منتہائے فکر عالمی شعری گروپ کا چوتھا طرحی صوتی آن لائن مشاعرہ 

منتہائے فکر عالمی شعری گروپ کا چوتھا طرحی صوتی آن لائن مشاعرہ 

رپورٹ: محتشم احتشام

منتہائے فکر عالمی شعری وٹس ایپ گروپ کے ماہانہ تین کامیاب مشاعروں کے بعد 18 نومبر2017ء بروز سنیچر شام ساڑھے آٹھ بجے چوتھا آن لائین طرحی صوتی مشاعرہ منعقد کیا گیا ۔اس دوران منتہائے فکر گروپ کی انتظامیہ کی جانب سے مرتب پرگرام میں نظامت کے فرائض بہترین لب و لہجہ کی مالک معروف شاعرہ محترمہ ڈاکٹر حنا عنبرین نے کنیڈا سے انجام دیتے ہوئے منتہائے فکر وٹس اپ گروپ کے بانی و چیف ایڈمن ذوالفقار نقوی کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دورِ حاضر کی تیزرفتار زندگی میں شعراء کی مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ادبی گروپ کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ آج کے اس دور میں کے جب ہر شخص وقت کی قلت سے دوچار ہے یہ نظام ان کے ذوق و شوق کو مزید پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے اور اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو نکھارنے سنوارنے کا بہترین و نایاب موقع ہے۔انہوں نے کراچی سے محترم المقام علی مزمل کو مسند صدارت پر تشریف فرما ہونے کی اپیل کی جبکہ اس بزم میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے بنگلور سے محترم المقام عزیز بلگرامی کو تشریف فرما ہونے کی دعوت دی گئی۔

بعد ازاں عالمی طرحی صوتی آن لائن مشاعرہ کا آغاز باضابطہ تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کے بعد ناظم مشاعرہ نے نعت پاک کے لئے محترم الحاج محمد افضل کو دعوت دی جنہوں نے اپنی بہترین مترنم آواز میں سعودی عرب میں مقیم محترم سجاد بخاری کا بہترین نعتیہ کلام جس کا مطلع کچھ اس طرح تھا 

درِ رسول سے نسبت اگر نہیں ہوتی 
بہشت ہوتی مگر معتبر نہیں ہوتی
پیش کر کے خوب داد وتحسین حاصل کی۔

اس مشاعرہ کے لئے دیئے گئے دو طرحی مصرعوں 

(نمبر 1: کہ تھک گئے ہم حسابِ لیل و نہار کر کے (عرفان ستار 

(نمبر2: دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا (ناصر کاظمی 

میں سے شعراءکرام کو کسی ایک یا دونوں مصرعوں پر طبع آزمائی کا اختیار دیا گیا تھا۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے محترمہ ڈاکٹر حنا عنبرین نے تمام شعراء کو باری باری اپنا کلام پیش کرنے کی دعوت دی اورساتھ ہی سب کوخوب داد و تحسین سے بھی نوازتی رہیں۔ یہ مشاعرہ دیر رات گئے تک جاری رہا اور حاضرین خوب لطف اندوز ہوتے رہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لئے شعراء کرام کے کلام سے نمونے کے طور پر اشعار پیش ہیں۔

سفیر صدیقی
چڑھا رہا ہوں غلاف چہرے پہ خوش دلی کا
تمہاری خوشبو پہ اپنے ارماں نثار کر کے

محتشم احتشام بٹ
مرا نبی تھا دوستو جو اسکے دشنوں پہ بھی
پڑا جو وقت رحمتوں کے کارواں لٹا گیا

وہ بات شاید تمہارے دیدار میں نہ ہوگی
جو لطف پاتا رہا ہوں میں انتظار کر کے

امید اعظمی
ملا تو کچھ خوشی نہیں گیا تو کوئی غم نہیں
جو میرے ہاتھ ہے وہ ہے جو ہاتھ سے گیا گیا

شکیل انجم جلگاؤں
خلوص پیار کا سبق کچھ اس طرح پڑھا گیا
جہاں گیا میں سنگ سنگ آئینہ بنا گیا

مصطفٰی دلکش
سلگ رہے ہیں ہم اِدھر، سلگ رہے ہیں وہ اُدھر
ہمارے درمیاں یہ کون آگ سی لگا گیا

ذوالفقار نقوی
کسی کو یاد تک نہیں وہ اک صدائے بے صدا
 جو کرچیوں میں بانٹ کر، وہ شہر کو سنا گیا

شمشاد شاد
یہ انتہا نہیں تو اور کیا ہے اس کے ظلم کی
غموں سے مظمئن تھا میں،وہ بے سبب ہنسا گیا

ساجد حمید
وہ آئیں گے جب نظر کو اپنی ستار کر کے
ملیں گے ہم بھی سماعتوں کو بہار کر کے

آلوک کمار شریواستو “شاذ” جہانی
خدا کرے خیریت سے ہوں وہ، ہمارا کیا ہے 
گزار لیں گے یہ شب بھی ہم انتظار کر کے

انجم شافعی
 یہ کیسا دور آگیا کہ میکدے میں زیست کے 
بلک بلک کے ساقیا شراب غم پلاگیا

عزیز بلگامی
گماں ہمارا یہی کہ آب حیات ہے یہ
پلا رہے ہیں وہ قند کو زیرِ مار کر کے

علی مزمل
میں اپنے اندر کا شخص پانے کی جستجو میں
بٹھک رہا ہوں قبائے جاں تار تار کرکے

الغرض مہمان خصوصی جناب عزیز بلگامی کے مفصل تاثرات کے بعد صدرمشاعرہ محترم علی مزمل صاحب نے اپنا صدارتی خطاب میں تمام شعرائے کرام کے کلام کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اول تا آخر تمام شعرائے کرام نے دیئے گئے مصرعوں پرعمدہ کلام پیش کیا۔انہوں نے ادارے کی انتظامیہ خصوصی طور پر ذوالفقار نقوی کو ایک اور کامیاب آن لائین مشاعرہ کروانے پر مبارک باد پیش کی۔انہوں نے انتظامیہ سے آئندہ بھی اسی نوعیت کے پروگرام کروانے کی اپیل کی تاکہ اردو کی ترقی وترویج میں معاون ثابت ہوں۔

آخر میں ذوالفقار نقوی تمام شعرائے کرام کا اور محترمہ حنا عنبرین صاحبہ کو اپنے فنکارانہ لب و لہجے سے اس محفل کو رونق بخشنے اور اپنا قیمتی وقت صرف کرنے پر تمام اراکین اور منتظمین کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایوانِ صدارت میں تشریف فرما معززین کے علاوہ محترم المقام عرفان ستار صاحب اور تمام حاضرین محفل کا دلی طور شکریہ ادا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *