آہ و یاد | اردو افسانہ

اردو افسانہ آہ و یاد

آہ ویاد

افسانہ آہ ویاد ایک ایسی تحریرجو پڑھنے والے کے دل میں اسکی پرانی محبت کو پھر سے تازکر دے گی  ایک نئے انداز میں

’’کبھی تو ہوش کے ناخن لے لیا کرو،عقل کی بات کر لیا کرو،جذبے اور احساسات ٹھیک سہی مگر میاں کوئی زمینی حقائق بھی ہوتے ہیں،سنا ہے نہ یہ لفظ!آجکل بہت استعمال ہونے لگا ہے‘‘’’میاں جس تن لاگے وہ تن جانے،تمھیں کیا خبرکبھی کسی سے پیار ہو تو پتہ چلے،زندگی ختم ہو کر رہ جاتی ہے‘‘پھر تو عاشق لوگ اور بھی پاگل ہیں،زندگی ختم کرنے کے لیے عشق کرتے ہیں،یہ کیا منطق ہوئی؟زندگی جینے کیلئے ہوتی ہے میاں‘‘’’تمھیں کیا پتہ اس موت میں کتنی زندگی ہوتی ہے،کتنی لذت ہوتی ہے اس میں؟یہ زندگی ایک پل کی سہی پر صدیاں سمٹ آتی ہیں اس میں ،ہر منظر میں زندگی دھڑکنے لگتی ہے،ماحول ہی بدل کر رہ جاتا ہے،اس کی حلاوت محسوس کی جائے تو جانو‘‘۔’’

افسانہ آہ ویاد میں ایک نیا موڑ

پھر روتے دھوتے کیوں ہو،زندگی سے اتنا لطف اٹھا لیا ہے،کچھ کسی اور کیلئے بھی رہنے دو،ایسا ہی ہوتا ہے نہ،سب کچھ سمیٹ لینا ایک لالچ ہے لالچ!اور لالچ بہت بڑا پاپ ہے‘‘شاید تم سچ کہتے ہواور اس لیے بھی کہ تم نے شاید سچ سنا ہے،کبھی جھوٹ نہیں سنا،کبھی کبھی جھوٹ سچ سے زیادہ سچا ہوتا ہے،کتنا دلکش ہوتا ہے،لاکھ اعتبار نہ ہو ،اعتبار کرنے کو جی چاہتا ہے،خیالی بت تراشنے میں وہ لذت حاصل ہوتی ہے کہ کیا کسی سنگ تراش کو ہوتی ہو گی ‘‘۔’’کہا نابت تراش لیے ،لطف اٹھا لیا،صدیوں جی لیے،خود ہی جیتے رہو گے یا کسی اور کو بھی جینے دو گے،ویسے یار !وہ تھی کون ؟وہ جس نے تمھیں زندگی سے آشنا کر کے نا آشنا کر دیا۔
’’کوئی بھی ہو اب بات بے معنی ہے،میرے لیے بھی اور تمھارے لیے بھی!تھی ویسے بڑی دلکش چیز !قسمیں کھانے پہ آتی تو کوئی قسم نہ چھوڑتی تھی ،رونے پہ آتی تو روتی ہی چلی جاتی،جب مسکراتی تو ماحول مسکرانے لگتا،مجھے یوں لگتا ہے کہ شاید زندگی انہی کی مسکراہٹوں میں ہے،انہی قہقہوں میں ،مسکراتے مسکراتے رو پڑتی ،کچھ اس طرح ٹوٹ کے روتی کہ لگتا زندگی درہم برہم ہو جائے گی ،ماحول آنسوؤں میں ڈوب جائے گا ،کتنے وعدے کیے تھے اس نے !کتنی قسمیں کھائی تھیں!یار سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے،باتیں کرتی تو کرتی ہی چلی جاتی ،کہانیاں تراشنے میں وہ بے مثال تھی ،اگر کوئی غلطی سرزد ہو جاتی تو بڑی خوبصورتی سے اس کا دفع کرتی،مجھے یوں لگتا ہے کہ غلطی اس نے نہیں کی تھی میں نے کی تھی ،بڑی چیز تھی وہ!قسمیں کھاتی تو گمان یقین میں بدل جاتا ،اس کے وعدے اتنے سچے لگتے تھے کہ یقین کیے ہی بنتی تھی ،ایسے میں اگر انسان عقل و دانش سے ہاتھ دھو بیٹھے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے،وہ محبت کو مذہب کی روح،انسانیت کا کمال اور فرد کی واحد خوشی گردانتی تھی ‘‘۔

افسانہ آہ ویاد میں وہ انسان جو اسکے خیال میں تھا قریب آیا تو کیا ہوا آگے پڑھیں

’’سنو قریب آؤ،اور قریب آؤ ،دوست یہ قسمیں یہ وعدے بالکل سچے ہوتے ہیں،تم کہتے ہونہ محبت میں کوئی جھوٹ نہیں بولتا ،مجھے تمھاری باتیں سچ لگنے لگی ہیں ،خدا نہ کرے تم جیسا کوئی تجربہ مجھے ہو لیکن تمھارا تجربہ بھی تو میرا اپنا تجربہ ہے نا،یار جو ہوئے یار!تمھیں نے تو کہا تھا نا کہ چچا شیکسپیئر نے اپنے ایک ڈرامے میں ایک کردار سے کہلوایا تھا کہ اردے ہمارے اپنے ہوتے ہیں لیکن ان کا پورا ہونا ہمارے بس میں نہیں ہوتا ،ہم جس وقت جو کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں ،وہ اسی وقت کہہ رہے ہوتے ہیں اور سب کچھ ہماری طاقت سے باہر ہوجاتا ہے،ہم لاکھ قسمیں کھائیں ،بڑے بڑے ارادے کریں ،بس!ہم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں یہ تم فلسفی کب سے بن گئے ۔

آہ ویاد

افسانہآہ ویاد میں اسکی صحبت کسی تھی آگے پڑھیں

جب سے تمھاری صحبت حاصل ہوئی ،جانتے ہوں نہ صحبت کا کتنا اثر ہے‘‘’’ہاں یار ،ہم بھی تو اسی صحبت کے گزیدہ ہیں‘‘’’ہاں کہو نا!وہی تو پوچھ رہا ہوں،کس کی صحبت ؟کون سی صحبت؟‘‘’’کہاں کی صحبت یار !یار برا ہوا ان کتابوں کا ،عذاب ٹوٹے ان شاعروں اور ادیبوں پر ،بجلی گرے ان فلم سازوں پر ،جہنم رسیدہ ہو یہ دلکش موسم ،ہوشربا فضائیں اور ہوا ئیں،جن کی صحبت نے دماغ میں خلل پیدا کر دیا تھا اور چچا غالب نے کہا تھا۔
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا‘‘
’’ہاں تو پھر کیا ہوا؟کچھ کتابیں تو ہم نے پڑھ رکھی ہیں ،شعر ہمیں بھی اچھے لگتے ہیں ،ایک آدھ فلم ہم بھی دیکھ لیتے ہیں،تو تم پے کیا افتاد آپڑی تھی کہ تجربے کرنے نکل گئے،میاں بہت سی چیزیں تو صرف دل بہلانے کیلئے ہوتی ہیں ،دل لگی کیلئے تیار ہوتی ہیں،دل کو گھائل کرنے کیلئے نہیں‘‘’’یار جان بوجھ کر گڑھے میں کون گرتا ہے لیکن اگر آنکھیں ہی بند ہو جائیں یا کوئی کر ڈالے!‘‘’’تو ایسا نہیں ہونا چاہیے نا‘‘’’ارے یار!کہنا کچھ اور ہوتا ہے اور ہونا کچھ اور ہوتا ہے،ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ جب ہم قسمیں کھاتے ہیں تو سچے ہوتے ہیں ،اس لیے تو وہ سچی لگتی تھی،اپنے آپ سے بھی زیادہ سچی!سب سے زیادہ سچی!ویسے بھی اس کے حسن نے ،اس کی محبت نے اور خلوص نے مجھے ایسا سوچنے پر مجبور کر دیا تھا‘‘۔

افسانہ آہ و یاد کیا وہ مجبور ہوا یا نہیں آگے پڑھیں

یار یونہی مجبور نہیں ہو جایا کرتے،ایسی حسینائیں تو ہمیں بہت ملی ہیں،ہم دو گھڑی ہنس دیئے ،مسکرا دیئے اور خدا حافظ کہا‘‘شاید تم سچ کہتے ہو لیکن اس کا کیا کیجئے کہ اگر کوئی خوشبو سانس کا حصہ بن جائے ،اگر کوئی رنگ آنکھ کے آنگن میں اتر آئے،کسی سورج کی کرنیں مساموں میں پیوست ہو جائیں ،کوئی چاندنی ہر طرف نور بکھیردے،کوئی سُر سماعتوں کو زندگی عطا کردے ،کوئی لمس بجلی بھر دے،کوئی وعدہ یقین بن جائے ،کوئی آہ پگھلا کر رکھ دے،بس یار چھوڑو اور کہو کیا حال ہیں تمھارے‘‘’’میں تو ٹھیک ہوں لیکن اتنا بھی ٹھیک نہیں تمھیں بیمار دیکھ کر‘‘’’یار اپنی بیماری کا کیا ہے،یہ دائمی روگ ہے اور یہی زندگی بن گئی ہے،ہاں تو تمھارا آج کیا پروگرام ہے‘‘’’نہیں کچھ بھی تو نہیں ،تم سے باتیں کرنا اور بس باتیں کرنا‘‘’’اتنے فارغ تم کب سے ہو گئے ہو‘‘’’جب سے تمھیں عشق ہوا ہے‘‘’’یہ بھی خوب رہی،میرے عشق سے تمہارا کیا تعلق !‘‘’’تعلق ہے نا!میں بھی تو تم ہی ہو‘‘’’ہاں یار ٹھیک ہے تم کہاں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم تم۔۔۔۔۔۔۔۔میں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔میں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم تم ۔۔۔۔۔۔۔یا خدایا!یہاں کوئی تھا یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔یا میں خود اپنے آپ سے بول رہا تھا،بہت اونچی آواز میں بول رہا تھا،کسی نے سن نہ لیا ہو ۔کہتے ہیں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔چلو سن لینے دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس کی بات تو ہو گئی۔

اردوافسانہ آہ و یاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *