گاؤں کے راستے | محمد اسد اللہ

      Comments Off on گاؤں کے راستے | محمد اسد اللہ
beauty of village life

گاؤں کے راستے

تحریر: محمد اسد اللہ
دنیا میں راستوں (خاص طور پہ گاؤں کے راستے) کا حال نہیں ۔ پائے گدا لنگ ہو تب بھی ہاتھ سے کچھ نہیں کیا۔لنگڑے فقیر کو بھیک کچھ زیادہ ہی ملے گی،جس کی بدولت وہ موٹر ،ٹرین بلکہ ہوائی جہاز سے بھی سفر کرسکتا ہے۔راستے گاؤں کے ہوں کہ شہروں کہ ان سے راہ فراز ممکن نہیں ۔یہ پل صراط تک ہماری جان کو لگے ہوئے ہیں۔آدمی قیامت کا انتظار کب تک کریں،اسنے اسی دنیا میں جنت دوزخ بنانے کی اپنی سی کوشش کر ڈالی،اسی طرح پل صراط یعنی شہر کے راستے بنا لیے۔
شہر میں شاہراہوں سے سلامت گزرنا بھی ایک مسئلہ ہیں ۔حکومت اس کیلئے راستے بچھاتی ہے،قوانین بناتی ہے ،انہیں چلاتی ہے۔اس کی آڑ میں اور بھی بہت کچھ چلتاہے،اسی کے بل پر وہ خود بھی چلتی ہے۔اکثر دیہاتوں میں ریل نہیں جاتی،اسی لیے یہ قوانین شہر ہی میں رہ جاتے ہیں۔

راستوں مپں باغیچے

گاؤں کے راستے راستہ کم اور باغیچہ زیادہ ہوا کرتے ہیں ۔حسنِ بے پرواہ کو اپنی بے نقابی کیلئے یہی جگہ پسند آئی۔اسی لیے ان راستوں پر پایا جانے والا جاندار فطرتسے دو چار ہاتھ زیادہ بے پرواہ ہوتا ہے۔شہروں میں مختلف لہریں چلتی ہیں اور گاؤں کے راستوں پر لوگ لہرا کے چلتے ہیں ۔دیہی راستوں کی وضعداری اور رفتارکاپاس دو پایوں سے زیادہ چوپایوں کو ہوا کرتا ہے۔آپ اپنی بائیک پر سواران کے پاس گزرنا چاہے تو ایک بھینس ان کی نمائندہ بن کر شانِ بے نیازی کے ساتھ گیر پیمانےپر پھیل کرکھڑی ہو جائیں گی اور آپ اس بھینس کے آگے ہارن بجا تے رہ جائیں گے۔
بارہا یہ ہوا کہ آپ جلدی میں کسی راستے سے گزرنا چاہتے تھے اور ایک بیل گاڑی کسی نہ کسی موڑ پرخرامِ ناز سے آپ کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔گاڑی کو دیکھ کر محسوس ہوتا
کہ یقیناًہڑ پایا موہن جداڑو کی کھدائی میں برآمد ہوئی ہے،گاڑی بان کو دیکھا تو نظر پتھروں کے زمانے سے ہوتی ہوئی گھوم کر ڈارون کی تھیوری پراٹک گئی۔
کبھی آپ نے گاڑی کی شوخی رفتار کو دیکھ کرموصوف سے پوچھ لیا کہ’یہ گاڑی چل رہی ہے کہ رکی ہوئی ہے؟تو وہ زور دار آوازمیں ’’ہئیّو‘‘کہہ کر اور بیل کو آپ کا قائم
مقام سمجھا کر،اسی کی پیٹ پر ایک چابک رسید کرتا ہے جو سیدھا تو اسی کی پیٹ پر پڑتا ہے مگر الٹا آپ کو اپنی پیٹ پر پڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ہمیں اس گاڑی کی رہنمائیمیں چلتے ہوئے اکثر یہ محسوس ہوا کہ نہ صرف ہم بلکہ پوری دنیابیلوں کے پیچھے چلنے پر مجبور ہیں ۔ آپ گاڑی کو پھلانگ کر آگے بڑھے کی کوشش کرتے ہیں توگاڑی بان جواس عجوبہ روزگار میں جتے ہوئے جانداروں میں بزرگ ترین شخصیت ہونے کے سبب بلند مقام پر بر اجمان ہوتا ہے۔پوری قوت سے بیل کی دم مروڑ کر ،ہر بار آپ کی اُمید پر پانی پھیر دیتا ہے کہ دیاکو کبھی تو بیلوں کے اتباع سے نجات ملی گی۔

گاؤں کے راستےاورسواری

گاؤں کے راستے پر سواری کا حشر برپا نہیں ہوتا اور ہو بھی تو رقص کرتے ہوئے راہ گیروں کی موجودگی میں اسپیڈ بریکر کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی یا ہم گاؤں کے وفا
اشعار کتے جنھیں اول توآپ کا آنا ہی ایک آنکھ نہیں بھاتا،داخلے کے وقت بھونک بھونک کرناکہ بندی کی امکان بھرپور کوشش کرلیتے ہیں۔اس کے باوجود آپ بے شرمی اوڑھ کر بستی میں داخل ہو گئے تو ان کے برادرانِ حقیقی چپّہ چپّہ پر راستوں کے درمیان اپنی ٹیڑھی دُموں کو حتٰی الوسع اسپیڈ بریکر کی شکل میں پھیلا کر دنیا و مافیا سے بے خبر
گاؤں کے راستےسوتے رہتے ہیں۔
اب ان بستیوں میں یہ منظر عام ہے کہ راستے کے عین درمیان ایک کتا کسی زوال آمادہ قوم کی طرح بے خبر سو رہا تھا،البتہ اس کی گراں خوابی کی تہہ میں چند دفاعی پرزے
سرحد پر تعینات فوجوں کی طرح الرٹ رہتے ہیں ۔آپ نے اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھے بیٹھے جی کڑاکر کے ایکسلیٹر دبایااور اپنے اندر چنگیزخانی جزبات پیدا کرنے کی کوشش
کرتے ہوئے اس سد راہ دم کو ادھیڑ کر رکھ دینے کا ارادہ کیا تب بھی اس اولوالعزم کتے کی منحنی سی دُم آ خردم تک میدان کار زارمیں جوان مردی کے ساتھ ڈٹی رہے گی۔
چنانچہ حملہ اس کی دُم پر ہو گا اور بجائے اس کے کہ وہ نیند سے چونک کر جائزہ لے،اچانک اٹھ کر بے دھڑک آپ پر حملہ کر دے گا یا شریف زادہ ہو تو احتجاج کاجمہوری طریقہ اپنائے گا۔

گاؤں کی ترقی اور اس کے نقصانات

گاؤں کی ترقی راستوں سے شروع ہوتی ہیں اور اکثر حادثات کی شکل میں رونما ہوتی ہے۔ان کی روک تھام کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔اس مقصد کیلئے بلدیہ جا بجا اسپیڈ بریکر بناتی ہے اور ایامِ رفتہ خندقیں ،ٹیلے اور پہاڑ اگاتے ہیں ۔ اس کے باوجود حادثات کو کون روک سکتا ہیں ۔ان حادثات میں اکثر پیا دے تو بال بال بچ جاتے ہیں۔
مات ان سواری نشین شاہوں کی ہوتی ہیں جو خواہ کتنے ہی بے قصور کیوں نہ ہو؟شہ سواری کے جرم میں پکڑ کر پیٹے جاتے ہیں ۔اکثر لوگ انہیں اس قابل ہیں رہنے دیتے کہ پیدل یا سواری پر بیٹھ کر گھر جا سکیں ان کیلئے ایمبولینس منگوانی پڑتی ہے۔
اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ بعض پاپیادہ جو عقل سے بھی پیدل ہوتے ہیں ،سواریوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔خود کو راستے کا پورا حق دار اور سواریوں کو طفیلی خیال کر کے ان کا مقابلہ کرتے ہیں ۔(یہی کام اسی نیک جزبہ کے تحت ،بائیک،کار یا سائیکل نشین بھی پورے خلوص سے انجام دیتے ہیں)
لوگ شانِ بے نیازی سے راستہ کے درمیان چلتے ہیں ۔ہٹو بچو،’شیچ شیچ‘اور پیں پاں جیسی ہارن کی حقیر آوازیں ان کی توجہ منعطف کروانے میں ناکام رہتی ہیں ۔
سواریاں آخر سواریاں ہیں۔اب میدان میں صرف شہ سوار ہی نہیں گرتے،پیدل بھی منہ کی کھاتے ہیں پھر صفحہ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹ نہ گئے تو خفّت مٹانے کیلئے موٹر سواریوں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔اس قسم کے حادثات میں راہ چلتے لوگوں کی بن آ تی ہے۔اپنے وجود کی گہرائیوں تک باغ باغ ہو جاتے ہیں اور موقع مل جائے تو بہتی گنگا میں ہاتھ بھی دھو لیتے ہیں ۔ وہ تماشابین جن کا تعلق سواریوں کے طبقہ سے ہے اس منظر کو دیکھ کر چرغ پا ہو جاتے ہیں اور کسی دن اسی انتقام کی دھن میں راستہ چلتے کسی آدمی کو کچل دیتے ہیں ۔اپنے کئے کی سزا بھی پاتے ہیں اور خوش بھی ہوتے ہیں یہ سوچ کر کہ مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔

گاؤں کے راستے اور ان کی خوبصورتی

گاؤں کے راستے عام طور پر سیدھے سادے اور لا ابالی ہوا کرتے ہیں ۔یہ خودرواور اپنائیت و محبت سے لبریز ہوتے ہیں۔پتہ نہیں یہ صفات گاؤں والوں نے ان راستوں پر چل کر اخذ کی ہے یا ان کے تلووں سے تھر راستوں میں در آئیں ۔آپ ان پر قدم رکھئے تو گردو غبار کی بیکل باہیں آپ کو لپٹا لیں گی۔بارش میں یہی راستے کیچڑ اچھال اچھال کراپنائیت کا مظاہرہ کریں گے۔ہمارے پیروں کی گیلی مٹی کے آبنوسی ہونٹوں سے چوم کرقدموں کے نشانات حسین یادوں کی طرح اپنے سینے میں اتار لیں گے۔اس کے بر عکس تارکول کی سڑکوں پر میلوں چل کر اتر جائیے یوں محسوس ہو گا گویا بھیڑ بھرے راستے میں کوئی مصافحہ کر کے بھول گیا۔
تارکول کی سڑکیں اب شہروں سے نکل کر گاؤں کا رخ کرنے لگی ہیں۔گاؤں کے کچے راستوں کا مستقبل خطرے میں ہیں ۔گاؤں کے کتے شاید اسی احساس کے تحت ہر نوارد کو دیکھ کر بھونکتے ہیں ۔گاؤں کے راستے ان خودرو پودوں کی طرح ہیں جنھیں وہاں ’بے شرم پودے‘کہا جاتا ہے۔آپ چلنے کو تیا ر ہوں تو یہ راستے کہیں سے بھی آدا