ادارہ عالمی اردو محفل کے زیراہتمام آن لائن عالمی غیرطرحی جشن مشاعرہ

ادارہ عالمی اردو محفل کے زیراہتمام آن لائن عالمی غیرطرحی جشن مشاعرہ

رپورٹ: محترم عبدالرحمن پاکستان سندھ

ادارہ عالمی اردو محفل کا بنیادی مقصد نہ صرف اردو ادب کے فروغ کے لیے کام کرنا ہے بلکہ اردو ادب کی اہم ترین اور دلچسب معلومات میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے جس کی وجہ سے ھذا دنیا میں اس ادارہ اردو محفل کی ایک الگ پہچان ہے بلاشبہ اس کا سہرا اس ادبی منفرد ادارے کے بانی و چیرمین چیف آرگنائزر محترم میھرخان صاحب کے سر جاتا ہے جس نے اپنی بے لوث محبتوں عشق و عقیدت اور دن رات کی محنت اور کاوشوں سے اس خوبصورت منفرد ادبی ادارہ عالمی اردو محفل کو ادبی ستارو سے سجایا ہے جس نے دنیا بھر کے شعراء و شاعرات کو اکٹھا کر کے ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے۔

واٹس ایپ کی دنیا کا مشہور ومنفرد اور معیاری ادارہ عالمی اردو محفل کے زیراہتمام آن لائن عالمی غیرطرحی جشن مشاعرہ 1/2/2018 پاکستانی وقت 8:00 بجے اور ہندوستانی وقت 8:30 بجے مشاعرہ منعقد کیا گیا۔ جس میں پاکستان اور ہندوستان کے جانے مانے سینئر شعراء کرام کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے شعراء و شاعرات نے بہت ذوق و شوق کا مظاہرہ کرتے ہوئے حصہ لیا اس محفل مشاعرہ کی ایک خصوصیات ہے تھی کے موجودہ دور کے کچھ معتبر شعراء شاعرات نے اپنا کلام پیش فرمایا اور اس مشاعرے میں ایک کے بعد ایک شعراء و شاعرات کو اسی طرح دعوت کلام دیگی جس طرح کسی بھی عالمی مشاعرے میں دی جاتی ہے۔ پروگرام کا آغاز حمد باری تعالی سے کیا گیا۔

بعدۂ نعت رسول کا آغاز کیا گیا اور حمدیہ کلام اور نعتیہ کاوشوں کو بیحد سراہا گیا اس کے بعد شعراء کرام نے اپنا اپنا خوبصورت اور معیاری کلام پیش فرمایا اور داد و تحسین پائی اس پروگرام کی خصوصیت و انفرادیت یہ تھی کہ ہر شاعر کے کلام پر جانے مانے سینئر ماہر اساتذہ فن خصوصا موجودہ دور کے مشہور معروف شاعر محترم جناب انور کیفی صاحب نے دل کھول کر اصلاحی کی اور داد تحسین دی جس کی وجہ سے سادھے تین گھنٹے تک سیکھنے سکھانے کا یے منفرد اور معیاری عمل جاری رہا اور اختتام تک شرکاء کا جوش و خروش اور دلچسپی بر قرار رہی۔

اس خوبصورت محفل کی صدارت موجودہ دور کی مشہور و سینئر شاعرہ محترم جناب انور کیفی صاحب بھارت سے انجام دیے جبکے اس خوبصورت محفل مشاعرہ کے مہمانان خصوصی محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ پاکستان سے اور ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ بھارت سے تھے اور مہمانان اعزازی صابر جوھری بھدوہوی صاحب اور محترم حفیظ مینا نگری دھرنگاؤں جلگاؤں صاحب مہاراشٹر انڈیا بھارت سے تھے۔

جبکہ اس خوبصورت محفل مشاعرہ کے نظامت کے فرائض کو انجام دی رہی تھے نوجوان نسل کے شاعر محمد شاہ رخ جنجوعہ گولڑوی صاحب نے بہت ہی خوبصورت اور بہترین لب و لہجے کے ساتھ کر رہے تھے۔ جبکہ پروگرام کے آرگنائزر ادارہ عالمی اردو محفل کے بانی و چیرمین محترم میھرخان صاحب پاکستان سندھ دادو سے تھے اور پروگرام کے پبلشنگ کی زمہ داری محترم منظور قادر بھٹی صاحب چیف ایڈیٹر عکس جمہور اور محترم عثمان عاطس محترم ڈاکٹر مجاہد صاحب محترم نادر بلوچ صاحب کی تھی اور رپورٹنگ کی زمہ داری محترم غلام عبدالرحمن پاکستان سندھ سے نبھائی۔

محفل مشاعرہ میں شامل شعراء و شاعرات کے اسمائے گرامی اور نمونہء کلام پیش خدمت ہے

حمد باری تعالیﷻ
رحم حاوی سداہی بر غضب ہے
الہی تومیرا لاریب رب ہے

نرالی شان تیری پرعجب ہے
ہےروشن چاند سورج;بوالعجب ہے
ڈاکٹر ارشاد خان مہاراشٹر بھارت

نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلمﷺ
یا الہی ! مجھ کو لکھنی ہے ابھی نعت نبی
کر دے نازل غار دل پر وحی سی نعت نبی

مست دیوانوں کو کرکے اپنے فیض جام سے
ختم کر دیتی ہے آشفتہ سری نعت نبی
راحت انجم ممبئی بھارت

اضاف شاعری کے گل تر کے سامنے
شعر ادب ہے محفل انور کے سامنے
قربان جاؤں حسن ستمگر کے سامنے
محشر بنا تھا میں صف محشر کے سامنے
واقف انصاری الہ آباد بھارت

ہم بھی کچھ کچھ خراب ہو جائیں
دور سارے حجاب ہو جائیں
چاند بادل کی اوٹ سے نکلے
گم یہ سارے نقاب ہو جائیں
اشرف علی اشرف سندھ پاکستان

محفل سے تیری کیا کہوں کیا لے کے جا ؤں گا
اک پل میں اک صدی کا مزہ لے کے جا ؤں گا
تیرا فقیر ہوں بڑا ضدی فقیر ہوں
خالی نہیں ٹلوں گا دعا لے کے جا ؤ ں گا
مصطفی دلکش ممبئی مہاراشٹر بھارت

میری ہر راہ کے کھوئے ستارے لوٹ ہی آئیں
غبار راہ میں بچھڑے وہ پیارے لوٹ ہی آئیں
تیری نازک سی کشتی ہےاسےبس موج سہنے دے
ذرا طوفان تھم جا ئے کنارے لوٹ ہی آئیں
عمر خان عمر گوجرانوالہ پاکستان

یہ تو پہچاننے آپکاکونہے بے
۔ بےوفا کون ہے باوفا کون ہے
تیری پہچان بھی ہے مرے نام سے
ورنہ تجھکو یہاں جانتا
خوشبو رامپوری اسٹیٹ رامپور یوپی بھارت

درد_ دل خوامخواه مت لینا
چاند کو دیکھو، چاه مت لینا

ہو نہ جو واقف_ وفا یارو!
ایسے دل میں پناه مت لینا
امین اڈیرائی اڈیرولال پاکستان

طلوعِ آفتاب سے نمی کہیں چلی گئی
تھی جس سے گل میں تازگی وہی کہیں چلی گئی

کمال درجہ بے وفا یہ شہرتوں کی دھوپ ہے
ابھی ابھی تو سر پہ تھی ابھی کہیں چلی گئی
عظیم انصاری کلکتہ بھارت

اک گلشنِ جمال نکھارا زمین پر
میں نے جو اپنا آپ اتارا زمین پر
تحقیر کی نظر سے جو دیکھا زمین کو
مجھ کو فلک نے کھینچ کے مارا زمین پر
فائق ترابی اٹک پنجاب

نہ اب وہ جوش خلش ہے نہ ولولہ دل کا
لٹا ہے کونسی منزل میں قافلہ دل کا
بتا اے گرئہ پیہم جواب کچھ تو بتا
وہ پوچھ بیٹھے اگر مجھ سے مشغلہ دل کا
محمد یوسف رضا یوسف دہلی ہندوستان

غبار نفس سے دل کو ذرا بچا رکھنا
بہت کٹھن ہے میاں خود کو پارسا رکھنا
ڈهلی ہے شام اجالوں کا راستہ رکهنا
جو ملنا چاہو بچهڑنے کا حوصلہ رکهنا
صادق کرمانی عرب امارت

آنکھوں سے تری ہم مست ہوئے,اب جائیں بھی کیوں میخانے کو
بس یونہی تمھیں دیکھا کرنا,کافی ہے دل سمجھانے کو
امیر الدین امیر بیدر کرناٹک بھارت

یارب دیا ہے حسن تو یے بھی کمال دے
میں ہس پڑوں تو پھول بھی خوشبو اچھال دے
ہاجرہ نور زیاب آکولہ مہارشٹر بھارت

خاموش صـداؤں سے، نہ پیغــام سے آیا
وہ حُســن مِرے پاس کسـی کام سے آیا
آیا تو نظر آیا مجھے خـــارِ ضـرُورت
ہائے وہ گلِ خـاص، رہِ عام سے آیا
شـــہزاد نیّــرؔ

سفینے میں ہے کتنا دم سمندر آزماتا ہے
ہے دل میں کتنی گہرائی یہ خنجر آزماتا ہے
فقط اسکو ہی چاہا تھا مگر افسوس ہے مجھ کو
وہ مجھ سی صنفِ نازک کو مقدر آزماتا ہے
زویاتحسین ممبئی بھارت

اب کوئی آرزو نہیں دل کی
مل گئی مجھ کو راہ منزل کی
سب کی باتوں سے ہم کو کیا مطلب
ہم تو سنتے ہیں بات بس دل کی
واجدہ تبسم ناصر ممبئی بھارت

میرے دل کی دھڑکنوں دے ترا پیار کم نا ہوگا
نہ بھلا سکوں گی تجھ کو یہ خمار کم نا ہوگا
میرے ساتھ چلنے والے مرے ساتھ ساتھ رہنا
جو قرار تو نے بخشا’ وہ قرار کم نا ہوگا
زرقانسیم لاہور پاکستان

میں قلب و نظر میں وہ ضاء لے کے چلاہوں
ہونٹوں پہ صدا لے کے چلاہوں
ممکن ہے قفس میں بھی قیامت کی گٹن ہو
میں گلشن ہستی سے ہوا لے کے چلا ہون
شمشاد سرائی ضلع لیہ پنجاب

چاہتا تو ڈھونڈھ لیتا ہر خوشی تدبیر سے
بر سر پیکار ہوں میں آج بھی تقدیر سے
جب قلم کاغذ اٹھایا دل نے یہ تاکید کی
دیکھ کوئی دل نہ دکھ نہ جاۓ تری تحریر سے
جاوید صدیقی گونڈوی (لکھنؤ) انڈیا

دل سے ترے  خیال کو اس طرح کم کیا گیا
ہجر کی آئیتیں پڑھیں پلکوں  کو نم کیا گیا

آنکھوں سے خواب چھین کر وقت نے جب کیا ستم 
آئینہ روبرو کیا عکس کو ضم کیا گیا
ڈاکٹر مینا نقوی مراداباد بھارت

نور کل مل گیا معجزہ ہو گیا
عشق کل سے میرا رابطہ ہو گیا
وہ یقیں کی تھی صورت یا وجدان کی
جس نے دیکھی جھلک وہ ترا ہو گیا
ڈاکٹر شہناز مزمل لاہور پاکستان

ساکنان دیر فرماتے ھیں فرزانہ مجھے
خرقہ پوشان حرم کہتے ھیں دیوانہ مجھے

کوئی دیوانہ کہے ھے کوئی فرزانہ مجھے
جس میں جتنا ظرف ھے اتنا ہی پہچانا مجھے
صابر جوھری بھدوہوی اتر پردیش بھارت

رنج وغم سب دلوں میں چھپا کر چلو
اک مسرت سی رخ پر سجا کر چلو
آپ خود بھی سنبھل کر چلو اور پھر
گرنے والوں کو بڑھ کے اُٹھا کر چلو
حفیظ مینا نگری

خیال کیسے ہو ظاہر اک استعارے میں
ترا جمال سماتا نہیں ستارے میں
غزل کو بخشا ہے ہم نے دھنک کاپیراہن
کہ خوش نما ہو تصور تمہارے بارے میں
انور کیفی، مراداباد بھارت

ہماری ہر دل عزیز ادارہ عالمی اردو محفل کی پوری ٹیم اور پروگرام کے چیف آرگنائزر محترم میھرخان صاحب کی دن رات کی کاوش کو سراہتے ہوئے پروگرام کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اورادارہ عالمی اردو محفل کے لیے نیک تمناؤں کا اطہار کرتے ہوئے کہا کے ادارہ عالمی اردو محفل نے اردو ادب کی دنیا میں ایک نئی بستی قائم کر دی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *