نئی امریکی پالیسی / ذکاءاللہ محسن




نئی امریکی پالیسی / ذکاءاللہ محسن

امریکہ بہادر سے ہم نے کیا لینا ہے اور کیا دینا ہے یہ اندر کھاتے کی باتیں ہمیشہ اندر کھاتے ہی رہی ہیں اور سپر طاقت کبھی ہم سے ناراض اور کبھی اپنا مطلب پورا ہونے پر ” ہلکا ” سا خوش نظر آتا ہے مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکہ دی یاری ہمیں بہت مہنگی پڑتی آئی ہے مگر امریکی مفادات کے آگے ہمارے مفادات کی نا پہلے کوئی قدر تھی اور نا ہی آج کوئی قدر ہے امریکی مفادات کو پورا کرنے کے لئے ویسے تو ہمارے لئے امریکہ بہادر ہی کافی ہے البتہ اسکا بنایا گیا مختلف ممالک کا بلاک بھی اہم کردار ادا کرتا ہے جن کے ذریعے پاکستان پر دباو بڑھتا اور کم ہوتا رہتا ہے گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے امریکہ کے ” ڈو مور ” کو ذرا کم کرکے اپنا وزن ہمسایہ ملک اور دنیا کی ابھرتی ہوئی سپر طاقت چین کے پلڑے میں ڈالا گیا اور ساتھ ہی روس کے ساتھ دوستی کی نئی شروعات کی گئی جس سے امریکی مفادات کو محسوس ہوا کہ پاکستان ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے اور انہوں نے پاکستان کی امداد بند کرکے پاکستان کو سبق سکھانے کی ٹھام لی اور پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کرنے کی کوشش کی اور اس میں کسی حد تک امریکہ کامیاب بھی ہوا اور مزید دباو ڈال کر پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع ہوگیا جس پر بھارت نے بھی خوب بغلیں بجانا شروع کردیں اور اسی موقعہ کا فاہدہ اٹھاتے ہوئے اس نے پاکستان سے جنگ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور سرحدی حالات کشیدہ صورتحال اختیار کر گئے گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ افغانستان میں پھنس کر رہ گیا ہے وہ جتنا فوجی مداخلت سے حالات قابوکرنے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی نقصان اٹھاتا ہے اسی لئے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں مثبت پیش رفت کی صورت میں امریکہ کی بند آنکھیں بھی کھلیں اور وہ دوبارہ پاکستان کہ جانب متوجہ ہوا اور امریکہ کو سانس لینے میں بہتری محسوس ہوئی بہرحال وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف کا دورہ کن حوالوں سے فاہدہ مند رہا یہ بحث خاصی طویل ہے مگر مسلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کا بطور ثالث کے کردار ادا کرنے کا بیان ” لولی پاپ ” سے کم نہیں ہے امریکہ سمیت پوری دنیا جانتی ہے کہ کشمیر پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسلہ ہے پاکستانی عوام کے نزدیک کشمیر اور کشمیری عوام نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے ہیں بس امریکہ اسی پہلو کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے دل میں نرم گوشہ حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے مفادات کو آسانی کے ساتھ حاصل کرسکے ہم امریکہ کے ہاتھوں بار بار استعمال ہوتے آئے ہیں اور مزید ہونے کے لئے تیاری پکڑ رہے ہیں




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *