عدیل برکی کے ساتھ ایک شام کا شارجہ میں شاندار انعقاد




عدیل برکی کے ساتھ ایک شام کا شارجہ میں شاندار انعقاد

رپورٹ :۔ امبرین سعید شارجہ
تصاویر :۔ مسرت عباس


اردو شاعری سننے والوں کو ہمیشہ اپنے سحر میں جکٹر لیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ شاعر خوبصورت کلام کے ساتھ خوبصورت آواز کی دولت سے مالا مال ہو تو محفل میں چار چاند لگ جاتے ہیں ایسا ہی کچھ پاکستان سوشل سنٹر شارجہ میں ادبی کمیٹی کی طرف سے صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار ، شاعر ، کمپوزر اور اینکر پرسن عدیل برکی کے ساتھ منائی گئی ایک شام میں ہوا جس میں عدیل برکی نے نا صرف اپنی شاعری سے حاضرین محفل کو محظوظ کیا اس سے کہیں زیادہ اس کی مترنم آواز نے حاضرین محفل پر سحر طاری کئے رکھا اور ہال میں موجود خواتین و حضرات عش عش کر اٹھے عدیل برکی نے اپنی کتاب سے خوبصورت غزلیں اور ماہئیے پیش کئے اور اس کے بعد معروف فلمی و غیر فلمی گانے بھی پیش کئے ۔ادبی کمیٹی کے روح رواں اور اردو کے معروف شاعر سلیمان جاذب نے اس شام انعقاد کیا جس میں کمیٹی کے اراکین انجینئر محمد احسن ، فرح شاہد ، معید مرزا ، آصف پیرزادہ اور رانا عامر لیاقت نے بھی ان کی معاونت کی ۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز محمد علی قادری نے تلاوت کلام ربانی سے کیا اور اس کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ بھی پیش کی ۔ نظامت کے فرائض محترم سلیمان جاذب نے بخوبی سر انجام دئے جبکہ اس محفل کی صدارت معروف شاعراختر ملک نے کی جناب چوہدری افتخار جنرل سیکرٹری پاکستان سوشل سنٹر شارجہ اور معروف سماجی و سیاسی شخصیت میاں منیر ہانس مہمان اعزاز تھے ۔اس موقع پر پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کی طرف سے صدر پاکستان سوشل سنٹر شارجہ چوہدری خالد حسین ، جنرل سیکرٹری چوہدری افتخار ، سربراہ ادبی کمیٹی سلیمان جاذب ، انجینئر محمد احسن اور میاں منیر ہانس نے مہمان خاص جناب عدیل برکی اور صدرِ محفل اختر ملک کو اعزازی شلیڈز بھی پیش کیں ۔ معروف کمپیئر شرافت علی شاہ نے عدیل برکی کے فن و شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی اور جناب چوہدری افتخار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا تقریب میں متحدہ عرب امارات کی تمام ریاستوں سے شعرائے کرام نے شرکت کی محفل مشاعرہ میں اختر ملک ، عدیل برکی ، سلیمان جاذب ، معید مرزا ، مسرت عباس ، عبید الرحمان نیازی ،سید شان حیدر ، حنا عباس ، سمعیہ ناز ملک ،منور احمد، ماریہ افتاب ، حسین شاہ زاد، مسکان سید ریاض ، میگی اسنانی ، آصف پیرزادہ ، ضمیر افسر ، عائشہ شیخ عاشی ، رانا عامر لیاقت، ابرارعمراور احمد رضا نے کلام سنایا 
مشاعرہ میں پیش کئے گئے چند اشعار
اختر ملک
سب سے مشکل ہے اذیت یہ گوارا کرنا
دل سے اترے ہوئے لوگوں میں گزارہ کرنا
عدیل برکی
وہ آنکھوں کا سہارا چاہتا ہے
سمندر میں کنارا چاہتا ہے
سلیمان جاذب
نظروں سے کسی کو بھی گراتے نہیں جاناں
ہر بات رقیبوں کو بتاتے نہیں جاناں

مسرت عباس
دیکھ رہے ہیں جانے کب سے دنیا کی عریانی لوگ
ان کی آنکھیں پھوڑ نہ دوں میں یار مسرت کیا کہتے ہو
معید مرزا
اگر میں دریا کے پاس ہوتے ہوئے بھی پیسا ہی لوٹ آو ¿ں
تو یہ سمجھنا کہ میرے ہونٹوں سے قرض ادا ہوئے جا رہے ہیں
احمد رضا
بنا پڑا ہوں کسی کے مزار کی چادر
یہ آرزو تھی کوئی پیرہن بنائے گا
رانا عامر لیاقت
ہم نے تاخیر سے سیکھے ہیں محبت کے اصول
ہم پہ لازم ہے ترا عشق دوبارہ کر لیں
عائشہ شیخ عاشی
اس بار محبت تو مجھے خود سے ہوئی ہے
ایسے میں مجھے خود سے جدا کون کرئے گا
عبید الرحمان نیازی
صاف پانی بھی نہیں مفت میں ملتا اب تو
کیسے ممکن کے کہ تو مفت میں مل جائے مجھے
میگی اسنانی
میرا چہرہ اداس رہتا ہے
آئنے کو دکھا کے کیا کرتی
ابرارعمر
پوچھا تھا اس نے میرے بن رہتے ہو کس طرح
تو رکھ دی میں نے پانی سے مچھلی نکال کے
حنا عباس
بھولنا جب بھی تم کو چاہا ہے
تو میرے پاس لوٹ آیا ہے
حسین شاہ زاد
تو مری سوچ کے الجھاو ¿ میں گر اترے گی
سرگرانی کی مصیبت ترے سر اترے گی
سمعیہ ناز ملک
ایسا خیال ِ دوست سے دل آشنا ہوا
لگنے لگے ہیں خود کو بھی اب اجنبی سے ہم
منور احمد
ہر تعلق مفادات سے مربوط ہے اور کچھ بھی نہیں
یہ ررشتہ و پیوند یہ رسم وفا کچھ بھی نہیں
ماریہ افتاب
وہ میرے خواب کی آگ تھی جو جل رہی تھی
جس کی روشنی سے منزل خود بخود نظر آنے لگی تھی
آصف پیرزادہ
اپنے خیال خام سے نکل ہی نہ سکا
وہ ماضی کے ایام سے نکل ہی نہ سکا
مسکان سید ریاض
طے کی ہیں میں نے راہیں بلند آسمان کی
ناپو نہ تم اڑان کو میری ہوا کے ساتھ
سید شان حیدر
مجھے سننے کی خواہش تھی اسے تھا بولنے کا ڈر
جو مجھ پہ آزمائش تھی اسے وہ تولنے کا ڈر
ضمیر افسر
کون مانے کہ اس کے بھی ارمان ہیں
اشک آنکھوں سے جس کے بہے ہی نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *