اسلامی تعاون تنظیم کی کونسل برائے وزرائے خارجہ (سی ایف ایم) کی غیر معمولی میٹنگ




ریاض (وقار نسیم وامق) اسلامی تعاون تنظیم کی کونسل برائے وزرائے خارجہ (سی ایف ایم) کا 16 واں غیر معمولی اجلاس 15 ستمبر 2019 کو او آئی سی سیکرٹریٹ ، جدہ میں ہوا۔ اجلاس او آئی سی نے سعودی عرب کی درخواست پر طلب کیا۔

اس اجلاس کا ایجنڈا اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان پر تبادلہ خیال کرنا تھا کہ انتخابات میں فتح حاصل کرنے کی صورت میں وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں علاقوں کو الحاق کرنے ارادہ رکھتے ھیں۔

وفاقی وزیر تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت، جناب شفقت محمود نے غیر معمولی اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کی. اجلاس کی صدارت سعودی وزیر برائے امور خارجہ, ڈاکٹر ابراہیم بن عبد العزیز العساف نے کی۔

اپنے بیان میں ، شفقت محمود نے کہا اسرائیلی یکطرفہ اعلان ، اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل
کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی خلاف ورزی ، ایک خطرناک رجحان اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا اور خطے کو غیر مستحکم کرے گا۔

انہوں نے او آئی سی ممبران ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فلسطین اور القدس الشریف کے عوام کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور نبھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی ممبران کو انتخابی مہم میں پارٹی نعرے کے طور پر استعمال ہونے والے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اعلانات کی مذمت کرنی چاہئے ، جو خطے میں امن کو خطرہ میں ڈال سکتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ
فلسطین اور کشمیر کے عوام میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں نے سات دہائیوں سے قبضے کی تاریخ شیئر کی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ان کے حق خودارادیت کو پامال کیا جارہا ہے۔ ان دونوں کو اجتماعی سزا ، ریاستی دہشت گردی اور ناقابل بیان مصائب کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
انکے جائز حقوق کی جدوجہد کو دہشتگردی کا نام دے کر اسرائیل اور ہندوستان نے جبر کے ذریعے دنیا کی توجہ ھٹانے کی کوشش کی۔ ان کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو پامال کیا گیا
5اگست 2019 سے کشمیری عوام کو ایک بڑے قید خانہ میں بند کردیا گیا ہے ، ان کے ٹیلیفون اور مواصلات بند کردئے گئے ھیں ، ان کے بچوں کو رات کے وقت گھروں سے اغوا کیا گیا اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، ان کے سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں جیل میں ڈالا گیا.صحت اور زندگی بچانے والی تک انکی رسائ ناممکن بنا دی گئی۔ سری نگر اور ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے دیگر حصوں میں مسلمانوں کو عید الاضحی کی نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا۔

ہم انسانی حقوق کونسل میں او آئی سی ممالک کے تعاون پر ان کے مشکور ہیں۔ ہم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل اور آزاد انسانی حقوق کا کشمیری عوام کے لئے یکجہتی اور حمایت کے مستقل پیغامات پر شکریہ ادا کرتے ہیں ۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو او آئی سی ممالک سے توقعات اور امیدیں ہیں۔ ان کی جدوجہد انصاف پر مبنی ہے۔ ان کے حقوق ، وقار اور جانوں کا تحفظ کرنا ہوگا۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے لئے آپ کی سیاسی اور سفارتی حمایت اور تنازعہ کشمیر کے حل کے منتظر ہیں۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کےاس اصولی موقف کا اعادہ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام لانے کیلئے 1967 میں بین الاقوامی سطح پر متفقہ پیرامیٹرز ، اور القدس الشریف بطور فلسطینی ریاست کے دارالحکومت ، ایک قابل عمل اور آزاد ریاست فلسطین کے قیام کا واحد راستہ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *