حلقہء فکروفن گہوارہء علم و ادب ہے، ادبی سرگرمیوں سے سماجی شعور بیدار ہوتا ہے : شیخ سعید احمد

ksa-report

(ریاض، سعودی عرب) “سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ادیب اور شاعر ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، ان قلمکاروں کی بدولت شعر و ادب کو سعودی عرب میں ترویج و ترقی حاصل ہوئی اور اس ضمن میں حلقہء فکروفن کا عملی کردار قابل تحسین ہے”، ان خیالات کا اظہار ادب دوست ادب نواز معروف سماجی و کاروباری شخصیت شیخ سعید احمد نے بطور مہمان خصوصی حلقہء فکروفن کے زیراہتمام سعودی دارالحکومت ریاض کے پاک ہاوس میں منعقد ہونیوالی ایک پروقار تقریب میں کیا جس کی صدارت مشیر اعلی’ حلقہء فکروفن ڈاکٹر محمود احمد باجوہ نے کی جبکہ تقریب کے مہمانان اعزازی حافظ عبدالوحید اور معروف نعت خواں محمد اصغر چشتی تھے، تقریب کی نظامت کے فرائض حلقہء فکروفن کے مرکزی جنرل سیکرٹری وقار نسیم وامق نے بخوبی سرانجام دئیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ سعید احمد کا مزید کہنا تھا کہ شاعر اور ادیب معاشرے کے نقیب ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ادب کے شعبے میں ہونیوالی پیش رفت زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور ادبی سرگرمیوں سے سماجی شعور بیدار ہوتا ہے، حلقہء فکروفن گہوارہء علم و ادب ہے، حلقہء فکروفن کی ادبی سرگرمیاں جاری رہنی چاہئیں تاکہ دیپ سے دیپ جلتا رہے اور فکروفن کو جلا ملتی رہے۔

مہمان اعزازی معروف دانشور حافظ عبدالوحید نے حلقہء فکروفن کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حلقہء فکروفن اپنے آغاز سے لے کر آج تک اپنے معیار کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اکابرین شعر و ادب کے حوالے سے تقریبات منعقد کرنا اور سعودی عرب میں نئے شاعروں اور ادیبوں کو متعارف کروانا حلقہء فکروفن کا طرہ امتیاز ہے، مہمان اعزازی محمد اصغر چشتی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حلقہء فکروفن ایک سخن خیز ادارہ ہے جو نئے ادبی افق دریافت کرتا ہے اور انہیں منظم رکھتا ہے، تنظیمی اعتبار سے بھی حلقہء فکروفن کی بنیادوں میں کئی عظیم قلمکاروں کا خون جگر شامل ہے اور اس تنظیم کو کہنہ مشق اور تازہ دم شعراء و ادباء نہایت موئثر انداز سے آگے بڑھا رہے ہیں۔

حلقہء فکروفن کے کنوینئر چوہدری سجاد علی جٹ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حلقہء فکروفن ادبی روایات کا امین ہے، شعر و ادب کا فروغ ہمارا بنیادی مقصد ہے، ہم شعراء و ادباء کی قدر اور حوصلہ افزائی کے ساتھ انہیں مختلف تقریبات، شعری و ادبی نشستوں، مشاعروں اور دیگر موئثر ذرائع سے ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جس سے ان کے فکروفن کی ترویج ممکن ہو سکے اور تشنگان شعر و ادب فیضیاب ہوسکیں۔

ناظم الامور حلقہء فکروفن ڈاکٹر طارق عزیز نے اپنی گفتگو میں اس بات کا اعادہ کیا کہ حلقہء فکروفن اپنی عظیم الشان روایت کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ بھی شعری، علمی و ادبی تقریبات کا سلسلہ جاری رکھے گا، انہوں نے اس ضمن میں حلقہء فکروفن کی آئندہ تقریبات کی تفصیل سے بھی حاضرین کو آگاہ کیا۔

حلقہء فکروفن کے سنیئر رکن سرور خان انقلابی کا کہنا تھا کہ حلقہء فکروفن کے تحت منعقد ہونیوالی تقریبات ایک تربیت گاہ کا درجہ رکھتی ہیں جہاں سنیئر شعراء و ادباء کی سرپرستی میں نوآموز لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

ڈاکٹر محمود احمد باجوہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ شاعر اور ادیب معاشرے کے نباض ہوتے ہیں اور ان کے فکروفن کی بدولت ایک بہتر معاشرہ تشکیل پاتا ہے، علم و ادب سے وابستہ افراد قوم کا سرمایہ اور باعث افتخار ہوتے ہیں، انہوں نے مطالعہ کی اہمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کتب بینی کو فروغ دینا ہوگا اور کتاب دوستی اپنانا ہوگی، مطالعہ جس قدر وسیع ہوگا تخلیق اس قدر ہی مضبوط ہوگی۔

سیکرٹری جنرل حلقہء فکروفن وقار نسیم وامق نے اراکین و محبان حلقہء فکروفن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حلقہء فکروفن ایک ادبی تحریک ھے اور اس کا ہر ایک رکن اس تحریک میں بخوبی پیش پیش ہے، انہوں نے اس موقع پر آفتاب علی ترابی، ڈاکٹر حناء امبرین طارق، مخدوم امین تاجر، محمد شعیب شہزاد اور عابد شمعون چاند کی فکروفن کے لئے کی جانیوالی خدمات کو بھی سراہا۔

تقریب کے شرکاء میں سیٹھ عابد چوہدری، حاجی محمد اسلم عاشق، چوہدری محمد نوید گورائیہ اور دیگران نے بھی اظہار خیال کیا اور حلقہء فکروفن کے اقدامات کو سراہا۔

تقریب میں محمد اصغر چشتی نے صوفیانہ کلام پیش کرکے سماں باندھ دیا، ڈاکٹر محمود احمد باجوہ نے بدست شیخ سعید احمد ایک انمول زیتونی تسبیح چوہدری سجاد علی جٹ کو بطور ہدیہ عنایت کی، تقریب کا اختتام دعائے خیر پر ہوا جس میں ڈاکٹر سعید وینس کی والدہ اور ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری کی صحتیابی کے لئے خصوصی دعاء کی گئی، جس کے بعد مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ دیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *