آوے کا آوا ہی بگڑا ہے




تحریر ذکاءاللہ محسن

وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ اور خاتون اول محترمہ بشری بیگم کو لیکر ان کے حالیہ دورہ سعودی عرب میں ان کے سابق شوہر خاور مانیکا کے ہمراہ ہونے کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی جو کہ اپنے آپ میں ایک بدتمیزی اور اخلاقیات سے گری ہوئی حرکت ہے تصویر میں جو شخص وزیراعظم عمران خان اور بشری بیگم کے پیچھے چلتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے ان کا نام ” شہر یار اکبر خان ہے جو کہ جدہ قونصل خانے میں بطور قونصل جنرل تعینات ہیں جو کہ اپنے فرائض منصبی کے حوالے سے وفد کے ہمراہ وزیراعظم کے ساتھ رہے مگر کیا کہنے سوشل میڈیا کے جہاں ایک بدتمیز ذہین کی تخلیق نے یہ تصویر کیا شئیر کی سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہوگیا طرح طرح کے کمنٹ اور ناجانے کیسی کیسی نازیبا الفاظ کے ساتھ سوشل میڈیا بھر گیا چند لمحوں میں سماجی رابطے کی تمام ویب سائٹ اور دنیا بھر میں واٹس اپ گروپس میں ایسے پکچر وائرل ہوئی کہ انسان کس کس کو روکے اور کس کس کو وضاحت بیان کرتا پھیرے کیونکہ یہ ناممکن تھا اس لئے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا اور جہاں بس چلا وہاں حقیقت سے آشکار بھی کیا مگر مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب مختلف ٹی وی چینلز کی جانب سے مجھے اس تصویر کے حوالے سے خبر کنفرم کرنے کو کہا گیا تو میرے لئے ماسوائے افسوس کرنے کے اور کوئی چارہ نا تھا بس فرداً فرداً سب کو سمجھاتا رہا اور حقیقت ثبوت کے ساتھ بیان کرتا رہا یہ الگ بات ہے کہ قونصل جنرل شہر یار اکبر خان کی صحافی برادری سے آج تک نہیں بنی بلکے ان کا رویہ کبھی کسی کے ساتھ دوستانہ نہیں رہا وہ ” بابو ” ٹائپ آدمی ہیں اور اپنے مخصوص مزاج کے ساتھ اپنے فرائض منصبی نبھا رہے ہیں مگر یہ بھی کسی صورت درست عمل نہیں ہے کہ بشری بی بی اور قونصل جنرل شہر یار اکبر خان کو اس طرح دنیا بھر میں رسوا اور بدنام کیا جائے اس حوالے سے پی ٹی آئی کے کسی مخالف سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ ہمارے لیڈر نواز شریف کی مرحومہ بیوی بیگم کلثوم نواز کے حوالے سے کیا کیا دشنام طرازی نہیں کی گئی مریم نواز کے بارے میں کس قدر نازیبا الفاظ پی ٹی ائی کے سوشل میڈیا اکاونٹ سے جاری کیے گئے اور کیسی گھٹیا گھٹیا پوسٹ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں ان کے اس طرح کے سوالات کے جواب میں یہ کہنا بھی بے کار سا لگا کہ ان کو کہا جائے کہ ان میں اور آپ میں تو کوئی فرق نہیں کیونکہ حقیقت تو یہی ہے کہ دونوں سائیڈیں ایک جیسی ہیں بلکے پیپلز پارٹی سمیت تینوں کے سوشل میڈیا سیل دن رات طوفان بدتمیزی برپا کیے ہوئے ہیں ان میں سے ہر ایک بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کی تذلیل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جھوٹ پر مبنی افواہیں اور ناقابل برداشت اور اخلاق سے گری ہوئی پوسٹیں عدم برداشت کو فروغ دینے میں نا صرف معاون ثابت ہو رہی ہیں بلکے کئی ایک واٹس اہ گروپ ایسے ہیں جہاں ان پوسٹوں کو لیکر لوگوں کو ایک دوسرے کو گالی گلوچ کرتے بھی دیکھا ہے یہی نہیں بلکے ایک دوسرے کو دھمکیاں تک بھی دے دی جاتی ہیں یہی نہیں کچھ نام نہاد اینکرز بننے کے لئے کوشاں رہنے والے افراد بھی کوئی موقعہ اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جو اپنا پورا پورا حق سمجھتے ہیں کہ جب تک وہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر ” اپنی رائے ” اور ” مخالف ” کو گندہ نہیں کر لیں گے انہیں نا تو سکون میسر آئے گا اور ناہی انہیں کھانا ہضم ہو پائے گا انسان حیرت میں اس وقت بھی پڑ جاتا ہے جب پڑھے لکھے اور باشعور افراد بھی سوشل میڈیا پر ایسے ہی پروپگنڈے کا شکار نظر آتے ہیں تو پھر سوچ یہی آتی ہے کہ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *