ایک شام امن و یکجہتی کے نام




النور انٹر نیشنل امریکہ

اپنی نوعیت کا منفرد سالانہ مشاعرہ2019

بعنوان ایک شام امن و یکجہتی کے نام

ڈیلس ٹیکساس ( خصوصی رپورٹ): امریکہ میں اپنی نوعیت کے منفر د با مقصد اور یادگار مشاعرہ منعقد کرنے والی تہذیب و ثقافت کی نمائندہ تنظیم النور انٹر نیشنل کی جانب سے شاندار عالمی مشاعرہ کا انعقاد ہوا ، یہ مشاعرہ فن الیشیا کے خوبصورت ہال میں منعقد ہوا جہاں دنیائے اُردو سے تعلق رکھنے والے عالمی شعراءکے ساتھ ڈیلس کے میزبان شعراءنے بھی اپنا کلام سنایا۔ بیرونی شعراءمیں بھارت سے لتا حیا، پاکستان سے عبّاس تابش، رحمن فارس، شکیل جاذب، نیویارک سے خالد عرفان پروفیسر حمّاد خان ، ہوسٹسن سے عقیل اشرف نے اپنا کلام سنایا۔اس مشاعرہ میں رومانی، سماجی اورطنز و مزاح سے بھر پورشاعری سے سامعین نے لطف اُٹھایا۔ مشاعرے کی صدارت دنیائے اُردو کی معروف شخصیت شاعر و ادیب اقبال حیدر نے کی جب کہ سرپرسرستی معروف مشاعرہ ادیبہ کمیونٹی میں انتہائی ادب و احترام سے دیکھی جانے والی شخصیت ڈاکٹر شمسہ قریشی صاحبہ نے فرمائی ۔ جبکہ مہمانِ خصوصی معروف کمیونٹی رہنما اظہر عزیر تھے ، ڈیلس میں مقیم ریڈیو، ٹی وی کی خوبصورت شخصیت مسحور کن آواز کی مالک النور انٹر نیشنل کی اہم کارکن شاذیہ خان نے دل آویزانداز میں مشاعرے کو آگے بڑھایا۔ جب کے دوسرے دور کی نظامت ہر دل عزیز شخصیت و شاعرڈاکٹر نور امروہوی نے اپنے منفرد اور دلچسپ انداز میں کی النور انٹر نیشنل کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ محبتوں کی شاعرہ ڈاکٹر شمسہ قریشی صاحبہ کی خدمت پیش کیا گیا ۔ النور انٹر نیشنل کے زیر اہتمام ہونے والے مشاعرے اس اعتبار سے بھی منفر د ہوتے ہیں کہ ان کے انتظام میں حاضرین کی دلچسپی کا خاص طور سے خیال رکھا جاتا ہے ۔ اورنت نئے طریقوں سے شائقین و مہمانان کی دلجوئی کی جاتی ہے ۔
مشاعرہ گاہ میں قدم رکھتے ہی خوشنما مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ہاتھوں میں اُردو ہندی انگلش میں استقبالیہ کلمات کی تختیاں دیکھ کر اپنی تہذیب و ثقافت پر فخر ہوتا ہے اور ڈاکٹر نور و ڈاکٹر شمسہ کی اپنی تہذیب و ثقافت کےلئے یہ خدمات اور کوششیں دیکھ کر بے ساختہ دعائیں نکلتی ہیں ۔ ہر چیزسلیقے اور نفاست سے سجائی جاتی ہے چاروں طرف منتظمین ہرایک کی خدمت کےلئے دستہ بستہ کھڑے رہتے ہیں ۔ خوشبوﺅں ، روشنیوں، رنگینیوں اور دلکش مناظر کو دیکھ کر ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ مشاعرہ رات آٹھ بجے شروع ہو کر تقریبا ڈھائی بجے شب تک چلتا رہااور سامعین محظوظ اور لطف اندوز ہوتے رہے میزبان اور مہمان شعرائے کرام کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کےلئے ہر شاعر کو اُن کی تصویر ایک قیمتی اور دیدہ زیب فریم میں اُن کے ایک شعر کی مصوری کے ساتھ پیش کی گئی جو مشاعروں کی دنیامیں پہلی اور منفرد سوغات تھی ۔ یہی نہیں کچھ ننھے مُنّے انگریزی داں بچوں نے اُردو کے جملے اسٹیج پہ آکے پیش کئے اور سامعین کو چونکا دیا۔ نیویارک لائف انشورنس کے نمائندے اور مشاعرہ کمیٹی کے اہم رکن شوکت محمد صاحب کی طرف سے ان بچوں کو تحائف اور اسناد پیش کی گئیں ۔ اس کے علاوہ حاضرین کی دلچسپی کا باعث ”لکڑی کی توپ“ بھی رہی ( جو خاص طور پراس  مشاعرے کےلئے ڈاکٹر نور امروہوی کے آئیڈئیے کے نتیجے مں تیار کرائی گئی تھی ۔ جس کے ذریعے شعراءاور مہمانوں پہ گلاب کے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں) ۔ یہ منظر اتنا دلفریب تھا کہ سامعین کے ساتھ شعرائے کرام بھی محظوظ ہوتے رہے ۔ بلا شبہ ڈاکٹر نور امروہوی کی ان جدّت طرازیوں نے انفرادیت کی اعلیٰ مثال پیش کر کے مشاعروں کی تاریخ میں ایک کلیدی کردار ادا کیا  ۔

ڈاکٹر نور امروہوی و ڈاکٹر شمسہ قریشی لائق تحسین ہیں کہ امریکہ کا نمائندہ اور دلچسپ مشاعرہ اس مرتبہ بھی وہ منعقد کرنے میں کامیاب رہے جس کا انتظار سال بھر رہتا ہے اور دنیائے اُردو کا ہر بڑا شاعر یہ مشاعرہ پڑھنا اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے ۔ مشاعرہ میں حسب سابق اس سال بھی دیر سے آنے والوں کے لئے نشستیں کم پڑ گئیں اور شائقین مشاعرہ کا جمّ غفیر رہا رات ڈھائی بجے پر تکلف ضیافت پریہ مشاعرہ ختم ہوا۔ النور انٹر نیشنل کا یہ مشاعرہ بھی اپنی کامیابی ، انفرادیت اور ثقافتی اقدار کے حوالے سے مدتوں یاد رکھا جائےگا۔ آخر میں حاضرین نے مشاعرے کے آرگنائزر ڈاکٹر نور امروہوی و ڈاکٹر شمسہ قریشی کو مبارکباد پیش کی جن کی شبانہ روز محنت سے مشاعروں اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے امریکہ میں اُردو کی خدمت کا چراغ روشن ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *