کشمیر – پیشگی مذمت




کشمیر – پیشگی مذمت

(ذکاءاللہ محسن)

خود کو کئی بار کشمیر کی آواز بنانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا مقبوضہ وادی میں کشمیری بہنوں کو بلند آواز میں آزادی کے نعرے لگاتے دیکھا تو جسم میں انکی آواز نے ایک لمحے کے لئے خون کو جوش مارنے پر مجبور ضرور کیا کشمیر کے بیٹوں کو سینے پہ گولی کھائے کفن کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپٹے دیکھا تو اپنا وجود حقیر محسوس ہونے لگا بوڑھے افراد کو چھڑی سے بھارتی فوج کو للکارتے دیکھا تو اپنی ہمت پہ ناز کرنا چھوڑ دیا میں بچہ تھا تو تبھی سے آزادی کشمیر کا درد محسوس کرتا ہوا جوان ہوا تو قلم کی طاقت سے کشمیری قوم کا درد باٹنا چاہا مگر سچی بات ہے قلم کی سیاہی سے کہیں زیادہ وہ خون تھا کہ جو جنت نظیر وادی میں بہہ چکا تھا دیار غیر میں آ بسا تو کبھی پاکستانی ایمبیسی میں آزادی کشمیر کی تقریب میں جا بیٹھا جہاں آزادی کی آوازیں ایمبیسی کے درودیوار سے ٹکرا کر دوبارہ ہماری ہی سماعتوں میں سما گئیں کچھ دیر کے لئے خود کو کئی بار اس ماں کا بیٹا بن کر وہ درد محسوس کرنا چاہا جس کا بیٹا بھارتی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن گیا اس بیٹی اور اس بہن کی عزت کو سوچ کر غیرت جاگی تو ضرور مگر کسی کام کی نا تھی مقبوضہ وادی میں میر واعظ عمر فاروق ، یسین ملک ،علی گیلانی ، آسیہ اندرابی اور دیگر رہنماوں کی جرات اور ہمت کو جانچنا چاہا تو اتنا احساس ہوا کہ میں چاہتے ہوئے بھی ان جیسا کبھی نہیں بن سکتا میں یقینا اس کشمیری جیسا نہیں بن سکتا جو روز آگ اور بارود کی بدبو میں سوتا ہے جو روز قبرستان میں اپنے کندھوں پر جوان لاشے اٹھا کر جاتا ہے میں کیسے اس جیسا بن سکتا ہوں کہ اتنے جوانوں کی لاشیں اٹھا کر بھی اسکی کمر نہیں جھکی اور وہ آزادی کا جام پینے کی خواہش میں دیوانہ وار قربانیاں دئیے جا رہا ہے مقبوضہ وادی کے دس ہزار سے زائد قبرستان مجھے چند آنسو بہانے پر مجبور تو کرتے ہیں کہ اس میں کئی نسلیں جن کو کشمیر کا مستقبل بننا تھا وہ منوں مٹی تلے سو رہے ہیں میں دیکھتا ہوں کہ کشمیر کا نگر نگر چپہ چپہ اور ہر مقام خون آلودہ ہے ظلم کی ایسی ایسی بھیانک داستانیں رقم ہو چکی ہیں کہ مہذب معاشرے کا کوئی فرد ان کو سن نا سکے ان تصویروں کو دیکھ نا سکے جس میں پیلٹ گن کے ذریعے کشمیری بچوں کے چہروں کو مسخ کر دیا گیا ہو ان کو بینائی سے محروم کر دیا گیا ہو ان کے جسم کے دیگر اعضاء ناکارہ نا ہو چکے ہوں ایسی درندگی کو بھلا کیا کوئی نہیں جانتا اقوام متحدہ ‘ او آئی سی ‘ یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیری عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستانوں کو قراردادیں بنا بنا کر دنیا بھر کو پیش یر چکی ہیں مگر مجال ہے کسی کے کانوں پر جوں بھی ریگنتی ہو مجال ہے کہ کوئی لب کشائی کرتا ہو امریکہ جیسا سپر پاور ملک بھی محض ثالثی کی پیشکش کرتا تھ اور سمجھتا ہے کہ اس نے اپنا فرض پورا کر لیا اسی طرح ہمارے سیاستدان ایک یا دو لائنوں کا مذمتی بیان دیکر سمجھتے ہیں کہ آزادی کی جنگ میں ہمارا بھی حصہ ڈل گیا ہے پھر جب یہ سب کچھ میں دیکھتا ہوں کہ ظلم و ستم دیکھنے کے باوجود سپر طاقت چپ ہے اسکے اتحادی چپ ہیں ہمارے سیاست دان چپ ہیں اتنا خیال آتا ہے کشمیری نوجوانوں ‘ بہنوں، بیٹیوں اور میرے بزرگو مجھے معاف کر دینا میں کچھ نہیں کر پایا میں تمہارا درد نہیں بانٹ پایا آج علی گیلانی نے امت مسلمہ کو آواز دی ہے دیکھنا ہے کون آتا ہے کون ہاتھ آگے بڑھاتا ہے کون داد رسی کرتا ہے کون زخموں پر مرہم لگاتا ہے امت میں سے کون ہوگا جو کشمیر کے بزرگ کی آواز پر کان دھرے گا اور جواب دے گا علی گیلانی نے سہی کہا ہے کہ اگر ان سمیت دیگر حریت لیڈران کے ساتھ کچھ ہوا تو اسکے ذمےدار امت مسلمہ ہی ہوگی اور افسوس امت مسلمہ ماسوائے اپنی روایتی مذمت کرنے کے سوا کچھ نا کر پائے گی علی گیلانی صاحب ہم میں وہ گفتار نہیں رہی ہم معاشی بدحالی کا شکار ہیں ہمارے ملک میں سیاسی مقبوضہ کشمیر برپا ہے ہم نے آپکی جانب توجہ کیا دینی ہے ہم تو اپنی جانب توجہ دینے کے قابل نہیں ہیں آپ ہمیشہ کہتے ہیں پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ تو اسی رشتے کی وجہ سے مجھے معاف کر دیجئیے گا کیونکہ میں بھی صرف مذمت کرنے والوں میں سے ہونگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *