یہ نفرتیں کب تک

      No Comments on یہ نفرتیں کب تک




 

یہ نفرتیں کب تک

تحریر: ذکاء اللہ محسن

میں اور میرے کچھ صحافی دوست بابا گرو نانک دیو جی کے جنم دن کی تقریبات کی کوریج میں مصروف تھے ایک نوجوان ہندو عورت جو کہ بھارت سے آئی ہوئی تھی انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ میں بھی ” پترکار ” ہوں اور میرا نام سندیا جندل ہے اس انڈین مہمان سے ملکر مجھے اچھا لگا۔

سندیا جندل بھارت میں ایک بڑے ٹی وی چینل کی نمائندہ تھی اور اسکی سروے رپورٹس بھی اخبارات میں شائع ہوتی رہتی تھیں میں نے اسے ننکانہ صاحب میں سات گردواروں کی تاریخ سے آگاہ کیا اور بابا گرو نانک کے متعلق دیگر اہم معلومات بتاتا رہا اس دوران اس نے مجھے کہا کہ اتنی معلومات تو شاید انڈیا سے آئے سکھوں کو نا ہوں جتنی آپ رکھتے ہو ہم تین دن مسلسل ساتھ رہے رپورٹنگ اکٹھے کی اور ایک دوسرے کے دیس کی باتوں کا تبادلہ خیال کرتے رہے بابا گرو نانک دیو جی کے جنم دن کے آخری روز سکھ خواتین نے روایتی پنجابی ڈانس کرکے بھی خوب محظوظ کیا سندیا جب ہندوستان کے لئے روانہ ہو رہی تھی تو اسکی آنکھیں آنسووں سے بھری ہوئی تھیں اور وہ انہی نم آنکھوں کے ساتھ بنا کچھ بولے روانہ ہوگئی۔

ابھی چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ بیساکھی کا میلہ آگیا سندیا جندل ایک بار پھر ننکانہ صاحب پہنچی اور مجھے خبر دینے والوں نے خبر دی میں گوردوارہ جنم استھان پہنچا اور سندیا کو اسکے روم میں جاکر سرپرائز دیا اس بار اسکا بیٹا اور میاں جی بھی ہمراہ تھے گرمجوشی سے ایک دوسرے کا استقبال کیا اور ہم ایک بار پھر سے اکٹھے ملکر رپورٹنگ کرنے میں لگ گئے اس بار سندیا واپس جانے لگی تو اس نے کہا ” بھیا ” ایک بات کہوں جتنا پیار آپ ہمیں دیتے ہو اور یہاں کے لوگ ہمارے ساتھ محبت سے پیش آتے ہیں آپ ہندوستان آئیں گے تو ہم کبھی بھی آپ کو نا تو اتنا پیار اور محبت دے سکیں گے اور نا ہی آپکا اتنا خیال رکھ پائیں گے ہم چھ ماہ بعد دوبارہ اسی پیار کو لینے آئے ہیں مجھے خوشی ہوئی کہ ہم اپنے مہمانوں کو عزت دینے میں اور انکو خوش رکھنے میں کامیاب ہوئے میں نے سندیا سے کہا ایسا کیا ہے کہ آپ ہمیں ہندوستان میں پیار نہیں دے پائیں گی تو اس نے کہا ہندو ہونے کے ناطے جب میں بھی پاکستان آئی تو مجھے کئی خدشات تھے انڈین میڈیا نے ہمیشہ ایسی صورت حال بنا کر رکھی ہے جس میں پاکستانی حکومت اور لوگوں کو برا ہی دیکھایا گیا ہے سب کچھ سمجھتے ہوے بھی کچھ چیزیں ذہن پر نقش ہوجاتی ہیں مگر جب پہلی بار پاکستان پہنچی تو وہ سارے خدشات دور ہوگئے ہر جانب سے محبت اور پیار ملا تصویر صاف تھی کہ ہمارے ہاں ایک پروپگنڈہ ہوتا ہے اور آپ پترکاروں کی طرف سے جس طرح سکھوں اور ہندووں کے تمام تہواروں کو کوریج دی جاتی ہے اور لگاتار تین تین روز آپ دن رات محنت کرتے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ اتنا تو آپ اپنی عیدوں پر بھی ایسا نہیں کرتے ہونگے تو میں نے اسے کہا سندیا ہم مسلمانوں کو اللہ کے رسول صلی الله عليه وآلہ وسلم نے مہمانوں کی عزت اور انکی خدمت کرنے کا حکم دیا ہے اور غیر مسلموں پر سختی نہیں بلکہ نرم دلی سے پیش آنے کا درس دیا ہے تو ہم انسانیت کا درس لیکر بڑے ہوتے ہیں یہ سب اسی وجہ سے ہے تو اس نے پھر کہا ہمارے ہاں اب انسانیت نہیں بلکہ ہندو اور مسلمان دیکھا جاتا ہے سکھ اور عیسائی دیکھا جاتا ہے اونچی اور نیچی ذات دیکھی جاتی ہے اور اس میں سارا قصور جہاں ہمارے سیاستدانوں کا ہے وہیں میڈیا نے بھی اسے خوب بڑھاوا دیا ہے جس سے انسانیت دم توڑ چکی ہے اور آئے روز مسلم سکھ عیسائی اور ہندووں کے آپسی ” دنگوں ” سے ملک کمزور اور پرم پرا سے دور ہوتا جا رہا ہے تو میں نے اسے کہا کہ ایسا ہمارے ہاں تو نہیں ہے، ہاں ہمارے ہاں صوبائی گروہ بندی ضرور ہے جس سے کبھی کبھار تعصب کی ہوا ضرور چلتی ہے مگر جب ہم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو ہم پوری قوم ایک ہوتے ہیں تو اس نے کہا تھا اگر صوبائی تعصب ہے تو اسکو ابھی سے روک لو ورنہ ہماری طرح پچھتاو گے۔

میں کئی سال گزر جانے کے باوجود اس بات کو نہیں بھولا مگر جب بھی بلوچستان میں حالات کی خرابی کی خبریں آتی ہیں تو دل ڈر جاتا ہے کہ یہ نفرت کہیں ہمیں اپنی آگ میں جلا کر بھسم نہ کردے، خیبر پختونخواہ کے بیشتر علاقوں میں جنگ زدہ ماحول اور یہاں کے باسیوں کی جانب سے نفرت بھرے پیغام سنتا ہوں تو مزید الجھاو کا شکار ہوجاتا ہوں اور غیروں کی جنگ میں نشانہ بننے والے افراد کا دکھ محسوس کرتے ہوئے سوچتا ہوں کہ یہ آگ نا بجھی تو ہمارے درمیان ایک نفرت ایسی بھڑکے گی جس کو ختم کرنا ہمارے بس میں نا ہوگا اسی طرح گزشتہ چند سالوں کے دوران جس طرح سیاسی میدان میں سیاست دانوں نے نفرت کی جو آگ بھڑکا رکھی یے اور اخلاقی اقدار کا جس طرح سے جنازہ نکال کر قوم کو بانٹ دیا یے اس سے مزید دن بہ دن آگ مزید بڑھک اٹھی ہے جو سب کچھ آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں ہر کسی کو لے کر جا رہی ہے نا نظر آنے والی یہ آگ دلوں میں ایسے ایسے الاو جلا چکی ہے کہ جس دن یہ آگ باہر نکلی تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا قوم کو باٹنے کا سلسلہ پرانا ہے مگر اس میں اب جس قدر شدت آئی ہے اتنی کبھی بھی نا تھی ہمارا میڈیا بھی اس تقسیم میں پوری طرح کردار ادا کر رہا ہے افسوس ہم ایٹمی طاقت بن گئے مگر ایک قوم نہ بن سکے ہمارے ملک کے ذمےداروں کو سمجھنا ہوگا اور ملک کے اندرونی حالات کو سازگار بنانا ہوگا وگرنہ ہم مصیبت کے وقت بھی اکٹھا نہیں ہونگے ہم کھڑے ایک دوسرے کی تکلیف کا تماشہ دیکھیں گے سیاستدانوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کے حالات کو بہتر کرنا شروع کریں تاکہ قوم کو ایک کیا جاسکے اور جو خرابیاں پیدا ہوئی ہیں انکو دور کیا جاسکے تاکہ ایک قوم ہوکر اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *