سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے سفارت خانہ پاکستان میں پرچم کشائی کی پروقار تقریب




ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے سفارت خانہ پاکستان میں پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں سینکڑوں کی تعداد میں پاکستانی کیمونٹی کے مرد و خواتین اور بچوں کے علاوہ سفارتی عملے سمیت تینوں مسلح افواج کے دستوں نے بھی شرکت کی کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے قائم مقام سفیر ڈاکٹر بلال احمد کے ہمراہ کشمیری بھائیوں الیاس رحیم، محبوب رحمان اور مدثر فاروق نے مل  کر فضا میں سبز ہلالی پرچم سربلند کیا جس پر سینکڑوں افراد نے پاکستان زندہ باد،  پاک فوج زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کے پر شگاف نعرے بلند کیے۔

8

سفارت خانہ پاکستان کے چانسری ہال میں منعقدہ تقریب میں قائم مقام سفیر ڈاکٹر بلال احمد نے کہا کہ ہم ایک عظیم قوم ہیں اور ہمارے سامنے ترقی کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں پاکستان نے تمام تر چیلنجزز کے باوجود خود کو دنیا کے شانہ بشانہ رکھا ہے اور اپنی آزادی کے 72 سالوں میں بہت ترقی کی ہے جبکہ ہمیں مزید آگے بڑھ کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونا ہے پاکستانی قوم باصلاحیت قوم ہے اس نے اپنے آپکو پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر منوایا ہے۔

کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ڈاکٹر بلال احمد کا کہنا تھا کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے بھارت گزشتہ 72 سالوں سے کشمیر کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور کشمیریوں کی نسل کشی کرکے بندوق کی نوک پر کشمیریوں کی حمایت چاہتا ہے مگر ہم شہدا کشمیر کو سلام پیش کرتے ہیں جنھوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر کشمیر کی جدوجہد آزادی کو جاری رکھا ہوا ہے آزادی کشمیریوں کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے لئے پاکستان انکی سیاسی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا آج کشمیر بدترین کرفیو کی زد میں ہے جہاں بھارتی قابض فوج کشمیریوں کو محصور رکھے ہوئے ہے اور بھارتی سرکار مودی کی قیادت میں ایک آرٹیکل کے ذریعے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنا چاہ رہی ہے مگر بھارت کی یہ بھول ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارت کشمیر پر قابض ہوجائے گا۔

تقریب میں ہیڈ آف چانسری عمر منظور ملک اور فرسٹ سیکرٹری سیف اللہ خان نے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کے پیغامات پڑھ کر سنائے، اس موقع پر کشمیری مقررین نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *