نہیں ، کتبے بناتا ہوں

اُس کے گل پھول بھی کام آتے نہیں ہیں اُس کے
پیڑ کے دکھ بھی مرے دستِ ہنر والے ہیں

Abbas Tabish Two Line Poetry

Abbas Tabish Two Line Poetry

کوئی گٹھڑی تو نہیں ہے کہ اٹھا کر چل دوں
شہر کا شہر مجھے رختِ سفر لگتا ہے

اس زمانے میں غنیمت ہے، غنیمت ہے میاں
کوئی باہر سے بھی درویش اگر لگتا ہے

اب بچھڑنا بہت ضروری ہے
پھر ملیں گے کسی مصیبت میں

اہلِ وحشت کو مگر کون بتاتا جا کر
ہو گیا نافِ غزالیں کوئی گھر پر رکھا

ہمارا سلسلہ ہے دورئ قربت نما جیسا
کہ ملتے بھی نہیں ہم اور جدا ہونے سے ڈرتے ہیں

کسی نے اس سے آگے کا سفر قدموں میں لا رکّھا
ہمارا دھیان جاتا تھا محبت کے خسارے تک

نہیں معلوم تھا جب تک کہ تم ہو، زندگی تم ہو
ہمارا زندہ رہنے کا تصور تھا گزارے تک

زبانوں میں پڑی گرہیں تو کیا کُھل پائیں گی تم سے
کہ تم سے تو نہیں کھلتے ہمارے استعارے تک

یہ محبت تھی مری جان کے درپے ایسی
جان دے بھی نہیں جان کا صدقہ اترا

لوگ تتلی کی طرح کرنے چلے اُس کو حنوط
اک مصیبت بن گیا ، اُس کا جمال اُس کے لیے

میں ٹھیک سے قدم نہیں زینوں پہ رکھ سکا
میری نگاہ تھی کہیں اوپر لگی ہوئی

ہجرو ہجرت کے کہاں بس میں تھا اتنا بڑا کام
ان مکانوں کو کیا سیلِ فنا نے خالی

ان کے بچوں کو خدا سانپ سے محفوظ رکھے
دن میں ہوتے ہیں پرندوں کے ٹھکانے خالی

Abbas Tabish Two Line Poetry

Abbas Tabish Two Line Poetry

اے تشنہ لبی تُو نے کہاں لا کے ڈبویا
اس بار تو دریا بھی نہیں تھا مرے آگے

ایسے تو نہ مانوں گا میں ہستی کا توازن
تقطیع کیا جائے یہ مصرعہ مرے آگے

اے قامتِ دلدار ! گزشتہ کی معافی
پہلے کوئی معیار نہیں تھا مرے آگے

اے شخص تیرے ساتھ ہیں سارے معاملات
ایسا نہیں کہ تجھ سے محبت ہے اور بس

یہ عشق ہے اور اِس کا ہونانہیں دوبارہ
یہ زیست تو نہیں جو بارِ دگر کریں گے

Abbas Tabish Two Line Poetry

Abbas Tabish Two Line Poetry

یہ کیسے تُو نے سوچا، یہ کیسے تُو نے مانا
تُو ہمسفر نہ ہو گا اور ہم سفر کریں گے

یہ روز و شب ہماری ترجیح میں نہیں ہیں
ہم تو جمالِ جاناں تجھ کو بسر کریں گے

ایسے تو کوئی ترکِ سکونت نہیں کرتا
ہجرت وہی کرتا ہے جو بیعت نہیں کرتا

یہ لوگ مجھے کس لیے دوزخ سے ڈرائیں
میں عاشقی کرتا ہوں، عبادت نہیں کرتا

تابشؔ کا قیامت سے یقیں اٹھ نہ گیا ہو
کچھ دن سے وہ ذکرِ قد و قامت نہیں کرتا

ابھی نہ کوئے ملامت کو بند کیجئے گا
کہ اس طرف سے گزر صبح و شام میرا ہے

یہاں کسی کی نہیں جو ہوئی مری تذلیل
یہاں کسی کا نہیں جو مقام میرا ہے

میں اجڑتا ہوں تمہیں آباد رکھنے کے لیے
تم سمجھتے ہو کہ اس میں فائدہ میرا بھی ہے

زندگی بھر میں کوئی شعر تو ایسا ہوتا
میں بھی کہتا جو مرا زخمِ دروں ہے، یوں ہے

Abbas Tabish Two Line Poetry

Abbas Tabish Two Line Poetry

اے دوست مجھ سے عشق کی یکسانیت نہ پوچھ
تُو بھی کبھی کبھی مجھے بیگانہ چاہیے

یہ نہیں ہے تو بتا اور محبت کیا ہے
تیرے دھوکے میں ہوئے لوگ دوانے میرے

زندگی میں نے ترا بوجھ اٹھایا ہے بہت
اب ترا سوچ کے تھک جاتے ہیں شانے میرے

میری کوشش تو بہت ہے کہ یہ گھر بچ جائے
اس کی بنیاد میں ہیں دفن خزانے میرے

خدا کے نام کی پروا نہیں تھی لوگوں کو
یہاں ہمارا تمہارا حوالہ کیا کرتا

Abbas Tabish Two Line Poetry

Abbas Tabish Two Line Poetry
تیرے بس میں بھی نہ تھے ، جو ترے باعث بھی نہ تھے
اُن مسائل کا بھی میں نے تجھے حل جانا تھا

اک مقام ایسا بھی آیا مرے بچھڑے ہوئے دوست
میں نے تجھ کو بھی اُداسی میں خلل جانا تھا

تیرے ہوتے بھی اکیلا نہیں چھوڑا خود کو
تُو نے تو ہاتھ چھڑانا تھا، نکل جانا تھا

یوں ہی کب میں نے سنواری تھی تری نوک پلک
میں نے اے دوست ! تجھے اپنی غزل جانا تھا

زخم مہکے نہ کوئی رنگ طبیعت لائی
زندگی مجھ کو عبث کوئے ملامت لائی

Abbas Tabish Two Line Poetry

Abbas Tabish Two Line Poetry

اُس کو مدت سے کوئی قیس نہیں ملتا تھا
میری دہلیز پہ صحرا کو ضرورت لائی

بے خیالی میں نکل آیا ہوں تیری جانب
کوئی پوچھے تو یہ کہتا ہوں محبت لائی

خدا نے یوں مرے حرفِ تمنا کا بھرم رکّھا
تمہیں بھیجا دعائیں بے اثر جانے کے موسم میں

مجھ پہ حق سب کا ہے لیکن وہ ہے تجھ سے مشروط
میں ہوں اس کا جو مجھے تیری زبانی مانگے

کیا کہوں ان سے مرے پاس نہیں ہے کچھ بھی
لوگ کشکول بکف ہیں مرے در پر کیا کیا

Abbas Tabish Two Line Poetry

Abbas Tabish Two Line Poetry

مرے نقشِ قدم میرا تعاقب کیوں نہ کرتے
جدھر سب جا رہے تھے، میں اُدھر تھوڑی گیا ہوں

یہ دیکھنے کو میری طرف دیکھتے ہیں لوگ
میں کیسا لگ رہا ہوں اُدھر دیکھنے کے بعد

یاروں نے عشق کے لیے فُرصت نکال لی
لیکن معاملاتِ دگر دیکھنے کے بعد

زمانے ہو گئے ہیں جمع کرتے
اب اتنی رائگانی کیا کروں میں

Abbas Tabish Two Line Poetry

ترے قدموں میں جا ملتی نہیں ہے
دلوں پر حکمرانی کیا کروں میں

ترے ساحل پہ پیاسا مر رہا ہوں
سمندر! تیرا پانی کیا کروں میں

چراغ جل رہا ہے اور جا رہے ہیں چھوڑ کر
یہ کس طرف کے لوگ ہیں مری صفوں کے درمیاں

اُداس ہیں تو ہمارا کوئی قصور نہیں
ہمیں اُدھر سے دلِ خوش معاملہ نہ ملا

Abbas Tabish Two Line Poetry

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *