پلڑے اور ریاست

      No Comments on پلڑے اور ریاست




پلڑے اور ریاست / ذکاءاللہ محسن

ایک دور تھا جب یہ الزام امریکہ پر لگا کرتا تھا کہ امریکہ جس کو چاہتا ہے اسے پاکستان میں اقتدار میں لاتا ہے یہ کچھ جھوٹ بھی نہیں تھا امریکیوں کی رائے کسی حد تک ضرور ہوتی تھی مگر الزام پورے کا پورا امریکہ بہادر پر ہی لگتا تھا پھر آہستہ آہستہ وقت بدلا تو لوگ سرعام کہتے نظر آتے کہ بھائی ہماری ایجنسیاں جس کو چاہیں اسکو اقتدار کی مسند پہ بیٹھا دیتی ہیں”ایجنسیاں” ؟؟؟
اس سوالیہ نشان کے ساتھ کچھ وقت اور گزرا تو ایجنسیوں کا جو ترجمہ کیا جانے لگا تو “اسٹبلیشمنٹ” کا لفظ منظر عام پر آگیا جو خاصہ مشہور ہوا اور سیاستدانوں کے ساتھ لفظ اسٹبلیشمنٹ بھی نتھی ہوگیا بلکل ایسے جیسے چولی دامن کا ساتھ ہو وقت تھوڑا اور تبدیل ہوا تو “خلائی مخلوق” یا پھر سیدھا سیدھا “فوج” کا لفظ سامنے آیا جس کے بعد معاملات جتنے سادہ تھے وہ سادہ نا رہے اسکے ساتھ ہی سیاست کا انداز بدلا رنگ اور ڈھنگ بدلا حتی’ کہ اقتدار کی مسند پر چہرہ بھی تبدیل ہوگیا اور لوگوں کی زبانوں پر سیاستدان اور فوج دونوں کے بارے میں ردعمل آنا شروع ہوگیا اور ایک نظر نا آنے والی ایسی خلیج حائل ہوئی کہ جس نے پاکستان کی تقدیر کو اس دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جس سے آگے راستہ صرف بربادی اور تباہی کا ہے کیونکہ اسکے آگے کوئی ڈھکی چھپی لائن نہیں ہے اسکے آگے تمام لائنیں بند آنکھوں سے بھی دیکھائی دے رہی ہیں کہ ایک بھی لائن مزید عبور کی تو ہم اپنی بربادی کا سامان خود کر بیٹھیں گے یہ سب کچھ یوں بھی خطرناک ہے کہ ایک دور تھا جب سب سے زیادہ برا سیاسی گفتگو کو سمجھا جاتا تھا اور لوگ سیاست پر گفتگو کرنے سے کتراتے تھے مگر آج ایک سروے کے مطابق پاکستان میں اسی فیصد سے زیادہ لوگ سیاست پر اور فوج کے کردار پر بات کرتے پائے جاتے ہیں کم پڑھا لکھا ہو یا زیادہ، ریڑھی بان ہو یا اعلی’ نوکری والا سبھی کا پسندیدہ عنوان سیاست اور فوج ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں اگر اقتدار سویلین کو ملا ہے تو اقتدار پر فوج بھی براجمان رہی ہے جس سے دونوں اطراف کے پلڑوں میں وزن موجود ہے اور یہ ایسا وزن ہے جو کم اور بڑھتا رہتا ہے، میں کچھ چھوٹی چھوٹی مثالیں دیکر واضح کرنا چاہ رہا ہوں کہ پلڑے وزن میں ہیں مگر پلڑوں کو جو درمیان سے پکڑے اور سہارا دئیے ہوئے ہے وہ ریاست ہے اور اسکے عوام ہیں اس لئے ہونا تو یہ چاہئیے کہ دونوں پلڑے ریاست اور اسکی عوام پر اتنا بوجھ ڈالیں جتنا وہ برداشت کرسکے مگر افسوس ایسا ہو نہیں رہا، روزبروز اضافہ ہونے سے عوام پریشان بھی ہے اور ریاست لاچار بھی ہوتی جارہی ہے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر سوچیں کیا ایسا نہیں ہے؟ حقائق لکھنے اور سمجھانے کی شاید مجھ میں سکت نہیں ہے اس لئے اب وقت ہے کچھ چیزوں کو بہتر کر لیا جائے کیونکہ دونوں اطراف سے عوام کے دل جیتنے کی جو ریس لگی ہے اس ریس میں دل جیتے نہیں ٹوٹ ضرور رہے ہیں ملک کی معاشی حالت پتلی ہوتی جا رہی ہے آپس کی نفرتوں کا پرچار اب سرعام ہو رہا ہے اور اسکا فائدہ ہمارے ہمسائے میں بیٹھے دشمن اور دیگر دشمن ممالک کو ہو رہا ہے وہ کب سے اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ یہ ملک اندرونی خلفشار کا شکار ہو تو ہم اس ملک کی جانب بڑھیں کیا ہماری فوج اور سیاستدان ملک کو درپیش تمام تر خطرات سے واقف نہیں ہیں کیا انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ یہ ریاست ہے تو ہم سب ہیں یہ ریاست خدانخواستہ اندرونی معاملات میں الجھ کر رہ گئی تو ہمارا کیا ہوگا مضبوط بنیادوں کی مالک ریاست کے شہیدوں کے لہو اور ان تمام افراد جنہوں نے اس ملک کی خاطر جدوجہد کی ہجرت کی طرح طرح کی تکالیف اٹھائیں اور آئندہ نسلوں کے لئے تابناک مستقبل کی راہ ہموار کی اور خواب سجائے انکی خدمات کا صلہ کیا یوں دیا جائے گا اور جو اس ملک کی خاطر دن رات محنت اور مشقت کرکے اور بیرون ممالک محنت کرکے ریاست کے نظام کو چلانے کے قابل بناتے ہیں ان کو یہ صلہ ملے گا کہ آپس کے انتشار سے ریاست کو کمزور اور نفرت کو پھیلائے جا رہے ہیں آج کا نوجوان جو ملک سے محبت اور کچھ کر گزرنے کی جستجو رکھتا ہے وہ سوچ رہا ہے کہ ملک کو بنے 72 سال گزر گئے ملک کے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے روز نت نئے مسائل سر اٹھائے عوام کی الجھنوں کو بڑھاتے ہیں سیاسی استحکام نا ہونے سے عوام اضطراب میں ہیں سیاسی اور عسکری طاقتوں کو اب بھی عقل کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، ملکی نظام کو بہتر بناو اور خودساختہ جو بحران کھڑے کر رکھے ہیں ان سے ملک کو صاف کرو انا چھوڑ کر سمجھوتہ کر لو اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے وگرنہ ہمارے بڑوں نے ہی کہا تھا، “کیا فائدہ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *