سید الشہداء حضرت امام حسینؑ اور شہیدانِ کربلا کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کے لئے انجمن اربابِ فکروفن کویت کے زیرِ اہتمام محفلِ مسالمہ کا انعقاد




سید الشہداء حضرت امام حسینؑ اور شہیدانِ کربلا کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کے لئے انجمن اربابِ فکروفن کویت کے زیرِ اہتمام محفلِ مسالمہ کا انعقاد

ہر زمانے میں دنیا کے ہر زبان و ادب نے کربلا سے فکری رہنمائی اور روشنی حاصل کی ہے۔معرکہء کربلا و ذکرِ شہیدانِ کربلا و اِمام حسینؑ محبان محمدؐ و آلِ محمدؐ کے ایمان کو تازگی، اطمینانِ قلب، فکر و شعور کو بالیدگی اور جذبوں کو عظمت و بزرگی عطا کرتا ہے۔محسنِ انسانیت، امامِ مظلوم، سید الشہداء حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی نے نہ صرف دینِ اسلام کو دوام بخشا بلکہ قیامت تک تمام بنی نوع انسان کے لئے حق و باطل کے درمیان فرق کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ موجودہ دور میں اگر اسلام اپنی پوری آب و تاب، نظامِ فکر، فلسفہء قرآن و سنت، اور عدل کی بنیاد پر نظر آتا ہے تو یہ شہیدانِ کربلا و امام حسینؑ کی قربانیوں کا مرہونِ منت ہے۔کیونکہ امامِ حسینؑ نے اپنی جان، مال، اور اصحاب کے ساتھ میدانِ کربلا میں خدا کی خوشنودی و رضا کے لئے سب کچھ قربان کر کے اس فسلفے کی نفی کر دی کہ طاقت ہی حق ہے بلکہ یہ ثابت کر کے دکھایا

کہ حق ہی طاقت ہے اور اسی فلسفہ کا نام حسینیت ہے۔ چودہ سو برس گزرنے کے باوجود آج بھی حق و صداقت کے علمبردار اور نواسہء رسولؐ حضرت امام حسینؑ کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے دنیا بھر میں ہر سال ماہِ محرم میں مختلف مجالس، اجتماعات، اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، اسی سلسلے میں انجمن اربابِ فکروفن کویت کے زیرِ انصرام بھی چیئرمین انجمن جناب خالد سجاد احمد کی رہائش گاہ پر محفلِ مسالمہ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں کویت میں مقیم شعرا کرام نے شرکت کی اور شہیدانِ کربلا کے حضور سلامِ عقیدت پیش کیا۔ محفلِ مسالمہ کی نقابت کویت کی نامور مذہبی و روحانی شخصیت جناب حکیم طارق محمود صدیقی نے فرمائی اور صدارت پاکستان سے تشریف لانے والی معروف شاعرہ محترمہ شاہین رضوی نے فرمائی۔محفلِ مسالمہ میں شعرا کرام کے علاوہ دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
نمونہ کلام
حبّ ِ علیؑ سے ناپ کے دیکھی ہے کائنات
یہ بھی ہے اور وہ بھی ہے عالم حسینؑ کا
خالدؔ وہیں پہ سارا زمانہ ملا مجھے
وہ جس جگہ پہ بٹتا ہے صدقہ حسینؑ کا
خالد سجاد احمد
……………………………
حسینیت ہے مرا عقیدہ یہی بہت ہے
یہی ہے محشر میں اِک حوالہ یہی بہت ہے
بدر سیماب
………………………..
کیسے وہ مان لیتے خلافت یزید کی
وہ جانتے تھے کیا ہے خلافت کا مرتبہ
نفرت سے نام لیتی ہے دنیا یزید کا
اور بڑھ رہا ہے روز امامت کا مرتبہ
عماد بخاری
…………………………
جب ظلم سر اٹھاتا ہے اکثر جہان میں
آقا حسینؑ ملتے ہیں رہبر کے روپ میں
پھر لشکرِ یزید پہ اِک خوف چھا گیا
زینبؑ جو بولی فاتحِ خیبر کے روپ میں
تاثیر مرے خوں میں صداقتؔ وفا کی ہے
مقتل کو جا رہا ہوں بہّتر(۲۷) کے روپ میں
سید صداقت علی
………………………..
مجھے روزگار کا غم نہیں، مجھے بچھڑے یار کا غم نہیں
میں ہوں سخت جان بہت مگر مجھے کربلا نے رُلا دیا
سیاہ رات اتر آئی جب رزالت پر
تو آگے بڑھ کے حسینی چراغ بول پڑا
نسیم زاہد
………………………………..
کسی جنگی قبیلے کا نہ ہی لاکھوں کے لشکر کا
نبیؐ کی آلِ اطہر کا، یہ قصہ ہے بہتر(72) کا
اے خاکِ کربلا، جاؤں تری تطہیر کے صدقے
کہ شامل ہو گیا تجھ میں لہو اہلِ معطر کا
ذوالفقار ارشد ذکی
………………………………..
کرے بیان، یہ گفتار، کس زباں میں ہے
عجب سا درد محرم کی داستاں میں ہے
سوالِ آب، نہ ہی اور التجا کوئی
مرا حسینؑ تو کربل کے امتحاں میں ہے
خضر حیات خضر
……………………………….
دینِ نبیؐ کی اس لئے بھی جان ہیں حسینؑ
صحرائے کربلا کے جو سلطان ہیں حسینؑ
اُن کو مٹانے والے ہی مٹی میں مل گئے
ہر اک ستم کے سامنے چٹان ہیں حسینؑ
شہزاد سلطان کیف
……………………….
دو جنتی پھل نے حسنؑ، حسینؑ
سوہنا سونگدا رہے خوشبواے
محمود واسوآنہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *