کرکٹ کے تین بڑے کھلاڑی جن کا کوئی توڑ نہیں 




کرکٹ کے تین بڑے کھلاڑی جن کا کوئی توڑ نہیں

خصوصی رپورٹ

کھیلوں کی دنیا میں کرکٹ کو مشکل ترین کھیل سمجھا جاتاہے، جس میں کھلاڑی کے اعصاب کا بھی امتحان ہوتا ہے اور تکنیکی اعتبار سے کئی پہلو بھی اہم ہوتے ہیں۔ گزشتہ کچھ دہائیوں سے اس کھیل میں جدت کےنئے رنگ شامل ہوتے رہے ہیں لیکن کچھ رنگ ایسے ہیں جن کو وقت کی دھول بھی ماند نہیں کر سکی۔ کرکٹ کی عمر کا جائزہ لیں، تو یہ 142 برس بنتے ہیں اور ہرنسل آنے والی نسل میں اس کھیل کی محبت منتقل کرتی چلی آرہی ہے ۔ آئیے اس طویل عمر کھیل کے حوالے سے آپ کو تین ایسے کھلاڑیوں سے ملواتے ہیں، جن کا کوئی جوڑ نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی توڑ ہے ،انہوں نے کر کٹ میں ایسے کارہائے انجام دئیے ہیں کہ رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔

1۔ سر ویوین رچرڈز (ویسٹ انڈیز)۔

ویوین رچرڈز جب بھی کریز پر آتے تھے، گھروں میں بیٹھے شائقین سب کام چھوڑ چھاڑ کر انہیں دیکھنے کے لیے پورے انہماک سے ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ جاتا تھا، ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے مداحین سے اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرے ہوتے تھے۔ سرویوین رچرڈز کا میدان میں اترنے کا سٹائل دیگر کھلاڑیوں سے مختلف ہوا کرتا تھا۔ وہ بڑی متانت سے چلتے ہوئے کریز پر آتے، راستے میں اپنے بازوں کو گھماتے اور کریز پر رک کر سب سے پہلے اپنی میرون ٹوپی درست کرتے، بلے پر اپنی گرفت کا جائزہ لیتے اور پھر نظریں گیند پر گاڑھ لیتے اور رنز کا ڈھیر لگا دیتے۔ رچرڈز نے 70 کی دہائی میں تیز ترین کرکٹ کو فروغ دیا۔ وہ ہر طرح کا شارٹ کھیلتے اور انہں نے کبھی بھی ہلمٹ کا استعمال نہیں کیا تھا۔ رچرڈز غالباً وہ واحد بلے باز تھے، جس پر کوئی بھی باؤلرپھبتی نہیں کستا تھا، ورنہ کرکٹ میں خود کلامی سے مخالفین کی تضحیک کرنا عام سی بات ہے۔ رچرڈز نے 50.23 کی اوسط سے 8540 ٹیسٹ رنز بنائے۔ یہ وہ دور تھا، جب کوئی بھی کھلاڑی رنز بناتے ہوئے تیسرے ہندسے میں مشکل سے ہی داخل ہوتا تھا۔ رچرڈز نے محض 56 گیندوں پر ٹیسٹ سنچری بنائی تھی۔ رچرڈز اگر آج کے دور میں ہوتے تو یقینا بہت سے فرنچائزرز ان کے لیے بلینک چیک لکھتے۔ ویوین چرڈز کو جو تکریم  ملی  وہ کسی اور کے نصیب میں نہیں لکھی گئی۔

2۔ شین وارن (آسٹریلیا)۔

سپن باؤلنگ ایک آرٹ ہے اور اس کے آرٹسٹ کا عام مل جانا نا ممکن ہے۔ بہت سے ممالک کے کئی سپن باؤلرز نے بہت نام کمایا ہے، لیکن جو عزت آسٹریلیا کے شین وارن کے نام لکھی گئی، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسے سپن باؤلنگ کا جادوگر لکھا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ وہ جب گیند پھینکتے تو ان کے ہم عصر بس دیکھتے رہ جاتے۔ وہ نہایت ہی ذہین باؤلر تھے،  وہ اپنی منصوبہ بندی میں اس قدر سخت گیر واقع تھے کہ حریف بلے باز اس سے پناہ مانگتے تھے۔ شین وارن کے حصے میں 1993ء میں صدی کی بہترین گیند پھینکنے کا اعزاز بھی آیا۔ یہ گیند جس تیزی سے گھومتی ہوئی مائیک گیٹنک کو بیٹ کر گئی، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ شین وارن کے سامنے کئی مرتبہ رچی رچرڈسن اور اینڈریو سٹراس بھی بے بس دکھائی دیا کرتے تھے۔ شین وارن نے 708 ٹیسٹ وکٹیں لے کر ریکارڈ بنایا ہے۔ اس طرح کے کرکٹرز صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

3۔ جونٹی رہوڈز (جنوبی افریقہ)۔

اگر کسی نے حقیقی زندگی میں سپر مین نہیں دیکھا، تو اسے چاہیے کہ وہ جونٹی رہوڈز کو دیکھ لے، جس نے فیلڈنگ میں ایسا نام کمایا کہ لوگ اس کی کاپی کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ وہ ایک دہائی پہلے کرکٹ کے میدانوں میں دکھائی دیتے تھے، جہاں ہوا میں اڑنا اور لمبی چھلانگیں لگانا ان کا مرغوب مشغلہ ہوتا تھا۔ وہ واحد کھلاڑی ہیں، جنہیں کئی مرتبہ محض فیلڈنگ کی وجہ سے مین آف دی میچ ایوارڈ دیا گیا۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بارہویں کھلاڑی کی حیثیت سے فیلڈنگ کرنے آئے اور مین آف دی میچ ایوارڈ لے اُڑے۔ وہ اچھے مڈل آرڈر بلے باز بھی تھے۔ انہوں نے ٹیسٹ اور ون ڈے میچز میں 8000 سے زائد رنز بنائے ہیں۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *