رپورٹ: متحدہ عرب امارات میں رواداری کے سال کو مقامی و بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے




رپورٹ: متحدہ عرب امارات میں رواداری کے سال کو مقامی و بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے

ابوظہبی، یکم اگست، 2019(وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات میں سال رواداری نے مقامی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر اہمیت حاصل کی ہے، جس کی وجہ ان اقدامات کا شروع کیا جانا ہے جن کا مقصد متعلقہ عالمی اداروں کے تعاون سے دنیا بھر میں رواداری کے فروغ کے لئے ملک کی طویل المدت کوششوں کی مدد کرنا ہے.

اس رپورٹ میں ، امارات خبرایجنسی ، وام، نے جولائی میں رواداری کو تقویت دینے میں متحدہ عرب امارات کی اہم مقامی اور عالمی کامیابیوں پر روشنی ڈالی ہے.

مقامی طور پر ، سرکاری ، نجی اور میڈیا تنظیموں نے دوہزار انیس کی پہلی ششماہی میں مشترکہ طور پر چودہ سو سے زائد اقدامات پر عمل درآمد کیا ہے ، جو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کی اقدار کو تقویت دینے اور ثقافتی اجتماعیت کی حمایت کے لئے ملکی ہدایات کے حصول کے لئے ان کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے.

سپریم نیشنل رواداری کمیٹی کے مطابق’معاشرے میں رواداری‘ کے ستون کے حوالے سے ا قدامات کی تعداد سب سے زیادہ چھ سوستاسی رہی ،جبکہ ’تعلیم میں رواداری‘ کے اقدامات کی تعداد چار سوپینسٹھ رہی۔ سال رواداری کے پہلے نصف میں سفارتی مشننز کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعداد پینتالیس سے زیادہ رہی.

کمیونٹی میں رواداری اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا.

رواداری ، پرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب مکالمہ کو فروغ دینا پوری برادری کی شمولیت کے ساتھ صحت مند معاشرتی اور ثقافتی ماحول پیدا کرنے کی کلید ہے ، جو ملک کے سرکاری ایجنڈے کا بھی ایک مرکزی مقصد ہے.

اس فریم ورک کے تحت ، رواداری کو ایک پائیدار سماجی ماحول میں شامل کرنا متعدد تعلیمی اور ثقافتی اداروں کی ایک بڑی ترجیح ہے۔ لہذا ، وزارت تعلیم نے آئندہ تعلیمی سال کے لئے انسانی بھائی چارے کی دستاویز کے بارے میں اسکول کے طلباکو آگاہی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے .

مسلم علما کونسل نے انگریزی اور عربی میں ایک کتاب شائع کی ، جس میں ’عالمی انسانی بھائی چارہ کانفرنس‘ کی دستاویز دی گئی ہے ، جو فروری دوہزار انیس میں منعقد ہوئی اور اس میں تقریبا سولہ مذاہب اور عقائد کے نمائندہ سات سو سے زائد مذہبی رہنماوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ فرانسس کے متحدہ عرب امارات کے تاریخی دورہ کے موقع پر ہوئی ، جہاں انہوں نے مسجد الازہر کے امام اکبر فضیلت مآب ڈاکٹر احمد الطیب سے ملاقات کی.

بین المذاہب مکالمہ کو تقویت دینے کے لئے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرنا.

متحدہ عرب امارات اپنی بین الاقوامی اہمیت کو تقویت دینے کے لئے میسر سیاسی اور سفارتی ذرائع استعمال کرنے کا خواہاں ہے ، اوراس نے ایک مضبوط اور پائیدار بین المذاہب اتحاد کے قیام کے لئے اپنی کوششوں کومہمیز بخشی ہے۔ اس نے جولائی میں واشنگٹن میں منعقدہ “عقیدہ اور مذہبی فرقوں کے رہنماوں کے وزراتی اجلاس” میں بھی حصہ لیا ، جس کا اہتمام امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں مذہبی آزادیوں کو یقینی بنانے کے لئے کیا تھا.

وزارتی اجلاس کے دوران ، مسلم معاشروں میں فروغ امن کے فورم اورخاندان ابراہیم کے افراد نے ایک نیا چارٹر بنانے پر تبادلہ خیال کیا ، جو دسمبر میں ابوظہبی میں جاری کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات ، امریکہ اور متعدد دیگر ممالک نے سات سٹیٹمنٹس پر دستخط کیے ، جن میں ٹیکنالوجیز کا استعمال اور مذہبی آزادی ، عبادت گاہوں کی حفاظت ، مذاہب اور عقائد کا احترام ، مذاہب کا غلط استعمال اور دہشت گرد گروہوں جیسی غیر سرکاری اتھارٹیز اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا شامل ہیں.

فروری میں متحدہ عرب امارات کے پوپ فرانسس کے دورے سے متعلق” سفر امن” کے عنوان سے ایک نئی دستاویزی فلم بھی وزارتی اجلاس کے موقع پر دکھائی گئی.

مذہبی اجتماعیت کو فروغ دینے میں متحدہ عرب امارات کے کردار کی بین الاقوامی تعریف مذہبی اجتماعیت کو فروغ دینے میں متحدہ عرب امارات کے قائدانہ کردار کے اعتراف میں ، تہذیبوں کے اتحاد کے لئے اقوام متحدہ کے نمائندہ ، میوگیئل اینجل موراتینوس نے مذہبی اجتماعیت کے تحفظ ا ورتائید کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لئے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ۔ یہ دورہ اقوام متحدہ کے دنیا بھر میں مذہبی مقامات کے تحفظ کے منصوبے کا مسودہ تیار کرنے کے سلسلے میں کیا گیا ، جو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو پیش کیا جائے گا.

متحدہ عرب امارات کی ثقافتی اجتماعیت کے تحفظ کی حکمت عملی حال ہی میں جاری کردہ منصوبوں پر مبنی ہے ، جس کا مقصد مذاہب کی توہین کو جرم قرار دے کر مذہبی مراکز کی حفاظت ، عبادت گاہوں کی تعمیر اور مختلف مذاہب کی حفاظت کرنا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *